نبی پاک ﷺ کو ماکان و مایکون کا علم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو ماکان و ما یکون کا علم حاصل ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جی ہاں! بے شک اللہ تبارک و تعالی نےہمارے پیارے نبی حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو ماکان و ما یکون (جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہوگا) کا علم عطا فرمایا ہے۔ اس پر کثیر دلائل موجودہیں۔ جن میں سے چندذکرکیے جاتے ہیں:
صحیح بخاری میں ہے ”عن حذيفة رضي اللہ عنه، قال: «لقد خطبنا النبي صلى اللہ عليه و سلم خطبة، ما ترك فيها شيئا إلى قيام الساعة إلا ذكره»“ ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا: بے شک ہمیں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں قیامت تک ہونے والی ایک ایک چیز کو بیان فرمادیا۔ (صحیح البخاری، کتاب القدر، باب: ﴿وکان امراللّٰہ قدرامقدورا﴾، حدیث نمبر: 6604، ص 1637، بیروت)
صحیح مسلم میں ہے ”حدثني أبو زيد يعني عمرو بن أخطب، قال: «صلى بنا رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم الفجر، و صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت الظهر، فنزل فصلى، ثم صعد المنبر، فخطبنا حتى حضرت العصر، ثم نزل فصلى، ثم صعد المنبر، فخطبنا حتى غربت الشمس، فأخبرنا بما كان و بما هو كائن» فأعلمنا أحفظنا“ ترجمہ: حضرت ابوزیدعمروبن اخطب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ہمیں اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فجرکی نمازپڑھائی اور آپ علیہ الصلوۃ و السلام منبر پر جلوہ فرما ہوئے توہمیں خطبہ دینا شروع فرمایا، یہاں تک کہ ظہرکا وقت ہوگیا، پھر نیچے تشریف لاکر نماز پڑھی پھر منبر پر جلوہ فرما ہوئے، تو ہمیں خطبہ دینا شروع فرمایا، یہاں تک کہ عصرکاوقت ہوگیا پھر نیچے تشریف لائے تو نماز پڑھی پھر منبر پر جلوہ فرما ہوئے تو ہمیں خطبہ دینا شروع فرمایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ تو آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے ہمیں "ماکان و ما یکون" جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ ہونے والا ہے، اس سب کے بارے میں بتایا، تو ہم میں سے زیادہ علم والا وہ ہے، جس نے زیادہ محفوظ رکھا۔ (صحیح المسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب اخبار النبی فیما یکون الی قیام الساعۃ، حدیث نمبر: 2892، ص 1108، بیروت)
صحیح مسلم میں ہے: ”عن حذيفة، أنه قال: «أخبرني رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم بما هو كائن إلى أن تقوم الساعة»“ ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا: مجھے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کے متعلق بتادیا۔ (صحیح المسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب اخبارالنبی علیہ الصلوۃ و السلام فیمایکون الی قیام الساعۃ، حدیث نمبر: 2891، ص 1108، بیروت)
جامع الاحادیث میں الفتن لنعیم بن حماد اور کنز العمال کے حوالے سے ہے ”عن حذيفة بن اليمان قال: ما من صاحب فتنة يبلغون ثلاثمائة إنسان إلا و لو شئت أن أسميه باسمه و اسم أبيه و مسكنه إلى يوم القيامة كل ذلك مما علمنيه رسول اللہ - صلى اللہ عليه وسلم ۔ ۔ ۔، إنكم كنتم تسألون رسول اللہ - صلى اللہ عليه و سلم - عن الخير و أسأله عن الشر، و تسألونه عما كان و أسأله عما يكون (نعيم) [كنز العمال]أخرجه نعيم بن حماد (1 / 31، رقم 16)“ ترجمہ: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا: قیامت تک فتنہ برپا کرنے والے افراد تین سو سے زیادہ نہیں لیکن اگرمیں چاہوں توان کے نام اوران کے باپوں کے نام اوران کی رہائش کو بتا سکتا ہوں، یہ سب ان علوم میں سے ہے، جو اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے مجھے سکھائے ہیں، تم اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے خیرکے متعلق سوال کرتے تھے اور میں آپ علیہ الصلوۃ و السلام سے برائی کے متعلق سوال کرتا تھا۔ اور تم حضور علیہ الصلوۃ و السلام سے "ماکان" (جوکچھ ہوچکا) کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں حضورعلیہ الصلوۃ و السلام سے "مایکون" (جو کچھ ہوگا) کے متعلق سوال کرتا تھا۔ (جامع الاحادیث، مسندحذیفہ بن یمان، حدیث نمبر: 37437، ج 34، ص 325)
اس روایت کا کنز العمال میں حوالہ یہ ہے۔ (کنز العمال، کتاب الفتن، حدیث نمبر 31290، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: 11101Lar-
تاریخ اجراء: 09 جمادی الآخرۃ 1443ھ / 13 جنوری 2022ء