حیات النبی کا عقیدہ کیا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حیات النبی کا عقیدہ کیا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
ہمارے پیارے نبی حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام کے متعلق اہلسنت کا قرآن و احادیث سے ثابت شدہ عقیدہ یہ ہے کہ ان پروعدہ الہیہ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ (ترجمہ: ہر جان کو موت کاذائقہ چکھنا ہے۔) پورا ہونے کے لیے ایک آن موت طاری ہوئی اور پھر اس کے بعد ان کوپہلے ہی کی طرح حقیقی دنیاوی روحانی جسمانی زندگی عطا ہوئی، وہ اپنے مزارات طیبہ میں نمازیں پڑھتے ہیں، روزی دئیے جاتے ہیں، وہ حج وغیرہ امورصالحہ بجا لاتے ہیں، اللہ تعالی کے حکم سے جہاں چاہیں تشریف لے جاتے ہیں اور زمین و آسمان کی سلطنت میں تصرف فرماتے ہیں، ان کاانتقال صرف ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوجانا ہے، جیسے فرشتے زندہ ہونے کے باوجود ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اس کے دلائل میں سے معراج کی رات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام کا مسجد اقصیٰ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنا اور پھر مختلف آسمانوں میں مختلف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام سے ملاقات کرنا ہے۔ نیز سفر معراج میں ہی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے حضرت موسی علی نبیناوعلیہ الصلوۃ و السلام کو ان کی قبرمیں، ان کو کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ملاحظہ فرمایا۔ اور ان کو اور حضرت یونس علی نبیناو علیہما الصلوۃ و السلام کوآپ علیہ الصلوۃ و السلام نے حج کے لیے جاتے ہوئے تلبیہ پڑھتے ملاحظہ فرمایا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے حوالے سے چنددلائل درج ذیل ہیں:
سنن ابن ماجہ میں ہے ”عن أبي الدرداء، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: «أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة؛ فإنه مشهود، تشهده الملائكة، و إن أحدا لن يصلي علي، إلا عرضت علي صلاته، حتى يفرغ منها» قال: قلت: و بعد الموت؟ قال: «و بعد الموت، إن اللہ حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء، فنبي اللہ حي يرزق»“ ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا: اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن مجھ پر کثرت کےسا تھ درود پڑھو، کیونکہ یہ یوم مشہود ہے، جس دن فرشتے آتے ہیں اور کوئی مجھ پردرود نہیں پڑھتا مگر اس کادرودمجھ پرپیش کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہوجائے، حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے عرض کی: اور موت کے بعد؟ آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: اور موت کے بعد۔ بےشک اللہ تعالی نے زمین پرنبیوں کے جسموں کا کھانا حرام کردیا ہے، تو اللہ تعالی کا نبی زندہ ہے، اسے رزق دیا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکروفاتہ علیہ الصلوۃ و السلام، ص 320، بیروت(
مرقاۃ المفاتیح میں اس روایت کے متعلق ہے ”(رواه ابن ماجه)، أي بإسناد جيد نقله ميرك عن المنذري، و له طرق كثيرة بألفاظ مختلفة“ ترجمہ: اسے ابن ماجہ نے جیداسنادکے ساتھ روایت کیا، اسے میرک نے منذری سے نقل کیا اور اس کی کئی اسانیدمختلف الفاظ کے ساتھ ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، باب الجمعۃ، ج 03، ص 1020، بیروت)
مجمع الزوائدمیں ہے ”و عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللہ - صلى اللہ عليه و سلم -: «الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون»“ رواه أبو يعلى و البزار، و رجال أبي يعلى ثقات" ترجمہ: اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا: اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا: انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں، نماز ادا فرماتے ہیں۔ (مجمع الزوائد، کتاب فیہ ذکر الانبیاء، باب ذکر الانبیاء علیہم الصلوۃ و السلام، ج 08، ص 211،مکتبۃ القدسی، القاھرۃ)
صحیح مسلم وغیرہ میں ہے ”عن أنس بن مالك، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: " أتيت – و في رواية هداب: مررت - على موسى ليلة أسري بي عند الكثيب الأحمر، و هو قائم يصلي في قبره“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر موسی علی نبیناوعلیہ الصلوۃ و السلام پر، سرخ ٹیلے کے پاس ہوا، اور وہ اپنی قبرمیں کھڑے ہوکر نماز ادا فرما رہے تھے۔ (صحیح المسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل موسی علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام، ص 927، بیروت(
صحیح مسلم وغیرہ میں ہے ”عن ابن عباس، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم مر بوادي الأزرق، فقال: «أي واد هذا؟» فقالوا: هذا وادي الأزرق، قال: «كأني أنظر إلى موسى عليه السلام هابطا من الثنية، و له جؤار إلى اللہ بالتلبية»، ثم أتى على ثنية هرشى، فقال: «أي ثنية هذه؟» قالوا: ثنية هرشى، قال: «كأني أنظر إلى يونس بن متى عليه السلام على ناقة حمراء جعدة عليه جبة من صوف، خطام ناقته خلبة و هو يلبي»“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم وادی ازرق، پر سے گزرے تو فرمایا: یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یہ وادی ازرق ہے، فرمایا: گویا کہ میں موسی علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام کووادی میں، بلندآوازسےتلبیہ پڑھتے ہوئے، اترتے دیکھ رہاہوں، پھر آپ علیہ الصلوۃ و السلام ہرشی گھاٹی میں تشریف لائے تو آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: یہ کون سی گھاٹی ہے ؟صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یہ ہرشی گھاٹی ہے، آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: گویاکہ میں یونس بن متی علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام کوسرخ جعدہ اونٹی پر اون کا جبہ پہنے، تلبیہ پڑھتے دیکھ رہاہوں، ان کی اونٹنی کی لگام، کھجورکے درخت کی چھال سےبنی ہوئی ہے۔ (صحیح المسلم، کتاب الایمان، باب الاسراء ۔ ۔ الخ، ص 81، بیروت)
الحاوی للفتاوی میں عظیم محدث و مفسر حضرت علامہ مولانا جلال الدین سیوطی (سال وفات 911ھ) علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں: ”لأنه - صلى اللہ عليه و سلم – و سائر الأنبياء أحياء ردت إليهم أرواحهم بعد ما قبضوا و أذن لهم بالخروج من قبورهم و التصرف في الملكوت العلوي و السفلي“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام زندہ ہیں، ان کی ارواح مبارکہ کو قبض کرنے کے بعدان کو لوٹادی گئیں اور ان کو اپنی قبروں سے نکلنے اور زمین و آسمان کی سلطنت میں تصرف کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے۔ (الحاوی للفتاوی، ج 02، ص 317،دار الفکر، بیروت)
آپ علیہ الرحمۃ احادیث و اقوال علماء تحریر فرمانے کے بعد مزید فرماتے ہیں: ”فحصل من مجموع هذه النقول و الأحاديث أن النبي - صلى اللہ عليه و سلم - حي بجسده و روحه، و أنه يتصرف و يسير حيث شاء في أقطار الأرض و في الملكوت و هو بهيئته التي كان عليها قبل وفاته لم يتبدل منه شيء، و أنه مغيب عن الأبصار كما غيبت الملائكة مع كونهم أحياء بأجسادهم، فإذا أراد الله رفع الحجاب عمن أراد إكرامه برؤيته رآه على هيئته التي هو عليها، لا مانع من ذلك، و لا داعي إلى التخصيص برؤية المثال“ ترجمہ: پس ان جزئیات اور احادیث کے مجموعے سے یہ نتیجہ نکلا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اپنے جسم مبارک اورروح مبارک کے ساتھ زندہ ہیں، اور یہ کہ وہ زمین وآسمان کی سلطنت میں تصرف فرماتے ہیں اورزمین و آسمان میں جہاں چاہیں تشریف لے جاتے ہیں اور جس حالت میں آپ علیہ الصلوۃ و السلام وفات سے پہلے تھے، آج بھی اسی حالت میں موجودہیں، اس میں ذرہ بھربھی تبدیلی نہیں آئی اوریہ کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام ہماری آنکھوں سے اسی طرح پوشیدہ ہیں، جیسے فرشتے اپنے جسموں کے ساتھ زندہ ہونے کے باوجود ہم سے پوشیدہ ہیں، پس جب اللہ تعالی کسی کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے دیدار سے مشرف فرمانا چاہتا ہے تو حجاب اٹھا دیتا ہے،وہ آپ علیہ الصلوۃ و السلام کو اسی حالت پردیکھتا ہے، جس پر آپ علیہ الصلوۃ و السلام ہیں، اس سے کوئی مانع نہیں اورنہ یہ تخصیص کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ آپ علیہ الصلوۃ و السلام کی مثال دیکھتا ہے۔ (الحاوی للفتاوی، ج 02، ص 319، دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اور تمام انبیاء کرام حیات حقیقی دنیاوی روحانی جسمانی سے زندہ ہیں، اپنے مزارات طیبہ میں نمازیں پڑھتے ہیں، روزی دئے جاتے ہیں، جہاں چاہیں تشریف لے جاتے ہیں، زمین و آسمان کی سلطنت میں تصرف فرماتے ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 685، رضا فاونڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اور تمام انبیاءےکرام علیہم الصلٰوۃ و السلام حقیقۃ ایسے ہی زندہ ہیں جیسے رونق افروزی دنیا کے زمانہ میں تھے، ان کی موت یک آن کے لئے تصدیق وعدہ الٰہیہ: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ (ہر جاندار نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔) کے واسطے ہوتی ہے، پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ بحیات حقیقی جسمانی دنیاوی زندہ ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں، مجالس خیرمیں تشریف لے جاتے ہیں، کھانا پینا سب کچھ دنیا کی طرح بے کسی آلائش کے جاری ہیں "کما نطقت بہ الاحادیث و ائمۃ القدیم و الحدیث" (جیسا کہ اس بارے میں احادیث اورزمانۂ قدیم وجدید کے ائمہ کے ارشادات موجود ہیں۔)“ (فتاوی رضویہ، ج 09، ص 612، رضا فاونڈیشن، لاہور)
بہارشریعت میں ہے: ”یقین جانو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سچی حقیقی دنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے، اُن کی اور تما م انبیا علیھم الصّلاۃ و السلام کی موت صرف وعدۂ خدا کی تصدیق کو ایک آن کے لیے تھی، اُن کا انتقال صرف نظر عوام سے چُھپ جانا ہے۔“ (بہارشریعت، ج 01، حصہ 06، ص 1223، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11106
تاریخ اجراء: 10 جمادی الآخرۃ 1443ھ / 14 جنوری 2022ء