logo logo
AI Search

ذبح میں بغیر نیت کے یا کسی اور نیت سے بسم اللہ پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذبح کے متعلق بہار شریعت کے دو مسئلوں کے درمیان تطبیق

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بہارِ شریعت (ج 03، ص 318، مکتبۃ المدینہ) کتاب الذبائح میں ہے: "بسم اللہ کسی دوسرے مقصد سے پڑھی اور جانور کو ذبح کر دیا تو جانور حلال نہیں، اور اگر زبان سے بسم اللہ کہی اور دل میں یہ نیت حاضر نہیں کہ جانور ذبح کرنے کے لیے بسم اللہ کہتا ہوں تو جانور حلال ہے۔"

یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آیا۔ مسئلہ میں دو صورتیں بیان کی گئی ہیں: پہلی صورت میں بسم اللہ کسی اور مقصد کے لیے پڑھی، ذبح کے لیے نہیں پڑھی، تو فرمایا جانور حلال نہیں۔ اور دوسری صورت میں بسم اللہ پڑھتے وقت دل میں یہ نیت حاضر نہیں کہ جانور کے لیے پڑھ رہا ہوں، تو فرمایا جانور حلال ہے۔ تو جب دونوں صورتوں میں جانور کے لیے بسم اللہ نہیں پڑھی جا رہی، تو حکم مختلف کیوں ہے؟

جواب

ذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے فقہائے کرام نے جو شرائط بیان کی ہیں، ان میں سے دو شرطیں یہ بھی ہیں: (1) اللہ عزوجل کا نام لے کر جانور ذبح کیا جائے۔ اگر جان بوجھ کر ذبح سے پہلے اللہ عزوجل کا نام ترک کیا، تو جانور حلال نہیں ہوگا۔ ہاں، اگر سہواً نام نہیں لیا تو حلال ہے۔ (2) دوسری شرط یہ ہے کہ نامِ الٰہی لینا ذبح کے قصد سے ہو، کسی اور قصد سے نہ ہو۔ مثلاً تسمیہ پڑھنے والا برکت کے قصد سے تسمیہ پڑھے، ذبیحہ پر تسمیہ پڑھنا مقصود نہ ہو، تو اس صورت میں جانور حلال نہیں ہوگا۔ نیز تسمیہ، یعنی نامِ الٰہی کے لیے "بسم اللہ" کے الفاظ صریح ہیں، اور صریح الفاظ محتاجِ نیت نہیں ہوتے۔ لہٰذا جب جانور کو "بسم اللہ" پڑھ کر ذبح کیا جائے اور دل میں کوئی نیت حاضر نہ ہو، پھر بھی یہ "بسم اللہ" ذبح ہی کے لیے شمار ہوگی، اور ذبح کرنے والے کی ظاہری حالت کو ذبح کے قصد کی طرف ہی پھیرا جائے گا۔ البتہ اگر اس قصد سے پھیرنے والی کوئی دوسری دلیل پائی جائے، مثلاً تسمیہ پڑھنے والا برکت کے قصد سے تسمیہ پڑھے اور جانور پر تسمیہ پڑھنا مقصود نہ ہو، تو اس صورت میں جانور حلال نہیں ہوگا، کیونکہ تسمیہ ذبح کے لیے واقع نہیں ہوئی۔

اس تفصیل کے بعد بہارِ شریعت کے جزئیہ پر اگر غور کیا جائے، تو پہلی صورت میں "بسم اللہ" پڑھنے والے نے ذبح کے علاوہ کسی اور مقصد سے "بسم اللہ" پڑھی ہے، تو چونکہ تسمیہ ذبح کے لیے واقع نہیں ہوئی، اس لیے فرمایا کہ جانور حلال نہیں۔ جبکہ دوسری صورت میں "بسم اللہ" پڑھنے والے کے دل میں کوئی نیت حاضر نہیں تھی، تو اس صورت میں "بسم اللہ" کو ذبح ہی کے لیے شمار کیا گیا اور فرمایا کہ جانور حلال ہے، کیونکہ "بسم اللہ" تسمیہ کے لیے صریح ہے، اور صریح محتاجِ نیت نہیں ہوتا، جیسا کہ اوپر تفصیلاً گزرا۔

تنبیہ ضروری: بسم اللہ کے علاوہ دیگر الفاظ جو تسمیہ کے لیے صریح نہیں جیسے الحمد للہ، سبحان اللہ، اگر یہ پڑھ کر ذبح کرے، تو اس میں مطلقاً ذبح کے لیے نیت ہونا ضروری ہے، کیونکہ یہ الفاظ تسمیہ کے لیے کنایہ ہیں، اور کنایہ نیت کے ساتھ ہی صریح کا قائم مقام ہوتا ہے، لہذا ان الفاظ کے ذریعہ ذبح پر تسمیہ کا قصد ہوگا، تو ہی جانور حلال ہوگا ورنہ نہیں۔

الله تبارك وتعالی ارشاد فرماتا ہے: "وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ" ترجمہ کنز الایمان: اور اُسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بیشک حکم عدولی ہے۔ (سورۃ الانعام، آیت 121)

اس آیت مبارک کے تحت تفسیر روح البیان میں ہے: "(وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ) ای عمداً اذ الناسی حال نسیانہ لا یکون مکلفاً وذکر اللہ تعالی فی قلب کل مؤمن واما العامد فلانہ لما ترک التسمیۃ عمداً فکانہ نفی مافی قبلہ۔ (وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ) ای خروج لما لایحل فان من ترک التسمیۃ عامداً حال الذبح لایحل اکل ذبیحتہ عند الامام الاعظم" (اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا) یعنی جان بوجھ کر، کیونکہ بھولنے والا، بھولتے وقت مکلف نہیں ہوتا، اور اللہ تعالی کا ذکر ہر مومن کے دل میں ہے، اور بہرحال قصداً چھوڑنے والا، تو اس لیے کہ جب اس نے جان بوچھ کر تسمیہ چھوڑی تو گویا اس نے انکار کر دیا اس چیز کاجو اس کے دل میں ہے۔ (اور وہ بیشک حکم عدولی ہے) یعنی ایسی چیز کی طرف نکل جانا جو حلال نہیں، کیونکہ جو شخص ذبح کے وقت جان بوجھ کر تسمیہ چھوڑ دے، امام اعظم کے نزدیک اس کے ذبیحہ کا کھانا حلال نہیں۔ ملتقطاً (تفسیر روح البیان، ج 03، ص 123، مطبوعہ: کوئٹہ)

قدوری میں ہے: "وان ترک الذابح التسمیۃ عمداً فالذبیحۃ میتۃ لاتؤکل وان ترکھا ناسیا اکل" اور اگر ذبح کرنے والا جان بوجھ تسمیہ چھوڑ دے، تو ذبیحہ مردار ہے، نہیں کھایا جائے گا، اور اگر بھول کر تسمیہ چھوڑ دی، تو کھایا جائے گا۔ (قدوری، ص 413، مطبوعہ: مکتبہ امام احمد رضا)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے "(والشرط في التسمية) (هو الذكر الخالص عن شوب الدعاء) وغيره (فلا يحل بقوله اللهم اغفر لي) لأنه دعاء وسؤال (بخلاف الحمد للہ، أو سبحان الله مريدا به التسمية) فإنه يحل. (ولو) (عطس عند الذبح فقال الحمد لله) (لا يحل في الأصح) لعدم قصد التسمية۔ (ولو) (سمى ولم تحضره النية) (صح، بخلاف ما لو قصد بها التبرك في ابتداء الفعل) أو نوى بها أمرا آخر فإنه لا يصح فلا تحل" اور تسمیہ میں شرط دعا وغیرہ سے خالی، خالص ذکر ہے، لہذا "اللھم اغفرلی" کہنے کے ساتھ حلال نہیں ہوگا، اس لیےکہ یہ دعا اور سوال ہے۔ اس کے برخلاف الحمد للہ، سبحان اللہ تسمیہ کا اردہ کرتے ہوئے پڑھا، تو حلال ہو جائے گا۔ اور اگر ذبح کے وقت چھینکا، اور الحمدللہ کہا، تو اصح قول کے مطابق جانور حلال نہیں ہوگا، تسمیہ کا قصد نہ ہونےکی وجہ سے۔ اور اگر تسمیہ پڑھی اور نیت حاضر نہیں تھی، ذبح درست ہے، برخلاف اس کے جب تسمیہ کے ساتھ تبرک کی نیت ہو کام شروع کرنے میں، یا اس کے علاوہ کسی کام کی نیت ہو، تو درست نہیں، لہذا جانور حلال نہیں ہوگا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 09، ص 502 تا 504، مطبوعہ: کوئٹہ)

متن کی عبارت "مريدا به التسمية" کے تحت رد المحتار میں ہے: "قيد به لما في غاية البيان لو لم يرد به التسمية لا يؤكل. قال شيخ الإسلام في شرحه: لأن هذه الألفاظ ليست بصريح في باب التسمية إنما الصريح بسم اللہ فتكون كناية والكناية إنما تقوم مقام الصريح بالنية كما في كنايات الطلاق" اس کے ساتھ مقید کیا، کیونکہ غایۃ البیان میں ہے، اگر ان الفاظ کے ساتھ تسمیہ کا ارادہ نہ ہو، تو ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا، شیخ الاسلام اس کی شرح میں فرماتے ہیں: اس لیے کہ یہ الفاظ تسمیہ کے باب میں صریح نہیں ہیں، بہرحال صریح توبسم اللہ ہے، تو وہ الفا ظ کنایہ ہوں گے، اور کنایہ نیت کے ساتھ ہی صریح کے قائم مقام ہوتا ہے، جیسا کہ کنایات طلاق کے بیان میں ہے۔ (رد المحتار، ج 09، ص 502، مطبوعہ: کوئٹہ)

شرح کی عبارت "لعدم قصد التسمية" کے تحت رد المحتار میں ہے: "يريد به أنه قصد به التحميد للعطاس، بخلاف قوله بسم اللہ فإنه يصح ولو لم تحضره نية كما يأتي لأنه صريح" اس سے مراد یہ ہےکہ اس نے چھینک نے والےکے لیےحمد کا قصد کیا، برخلاف اس کے قول بسم اللہ کے کیونکہ اگرچہ اس کی نیت حاضر نہ ہو تو بھی ذبح درست ہے، اس لیے کہ یہ صریح ہے جیسا کہ آئے گا۔ ملخصاً (رد المحتار، ج 09، ص 503، مطبوعہ: کوئٹہ)

تکملہ بحر الرائق ذبح کے بیان میں ہے: "ولو قال: بسم اللہ جاز، نوى، أو لم ينو؛ لأنه صريح في التسمية وظاهر حاله يدل على أنه أراد به التسمية على الذبيحة فيقع عنها ما لم يوجد منه الصرف عنها حتى لو أراد به التسمية على غيره كمن قال: اللہ أكبر وأراد به إجابة الأذان لا افتتاح الصلاة ولم يصر شارعا فيها ولو سبح، أو حمد اللہ، أو كبر يريد به التسمية على الذبيحة تحل، وإلا فلا؛ لأن هذه الألفاظ كناية عن التسمية والكناية إنما تقوم مقام الصريح بالنية" اور ذبح کرنے والے نے کہا بسم اللہ، تو ذبح جائز ہے اس نے نیت کی یا نہیں، اس لیے کہ یہ تسمیہ میں صریح ہے، اور اس کی ظاہری حالت اس بات پر دلالت کرتی ہےکہ اس نے اس کے ذریعہ ذبیحہ پر تسمیہ کا ہی ارادہ کیا ہے، تو یہ تسمیہ ذبیحہ کے لیے ہی واقع ہوگی، جب تک اس سے پھیرنے والی دلیل نہ پائے جائے، حتی کہ اگر وہ اس تسمیہ کے ساتھ ذبح کے علاوہ کا قصد کرے، اس شخص کی طرح جس نے اللہ اکبر کہا اور اس کے ساتھ اذان کا جواب دینے کا قصد کیا، نماز شروع کرنے کا نہیں، تو وہ نماز شروع کرنے والا نہیں ہوگا، اور اگر اس نے تسبیح کہی یا اللہ کی حمد کی، یا تکبیر کہی، ذبیحہ پر تسمیہ کا ارادہ کرتے ہوئے، ذبیحہ حلال ہو جائے گا، ورنہ نہیں، اس لیےکہ یہ الفاظ تسمیہ سےکنایہ ہیں، اور کنایہ صریح کے قائم مقام نیت کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ (تکملہ بحرالرائق، ج 08، ص 307، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی قاضی خان میں ہے: "ولو قال مكان التسمية: الحمد للہ، أو قال: سبحان اللہ، أو قال: اللہ أكبر يريد به التسمية جاز. وإن أراد به التحميد دون التسمية لا تحل؛ لأن الشرط ذكر اسم اللہ تعالى على الذبح وذلك إنما يتحقق بالقصد۔ ولو قال: بسم اللہ ولم تحضره النية أو أراد به التسمية على الذبيح أكل. أما إذا نوى التسمية على الذبيح، فظاهر. وأما إذا لم تكن له نية، فكذلك عند العامة. وهو الصحيح وإن لم يرد التسمية على الذبيح، وانما أراد شيئاً آخر لا يحل له؛ لأنه نوى غير ما أمر به" اگر تسمیہ کی جگہ "الحمد لله" یا "سبحان الله" یا "الله اكبر" کہا، ان سے تسمیہ کا اردہ کرتے ہوئے، تو جائز ہے۔ اور اگر ان الفاظ سے تسمیہ کے بجائے صرف حمد مراد لے تو حلال نہیں؛ کیونکہ شرط یہ ہے کہ ذبح پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، اور یہ قصد ہی سے متحقق ہوگا۔ اگر "بسم الله" کہا مگر نیت حاضر نہ تھی، یا ذبیحہ پر تسمیہ کرنے کا ارادہ تھا تو وہ کھا سکتا ہے۔ بہرحال اگر ذبیحہ پر تسمیہ کی نیت کی، تو یہ ظاہر ہے۔ اور اگر اس کی کوئی نیت نہ تھی، تو بھی عام علماء کے نزدیک یہی حکم ہے، اور یہی صحیح ہے۔ اور اگر اس نے ذبیحہ پر تسمیہ کا ارادہ نہیں کیا بلکہ کسی اور چیز کا ارادہ کیا تو اس کے لیے حلال نہیں؛ کیونکہ اس نے اس چیز کی نیت کی جو اس کو حکم نہیں دیا گیا تھا۔ ملتقطاً (فتاوی قاضی خان، ج 03، ص 259. 260، مطبوعہ: بیروت)

ذبح کی شرائط بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: "خود ذبح کرنے والا ﷲ عزوجل کا نام اپنی زبان سے کہے۔ نام الٰہی (عزوجل) لینے سے ذبح پر نام لینا مقصود ہو اور اگر کسی دوسرے مقصد کے لیے بسم ﷲ پڑھی اور ساتھ لگے ذبح کر دیا اور اس پر بسم ﷲ پڑھنا مقصود نہیں ہے تو جانور حلال نہ ہوا مثلاً چھینک آئی اور اس پر الحمد ﷲ کہا اور جانور ذبح کر دیا اس پر نام الٰہی (عزوجل) ذکر کرنا مقصود نہ تھا بلکہ چھینک پر مقصود تھا جانور حلال نہ ہوا" ملخصاً (بہار شریعت، ج 03، ص 314، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)

مزید فرماتے ہیں: "بسم ﷲ کسی دوسرے مقصد سے پڑھی اور جانور کو ذبح کر دیا تو جانور حلال نہیں اور اگر زبان سے بسم ﷲ کہی اور دل میں یہ نیت حاضر نہیں کہ جانور ذبح کرنے کے لیے بسم ﷲ کہتا ہوں تو جانور حلال ہے۔ " (بہار شریعت، ج 03، ص 318، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: har-7442
تاریخ اجراء: 09 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ/26 مئی 2026ء