ذبح کے وقت چھری پر ہاتھ رکھنے والے کے لیے تسمیہ کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دو افراد کا چھری پکڑنا اور صرف ایک کا ذبح کرنا اور اسی کا تسمیہ پڑھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک مسجد کا امام ہوں۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک نمازی نے مجھے اپنے گھر قربانی میں شرکت کی دعوت دی۔ میں وہاں گیا تو قصاب جانور ذبح کرنے لگا۔ اس دوران میزبان نے مجھ سے چھری پھیرنے کے لیے کہا، مگر میں نے یہ کہہ کر معذرت کی کہ مجھے ذبح کرنا نہیں آتا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ میں برکت کے لیے صرف چھری پر ہاتھ رکھ دوں اور ذبح قصاب ہی کرے گا۔ چنانچہ میں قصاب کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور صرف چھری پر ہاتھ رکھا۔ میں نے نہ چھری کو حرکت دی، نہ ذبح میں کوئی طاقت لگائی، بلکہ پورا عمل قصاب ہی انجام دے رہا تھا۔ اس موقع پر قصاب نے "بسم اللہ، اللہ اکبر" پڑھا، لیکن میں نے تسمیہ نہیں پڑھا، کیونکہ میرے ذہن میں یہی تھا کہ ذبح قصاب کر رہا ہے اور میں محض چھری پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں۔ بعد میں کسی اسلامی بھائی سے اس مسئلہ پر بات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس مسئلہ رہنمائی حاصل کرلو شاید چھری پر ہاتھ رکھنے والے پر بھی تسمیہ پڑھنا لازم ہوتا ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں مجھ پر تسمیہ پڑھنا لازم تھا یا نہیں؟ اور اگر لازم تھا تو تسمیہ نہ پڑھنے کی وجہ سے قربانی کا جانور حرام تو نہیں ہوا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ پر تسمیہ پڑھنا لازم نہیں تھا، اور آپ کے تسمیہ نہ پڑھنے کے وجہ سے جانور بھی حرام نہیں ہوا، بلکہ وہ جانور حلال ہے۔
تفصیل یہ ہےکہ ذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے فقہائے کرام نے جو شرائط بیان کی ہیں، ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ذبح کرنے والا اللہ عزوجل کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔ اگر جان بوجھ کر ذبح سے پہلے اللہ عزوجل کا نام ترک کیا تو جانور حلال نہیں ہوگا، ہاں اگر سہواً نام نہیں لیا تو جانور حلال ہے۔ نیز جس طرح ذبح کرنے والے پر تسمیہ پڑھنا لام ہے، اسی طرح جو شخص نفسِ ذبح میں مددگار ہو، یعنی ذابح کے ساتھ مل کر جانور پر چھری پھیرے اور ذبح کے عمل میں اس کی طاقت بھی شامل ہو، تو اس صورت میں دو، تین یا جتنے افراد مل کر چھری پھیریں گے، سب کے لیے تسمیہ پڑھنا شرط ہوگا، کیونکہ سب ہی ذابح ہیں اور ذبح کا عمل سب ہی کی طرف منسوب ہے۔ اس صورت میں اگر کسی ایک نے بھی جان بوجھ کر تسمیہ نہ پڑھی، یا یہ سمجھ کر چھوڑ دی کہ دوسرے کا تسمیہ پڑھ لینا کافی ہے، تو جانور حلال نہیں ہوگا۔ البتہ اگر ذبح کرنے والا ایک ہی شخص ہو اور دوسرے نے فقط چھری پر ہاتھ رکھا ہوا ہو، اور وہ ذبح کے عمل میں بالکل شریک نہ ہو، یعنی نہ چھری کو حرکت دے اور نہ اس کی کوئی قوت ذبح میں شامل ہو، تو اس صورت میں فقط چھری پر ہاتھ رکھنے والے شخص پر تسمیہ پڑھنا لازم نہیں کیونکہ محض چھری پر ہاتھ رکھنے سے کوئی شخص ذابح نہیں بنتا، بلکہ ذابح وہ ہے جو مخصوص رگوں کو کاٹنے کے عمل کا مباشر ہو، اور یہ عمل چھری کو حرکت دینے اور قوت لگانے سے ہی انجام پاتا ہے۔ لہٰذا تسمیہ اسی پر لازم ہوگا جو ذبح کے فعل کو انجام دے رہا ہو۔ صورتِ مسئولہ میں آپ نے محض برکت کی نیت سے چھری پر ہاتھ رکھا تھا اور عملِ ذبح میں آپ کی بالکل طاقت شامل نہیں تھی، بلکہ قصاب ہی اپنی طاقت سے جانور ذبح کر رہا تھا، لہٰذا اس صورت میں صرف قصاب پر تسمیہ پڑھنا لازم تھا، آپ پر نہیں۔ چنانچہ جب قصاب نے تسمیہ پڑھ کر جانور ذبح کیا تو جانور حلال ہے۔
الله تبارك وتعالی ارشاد فرماتا ہے: "وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ" ترجمہ کنز الایمان: اور اُسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بیشک حکم عدولی ہے۔ (سورۃ الانعام، آیت 121)
اس آیت مبارک کے تحت تفسیر روح البیان میں ہے: " (وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ) ای عمداً اذ الناسی حال نسیانہ لا یکون مکلفاً وذکر اللہ تعالی فی قلب کل مؤمن واما العامد فلانہ لما ترک التسمیۃ عمداً فکانہ نفی مافی قبلہ۔ (وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ) ای خروج لما لایحل فان من ترک التسمیۃ عامداً حال الذبح لایحل اکل ذبیحتہ عند الامام الاعظم" (اور اسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا) یعنی جان بوجھ کر، کیونکہ بھولنے والا، بھولتے وقت مکلف نہیں ہوتا، اور اللہ تعالی کا ذکر ہر مومن کے دل میں ہے، اور بہرحال قصداً چھوڑنے والا، تو اس لیے کہ جب اس نے جان بوچھ کر تسمیہ چھوڑی تو گویا اس نے انکار کردیا اس چیز کا جو اس کے دل میں ہے۔ (اور وہ بیشک حکم عدولی ہے) یعنی ایسی چیز کی طرف نکل جانا جو حلال نہیں، کیونکہ جو شخص ذبح کے وقت جان بوجھ کر تسمیہ چھوڑ دے، امام اعظم کے نزدیک اس کے ذبیحہ کا کھانا حلال نہیں۔ ملتقطاً (تفسیر روح البیان، ج 03، ص 123، مطبوعہ: مکتبۃ القدس کوئٹہ)
قدوری میں ہے: "وان ترک الذابح التسمیۃ عمداً فالذبیحۃ میتۃ لاتؤکل وان ترکھا ناسیا اکل" اور اگر ذبح کرنے والا جان بوجھ تسمیہ چھوڑ دے، تو ذبیحہ مردار ہے، نہیں کھایا جائے گا، اور اگر بھول کر تسمیہ چھوڑ دی، تو کھایا جائے گا۔ (قدوری، ص 413، مطبوعہ: مکتبہ امام احمد رضا)
ذبح کے وقت تسمیہ پڑھنا ذابح کے لیے ضروری ہے، اس کے علاوہ کے لیے نہیں۔ چنانچہ در مختار میں ہے: "(وتشترط) التسمیۃ من الذابح (حال الذبح)" اور ذبح کرنے والے کا، ذبح کے وقت تسمیہ پڑھنا شرط ہے۔
"من الذابح" کے تحت رد المحتار میں ہے: "أراد بالذابح محلل الحيوان ليشمل الرامي والمرسل وواضع الحديد اهـ ح. واحترز به عما لو سمى له غيره فلا تحل كما قدمناه وشمل ما إذا كان الذابح اثنين، فلو سمى أحدهما وترك الثاني عمدا حرم أكله كما في التتارخانية " ذابح سے مراد لیا ہے حیوان کو حلال کرنے والا، تاکہ یہ شامل ہو جائے تیر پھینکنے والے، شکار چھوڑنے والے اور چھری پکڑنے والے کو۔ اھ ح۔ اور ذابح کی قید سے احتراز کیا ہے، اس صورت سے کہ ذابح کے علاوہ کوئی اور تسمیہ پڑھے تو ذبیحہ حلال نہیں ہوگا، جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہے جب ذبح کرنے والے دو ہوں، تو اگر ان میں سے ایک نے تسمیہ پڑھا اور دوسرے نے جان بوجھ کر چھوڑ دیا تو اس کا کھانا حرام ہوگا، جیسا کہ تتارخانیہ میں ہے۔" (در مختار مع رد المحتار، ج 09، ص 504، مطبوعہ: کوئٹہ)
جو نفس ذبح میں مددگار ہو، اس پر تسمیہ پڑھنا شرط ہے۔ چنانچہ در مختار کی مذکورہ عبارت کے تحت جد الممتار میں ہے: "قال: ای الدر: (وتشترط) التسمیۃ من الذابح: ای لا من المعین اذا لم یعن فی نفس الذبح بامرارھما معاً السکین" فرمایا یعنی در مختار میں: اور ذابح کی طرف سے تسمیہ شرط ہے، نہ کے مدد کرنے والے کی طرف سے، جبکہ وہ نفسِ ذبح میں مددگار نہ ہو، بایں طور کہ وہ دونوں ایک ساتھ چھری چلائیں ۔" ملخصاً (جد الممتار، ج 06، ص 428. 429، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
در مختار میں ہے: "أراد التضحية فوضع يده مع يد القصاب في الذبح وأعانه على الذبح سمى كل وجوبا، فلو تركها أحدهما أو ظن أن تسمية أحدهما تكفي حرمت" اگر کسی نے قربانی کا ارادہ کیا اور ذبح کرنے میں قصاب کے ہاتھ کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی رکھا اور ذبح میں قصاب کی مدد کی، تو ہر ایک تسمیہ پڑھے گا لازمی طور پر۔ پس اگر ان میں سے کسی ایک نے تسمیہ چھوڑ دی، یا یہ گمان کیا کہ ایک کی تسمیہ کافی ہے، تو ذبیحہ حرام ہو جائے گا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 09، ص 551، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی قاضی خان میں ہے: "رجل اراد ان یضحی فوضع صاحب الشاۃ یدہ مع ید القصاب فی المذبح واعانہ علی الذبح حتی صار ذابحاً مع القصاب، یجب علی کل واحد منھما التسمیۃ حتی لو ترک احدھما التسمیۃ لاتحل الذبیحۃ وکذا لوعلم صاحب الشاۃ ان التسمیۃ شرط الا انہ ظن ان تسمیۃ احدھما تکفی لایحل اکلہ" ایک شخص نے قربانی کا ارادہ کیا، پس بکری کے مالک نے قصاب کے ہاتھ کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی آلہ ذبح یعنی چھری پر رکھا اور ذبح میں اس کی مدد کی، یہاں تک کہ وہ قصاب کے ساتھ ذبح کرنے والا بن گیا، تو ان دونوں میں سے ہر ایک پر تسمیہ واجب ہے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے ایک تسمیہ چھوڑ دے تو ذبیحہ حلال نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر بکری کا مالک جانتا ہو کہ تسمیہ شرط ہے، لیکن اس نے یہ گمان کیا ہو کہ ان دونوں میں سے ایک کی تسمیہ کافی ہے، تو اس کا کھانا حلال نہیں ہوگا۔ ملخصاً (فتاوی قاضی خان، ج 03، ص 243 مطبوعہ: بیروت)
فتاوی ظہیریہ میں ہے: "اراد ان یضحی فوضع یدہ علی السکین مع ید القصاب حتی تعاونا علی الذبح قال الشیخ الامام یجب علی کل واحد منھما التسمیۃ حتی لو ترکھا احدھما لایجوز" قربانی کا ارادہ کیا، پس قصاب کے ہاتھ کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھا یہاں تک کے دونوں نے ایک دوسرے کی ذبح پر مدد کی، تو شیخ امام فرماتے ہیں ان دونوں میں سے ہر ایک پر تسمیہ واجب ہے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی تسمیہ چھوڑی تو ذبیحہ حلال نہیں۔ (المسائل البدریۃ المنتخبۃ من الفتاوی الظھیریۃ، ج 02، ص 541، مطبوعہ: نوریہ رضویہ)
معین ذابح وہ ہےجس کی قوت ذبح میں شامل ہو۔ چنانچہ معین ذابح کی توضیح کرتے ہوئے اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: " وہ معین ذابح جس پر تکبیر کہنا ضرور ہے، وہ ہے کہ ذابح کا ہاتھ ضعیف ہو، تنہا اس کی قوت سے ذبح نہ ہو سکتا ہو، یہ شخص نفس فعل میں اس کی امداد کرے، اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھے اور ذبح دونوں قوتوں کے اجتماع سے واقع ہو ، اس حالت میں دونوں پر تکبیر لازم ہے۔ ایک بھی قصدا چھوڑے گا، ذبیحہ مردار ہوجائے گا "لانہ اذا اجتمع المبیح والمحرم غلب المحرم" (کیونکہ مباح کرنے والی اورحرام کرنی والی دلیلیں جمع ہوں، تو حرام کی دلیل کو غالب کیا جاتاہے۔ ت) (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 221، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید فرماتے ہیں: " معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذابح کا ہاتھ کمزور ہو، ذبح میں دقت دیکھے تو دوسرا اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر دونوں مل کر ہاتھ پھیریں، اس صورت میں دونوں پر تکبیر واجب ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی قصدا تکبیر نہ کہے گا، ذبیحہ مردار ہوجائے اگر چہ دوسرا تکبیر کہے" (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 218، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید فرماتے ہیں: "اصل ذابح پر تکبیر کہنی لازم اور اسی کی تکبیر کا فی ہے۔ سر یا پاؤں پکڑنے والے کی تکبیر کی اصلا حاجت نہیں نہ اس کا کافر مشرک ہونا کچھ مضر۔ ہاں اگر ایک نے دوسرے کو نفس ذبح میں مدد دی، مثلا زید ذبح کر تا ہے عمرو نے دیکھا اس کا ہاتھ ضعیف ہے ذبح میں دیر ہوگی اپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھ دیا اور دونوں نے مل کر چھری پھیری تو بیشک دونوں میں جو کوئی قصدا تکبیر نہ کہے گا جانور حرام ہوجائے گا ، یونہی اگر ان میں کوئی کافر مشرک تھا تو بھی ذبیحہ مردار ہوگیا۔" (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 215، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: " معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذبح کرنے میں اوس کا معین ہو یعنی دونوں نے مل کر ذبح کیا ہو دونوں نے چھری پھیری ہو مثلاً ذابح کمزور ہے کہ اوس کی تنہا قوت کام نہیں دے گی دوسرے نے بھی شرکت کی دونوں نے مل کر چھری چلائی۔ اگر دوسرا شخص جانور کو فقط پکڑے ہوئے ہے تو یہ معین ذابح نہیں اس کے پڑھنے نہ پڑھنے کو کچھ دخل نہیں۔ یہ اگر پڑھتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ ذابح کو بسم ﷲ یاد آجائے اور پڑھ لے۔ " (بہارشریعت، ج 03، ص 318، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
فتاویٰ امجدیہ میں ہے: "بےشک مُعِینِ ذابح پر تسمیہ واجب ہے، مگر مُعِینِ ذابح سے مراد وہ شخص ہے کہ چھری چلانے میں اس کا مددگار ہو کہ اس صورت میں دونوں نے مِل کر ذبح کیا ۔ اگر ایک نے بھی عمداً تسمیہ ترک کیا، جانور حرام ہے اور ذبح کے وقت جانور کے ہاتھ پاؤں پکڑنے والے پر تسمیہ واجب نہیں کہ یہ مُعِینِ ذابح نہیں کہ فعلِ ذبح میں اس کو دخل نہیں ۔" (فتاویٰ امجدیہ، ج 3، ص 296، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
مفتی آل مصطفی مصباحی علیہ الرحمہ فتاوی امجدیہ کے حاشیہ میں ارشاد فرماتے ہیں: " معین ذبح کی توضیح یہ ہے کہ ذبح کرنے میں ذابح کا معین و مددگار ہو، اس طرح کہ مثلاً ذابح کا ہاتھ ضعیف ہو اس کی قوت سے ذبح نہ ہو سکتا ہو، کوئی شخص نفس ذبح میں اس کی مدد کرے، ذابح کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر چھری پھیرے اور دونوں کی قوت سے ذبح واقع ہو ، ایسی صورت میں اگر کسی ایک نے بھی جان بوجھ کر بسم اللہ نہیں پڑھا تو ذبیحہ مردار ہوجائےگا ۔" (حاشیہ فتاویٰ امجدیہ، ج 3، ص 296، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
مفتی نظام الدین رضوی علیہ الرحمہ ذابح کا معنی و مفہوم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "اس بات پر اہل حق کا اجماع ہے کہ اسم فاعل کا اطلاق صرف مباشرِ فعل پر ہوگا مثلاً ضارب کا اطلاق مباشرِ ضرب پر، اور تالی کا اطلاق مباشرِ تلات پر ہوگا، یونہی ذابح کا اطلاق بالاجماع مباشرِ ذبح پر ہوگا " (مشینی ذبیحہ، ص 50، مطبوعہ: مکتبہ برکات المدینہ)
مزید فرماتے ہیں: "ذبح کرنا یہ ہے کہ ذابح کا فعل مخصوص (گلے کی رگوں کو کاٹنا) مذبوح میں پایا جائے، یعنی یہ فعل مذبوح کے ساتھ متصل ہو" (مشینی ذبیحہ، ص 49، مطبوعہ: مکتبہ برکات المدینہ)
تنبیہ ضروری: یاد رہے! اگر ذابح کے ساتھ چھری پکڑنے والا شخص بھی چھری کو حرکت دے اور اس کی کچھ نہ کچھ قوت ذبح میں شامل ہو جائے اگرچہ وہ قوت بہت معمولی ہو، تو اس صورت میں یہ شخص بھی ذابح شمار ہوگا اور اس پر تسمیہ پڑھنا لازم ہوگا۔ اس کی نظیر یہ مسئلہ ہے کہ اگر کسی مسلمان نے تسمیہ پڑھ کر شکار کے لیے تیر چلایا ہو اور وہ تیر خود جانور کو لگنے کے قابل ہو، لیکن بعد میں کسی مجوسی کا تیر آ کر اس تیر سے ٹکرا جائے، تو جانور حرام ہوگا؛ کیونکہ مجوسی کی قوت بھی فعلِ شکار میں شامل ہو گئی۔ اسی طرح جب اصل ذابح اپنی قوت سے جانور ذبح کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، لیکن دوسرا شخص بھی چھری کو حرکت دے کر اپنی کچھ قوت شامل کر دے، تو اس کی شرکت متحقق ہونے کی وجہ سے اس پر بھی تسمیہ لازم ہوگا۔
کافی للنسفی میں ہے: "ولو رمى سهما إلى صيد، ورمى رَجل آخرُ، فَأَصاب السهمُ الثَّانِي السَّهم الأَوَّلَ، وأمضاه حتى أصاب الصيد وقتله جرحًا .. إن كان السهمُ الأوَّل بحال يَبْلُغُ الصَّيد بدون السَّهمِ الثَّانِي: فالصَّيدُ للأول؛ لأنه سبق في الأخذ، وهو كاف بنفسه فإن كان الثَّانِي مُحرِمًا أو مجوسيا: لا يَحِلُّ استحسانًا؛ لأنه أوجب زيادةَ قُوَّةٍ في الأول، فأوجب الحرمة احتياطاً " "اگر کسی نے شکار کی طرف ایک تیر چلایا، اور دوسرے آدمی نے بھی تیر چلایا، پھر دوسرے شخص کا تیر، پہلے شخص کے تیر کو جا لگا اور اسے آگے بڑھا دیا یہاں تک کہ وہ شکار کو لگا اور زخم کر کے اسے مار ڈالا، تو اگر پہلے شخص کا تیر ایسی حالت میں تھا کہ دوسرے کے تیر کے بغیر بھی شکار تک پہنچ جاتا، تو شکار پہلے شخص کا ہوگا؛ کیونکہ اس نے شکار کو لینے میں سبقت کی ہے اور وہ از خود پہنچنے میں کافی تھا۔ پھر اگر دوسرا شخص مُحرِم یا مجوسی ہو، تو استحساناً وہ شکار حلال نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس نے پہلے تیر میں قوت کا اضافہ پیدا کیا، لہٰذا احتیاطاً اس سے حرمت ثابت ہوگی۔" ملخصاً (کافی شرح وافی، ج 09، ص 523، مطبوعہ دار المنھاج القویم)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری
فتوی نمبر: har-7449
تاریخ اجراء: 22 ذو الحجۃ الحرام 1447 ھ/08 جون 2026ء