logo logo
AI Search

میوزک کے بغیر گانے یا قوالی پڑھنا سننا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میوزک کے بغیر گانے یا قوالی کے اشعار پڑھنے سننے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر قوالی یا گانے ایسے ہوں جن میں کوئی کفریہ بات نہ ہو اور اس میں میوزک بھی نہ ہو تو کیا اسے سننے سے بھی گناہ ملے گا ؟ نیز بغیر میوزک والے گانے اپنی ویڈیوز پر لگانا کیسا ؟

جواب

عام طور پر گانے کے اشعار عشقِ مجازی، فسق و فجور اور دیگر غیر شرعی مضامین پر مشتمل ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات ان میں کفریہ کلمات بھی شامل ہو تے ہیں۔ عام آدمی کے لیے یہ جاننا آسان نہیں ہوتا، کہ گانے میں کفریہ، یا ناجائز مضمون موجود ہے یا نہیں، اس کا صحیح فیصلہ اہلِ علم ہی کر سکتے ہیں۔ پھر گانے عورتوں کی خوش آوازی میں بھی ہوتے ہیں جس کا سننا مَردوں کیلئے جائز نہیں۔ اگر بالفرض گانے کے اشعار ان تمام شرعی خرابیوں سے خالی بھی ہوں، تب بھی اُنہیں لہو و لعب (فضول مشغلے) کے طور پر پڑھنا اور سننا شرعاً ممنوع ہے، اس کی اجازت نہیں۔ البتہ دو صورتیں واضح طور پر جواز کی ہیں، ایک یہ کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو سنائیں اور دوسرا یہ کہ پاکیزہ دل والے، اہل معرفت ایسے اشعار پڑھیں یا سنیں۔

بہرحال دین و دنیا کی بھلائی اسی میں ہے کہ بغیر میوزک کے بھی گانے کے اشعار پڑھنے، سننے اور اپنی ویڈیوز پر لگانے سے مکمل طور پر بچا جائے۔ اگر کچھ پڑھنا سننا ہی ہو تو حمدِ باری تعالیٰ، نعتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی منقبت کے اشعار پڑھے اور سنے جائیں، کیونکہ یہ اشعار دلوں کو غفلت سے نکال کر یادِ الٰہی کی طرف متوجہ کرتے، دل میں خوفِ خدا عزوجل، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور نیکی و تقویٰ کا جذبہ بیدار کرتے ہیں۔ حمد و نعت کے اشعار سن کر اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب بندوں کی محبت اور نیکی کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہےاور یہ سب چیزیں انسان کی دین و دنیا اور روحانی کیفیت کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہیں۔

جہاں تک قوالی کی بات ہے، تو آج کل بہت سی قوالیوں میں بھی ایسے اشعار ہوتے ہیں جن میں شرعی خرابیاں موجود ہوتی ہیں، لہذا عمومی طور پر اس سے بچنا ہی مناسب ہے۔ ہاں اگر کوئی معتبر صحیح العقیدہ سنی مفتی صاحب کسی مخصوص قوالی کے اشعار کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد اس کے اشعار کو درست قرار دیں تو اس مخصوص صورت میں ان کی رہنمائی کے مطابق عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن عام طور پر بغیر تصدیق کے رائج قوالیوں سے اجتناب ہی تقویٰ اور احتیاط کا تقاضا ہے۔ پھر قوالی میں ساز باجے نہ ہونا بھی ضروری ہے۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: ”قال في تبيين المحارم: واعلم أن ما كان حراما من الشعر ما فيه فحش أو هجو مسلم أو كذب على اللہ تعالى أو رسوله صلى اللہ عليه وسلم أو على الصحابة أو تزكية النفس أو الكذب أو التفاخر المذموم، أو القدح في الأنساب، وكذا ما فيه وصف أمرد أو امرأة بعينها إذا كانا حيين، فإنه لا يجوز وصف امرأة معينة حية ولا وصف أمرد معين حي حسن الوجه بين يدي الرجال ولا في نفسه“ ترجمہ: تبیین المحارم میں فرمایا: جان لو کہ وہ شعر حرام ہے جس میں فحش کلامی ہو، یا کسی مسلمان کی برائی بیان کرنا ہو، یا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام پر جھوٹ بولا گیا ہو، یا اپنی تعریف (خود ستائی) ہو، یا جھوٹ ہو، یا مذموم فخر ہو، یا نسبوں میں عیب لگانا ہو۔ اسی طرح وہ شعر بھی حرام ہے جس میں کسی امرد (بے ریش خوبصورت لڑکے) یا کسی مخصوص عورت کا وصف بیان کیا جائے جبکہ وہ دونوں زندہ ہوں، کیونکہ کسی معین زندہ عورت کا وصف بیان کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی کسی معین خوبصورت لڑکے کا مردوں کے سامنے یا تنہائی میں وصف بیان کرنا جائز ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 578، دارالمعرفۃ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’سماع مجرد بے مزامیر، اس کی چند صورتیں ہیں: اول: (پیشہ ور گلوکارائیں) اور محل فتنہ امردوں (خوبصورت لڑکوں) کا گانا۔ دوم: جو چیز گائی جائے معصیت پر مشتمل ہو، مثلا فحش یا کذب یا کسی مسلمان یا ذمی کی ہجو یا شراب و زنا وغیرہ فسقیات کی ترغیب یا کسی زندہ عورت خواہ امرد کی بالیقین تعریف حسن یا کسی معین عورت کا اگرچہ مردہ ہو ایسا ذکر جس سے اس کے اقارب احبا کو حیا و عار آئے۔ سوم: بطور لہو و لعب سنا جائے اگرچہ اس میں کوئی ذکر مذموم نہ ہو۔ تینوں صورتیں ممنوع ہیں، الاخیرتان ذاتا والاولی ذریعۃ حقیقۃ (آخری دو اپنی ذات کے اعتبار سے ہیں، اور پہلی صورت کسی خرابی تک پہنچنے کا حقیقی ذریعہ ہے) ایسا ہی گانا لہو الحدیث ہے، اس کی تحریم میں اور کچھ نہ ہو تو صرف حدیث: کل لعب ابن اٰدم حرام الا ثلثۃ (ابن آدم کا ہر کھیل حرام ہے سوائے تین کھیلوں کے۔) کافی ہے۔ ان کے علاوہ وہ گانا جس میں نہ مزامیر ہوں نہ گانے والے محل فتنہ، نہ لہو ولعب مقصود، نہ کوئی ناجائز کلام گائیں، بلکہ سادے عاشقانہ گیت، غزلیں، ذکرِ باغ و بہار و خط و خال و رخ و زلف و حسن و عشق و ہجر و وصل و وفائے عشاق و جفائے معشوق وغیرہا امورِ عشق و تغزل پر مشتمل سنے جائیں، تو فساق و فجار و اہلِ شہواتِ دنیہ کو اس سے بھی روکا جائے گا، وذلک من باب الاحتیاط القاطع ونصح الناصح وسد الذرائع المخصوص بہ ھذا الشرع البارع والدین الفارغ (یہ رکاوٹ یقینی احتیاط کے باب سے ہے اس میں خیر خواہ کی خیرخواہی اور ذرائع کی روک تھام موجود ہے جو اس یکتا وفائق شریعت اور خوبصورت دین سے مخصوص ہے۔ ت)‘‘ ملخصاً (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 83، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ کے ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ”شعر کی نسبت حدیث میں فرمایا: وُہ ایک کلام ہے جس کا حَسن حَسن اور قبیح قبیح یعنی مضمون پر مدار ہے اگر اچھا ذکر ہے شعر بھی محمود اور بُرا تذکرہ ہے تو شعر بھی مذموم۔۔۔ سیدی عارف باﷲ امام الطریقین شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: ماکان منہ یعنی من الشعر فی الزھد والمواعظ والحکم وذم الدنیا والتذکیر بالاء ﷲ ونعت الصالحین وصفۃ المتقین ونحو ذلک مما یحمل علی الطاعۃ ویبعد عن المعصیۃ محمود الخ“ یعنی ہر وہ شعر اچھا ہے جو زہد، وعظ، حکمت، دنیا کی مذمت، ﷲ تعالٰی کی نعمتوں کو یاد دلانے والا یا صالحین و متقین کی صفت و تعریف وغیرہ پر مشتمل ہو جو انسان کو ﷲ تعالٰی اور اس کے رسول کی اطاعت پر ابھارتا ہے یا گناہ سے دور کرتا ہو۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 305، 303، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: ”اگر ﷲ و رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی تعریف کے اشعار ہوں یا ان میں حکمت کی باتیں ہوں، اچھے اخلاق کی تعلیم ہو تو اچھے ہیں اور اگر لغو و باطل پر مشتمل ہوں تو برے ہیں اور چونکہ اکثر شعرا ایسے ہی بے تکی ہانکتے ہیں اس وجہ سے ان کی مذمت کی جاتی ہے‘‘۔  (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 514، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1157
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1447ھ / 13 اپریل 2026ء