مدرسے کے چندے سے خریدی جگہ بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مدرسہ کی جگہ خریدنے کے لیے کیے گئے چندہ سے عارضی مکان خریدنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنے طور پر چندے کے ذریعے ایک مدرسہ چلا رہا ہوں، پہلے مدرسہ ایک کرایہ کی جگہ پر لگتا تھا، جس کی وجہ سے مالی حوالے سے کافی پریشانی کا سامنا ہوتا تھا، میں نے کافی کوشش کی کہ مدرسے کے لئے کوئی ذاتی جگہ خرید لیں تاکہ کرایہ وغیرہ کے معاملات ختم ہوجائیں، اس سلسلے میں مخیر حضرات سے رابطہ کیا اور ابھی بھی رابطہ جاری ہے ، لیکن جو بجٹ اس مد میں جمع ہوا وہ اتنا نہیں تھا کہ مدرسے کے معیار کے مطابق کوئی جگہ خرید سکیں کیونکہ مدرسہ کے معیار کے مطابق جو جگہ مل رہی تھی وہ کافی مہنگی تھی، اس لئے میں نے یہ سوچا کہ جو بجٹ موجود ہے اور جو ابھی قریب میں ملنے کا امکان ہے اس کے مطابق ایک عارضی مکان خرید لیں اوراس پر مدرسے کو منتقل کردیں، بعد میں جب مزید بجٹ جمع ہوگا تو اس جگہ کو بیچ کر مدرسے کے معیار کے مطابق دوسری جگہ خرید لیں گے، لہذا میں نے ایک مکان خریدا اور اس کو وقف نہیں کیا بلکہ عارضی طور پر مدرسہ اس مکان میں منتقل کردیا ہے، تو اب میری یہ رہنمائی فرمائیں کہ کیا مزید بجٹ جمع ہونے پر میرا اس مکان کو بیچ کر مدرسے کے معیار کے مطابق دوسری جگہ خریدنا جائز ہے یا نہیں؟
نوٹ: چندہ دہندگان چندہ دینے کے بعد اس کام میں دخل اندازی نہیں کرتے، پھر بھی کچھ بڑے ڈونرز کو میں نے یہ سارا معاملہ بتادیا، انہوں نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا، بقیہ ڈونرز سے رابطہ نہیں ہوا لیکن میرے پاس تمام چندہ دہندگان کا ریکارڈ موجود ہے، اگر کبھی رابطہ کرنے کی حاجت پڑی تو ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
جواب
چندہ جب کسی مخصوص مصرف کے لئے وصول کیا جائے تو اسے خاص اسی مصرف میں خرچ کرنا لازم ہے اور کسی دوسرے کام میں چندہ دینے والوں کی اجازت کے بغیر خرچ کرنا، غصب اور ناجائز و گناہ ہے، نیز مدرسہ کی جگہ خریدنے کے لئے چندہ کیا جائے تو وہاں چندہ دینے والوں کا مقصود مستقل دینی مدرسے کے لئے جگہ خرید کر وقف کرنا ہوتا ہے نہ کہ بیچنے کے ارادے سے کوئی جگہ خرید کر عارضی مدرسہ قائم کرنا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے مدرسہ بنانے کے لئے چندہ کیا اور پھر اس سے بیچنے کے ارادے سے جگہ خریدی تو ایسا کرنے کی وجہ سے آپ غاصب و گناہ گار ہوئے، آپ پر اس گناہ سے توبہ لازم ہے۔
نیز وہ جگہ اب بھی چندہ دینے والوں کی ملکیت پر باقی ہے اور وہ سب اپنے حصے کے اعتبار سے اس جگہ میں شریک ہیں، آپ ان سے دوبارہ اجازت لئے بغیر کوئی تصرف نہیں کرسکتے، لہذا آپ ان سے دوبارہ رابطہ کریں، اگر وہ اسی جگہ کو وقف کرنے کا کہتے ہیں تو اسی کو وقف کردیں اور بیچنے کا کہتے ہیں تو بیچ کر جس کام کی وہ اجازت دیں، اس میں رقم صرف کریں، از خود اس جگہ کو بیچ کر دوسری جگہ مدرسہ بنانا جائز نہیں۔ یاد رہے کہ اجازت سب سے لینی ہوگی ،خواہ کسی نے زیادہ چندہ دیا ہو یا کم، یونہی اگر وہ اس جگہ کو وقف کرنے کا کہتے ہیں تو وقف پر جو واقف کو حق حاصل ہوتا ہے، وہ سب چندہ دینے والوں کر برابر حاصل ہوگا اس حق میں چندے کی کمی بیشی کا لحاظ نہیں ہوگا۔
چندہ جس خاص مقصد کے لئے دیا جائے اسی میں صرف کرنا لازم ہے، دوسرے مصرف میں صرف کرنا جائز نہیں، چندہ دہندگان کی اجازت کے بغیر خلاف مصرف میں استعمال کرنے والا غاصب و گناہگار ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن چندہ کو خلاف مصرف میں استعمال کرنے والے کے متعلق لکھتے ہیں: "زر چندہ شرعاً ملک چندہ دہندہ پر باقی رہتا ہے کما حققناہ فی فتاوٰنا (جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) اس میں اجازت چندہ دہند گان پر مدار ہے اگر قدیم سے معمول یتیم خانہ رہا ہو کہ جو یتیم حدیتیم شرعی سےنکل کر بالغ ہو جائیں اور وہ بھی اپنے لئے رزق حلال کسب کرنے کے قابل ہونے تک ان کو یتیم خانہ میں رکھا جاتا اور زرچندہ سے ان کا خرچ کیا جاتا ہو، چندہ دہندگان اس پر آگاہ ہوا کئے اور اس پر راضی رہا کئے تو اب بھی جائز ہے لان المعروف کالمشروط و الاجازۃ دلالۃ کالاذن الصریح (کیونکہ معروف چیز مشروط چیز کی طرح ہوتی ہے اور دلالۃً اجازت بھی صریح اجازت کی طرح ہے۔ ت) اور اگر پہلے سے یہ معہود اور معروف نہ رہا اور اب تمام چندہ دہندوں سے اجازت لینی ممکن ہوتو اجازت لے کر کرسکتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر کوئی اجازت نہ دے یا جس قدر پر اجازت پائی اس سے زیادہ اس کام میں اٹھایا جائے تو ضرور حرام ہوگا اور اس کا مواخذہ مہتمموں پر رہیگا اور جن جن کا وہ چندہ تھا ان سب کا تاوان ان پر لازم آئے گا لانھم تعدوا علی اموالھم والمتعدی غاصب و الغصب مضمون (کیونکہ انہوں نے دوسرے کے مال پر تعدی کی ہے اور تعدی غصب ہے اور غاصب سے ضمان لیاجاتا ہے۔ت)۔ (فتاویٰ رضویہ ج 16، ص 242، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: یہ چندے جس خاص غرض کے لئے کئے گئے ہیں ، اس کے غیر میں صرف نہیں کئے جاسکتے ، اگر وہ غرض پوری ہوچکی ہو تو جس نے دیئے ہیں اس کو واپس کئے جائیں یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کریں۔ (فتاوی امجدیہ، ج 3، ص 39، مطبوعہ: مکتبہ رضویہ، کراچی)
ایک اور مقام پر آپ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : دینے والے جس مقصد کے لیے چندہ دیں یا کوئی اہل خیر جس مقصد کے متعلق اپنی جائیداد وقف کرے اسی مقصد میں وہ رقم یاآمدنی صرف کی جاسکتی ہے، دوسرے میں صرف کرنا، جائز نہیں مثلا اگر مدرسہ کے لئے ہو تو مدرسہ پر صرف کی جائے اور مسجد کے لئے ہو تو مسجد پر۔ (فتاوی امجدیہ، ج3، ص 42، مطبوعہ: مکتبہ رضویہ، کراچی)
مدرسے کی عمارت کے لئے چندہ دینے والوں کا مقصود نفع عام مسلمین کے لئے دینی مدرسہ کے لئے مستقل عمارت خریدکر وقف کرنا ہوتا ہے نہ کہ اپنی ملکیت میں باقی رکھنا، لہذا مشترکہ چندے سے خریدی گئی عمارت میں سب چندہ دہندگان شریک ہونگے، پھر جب اس کو وقف کردیا جائے، تو اس کے بعد واقف کو وقف پر حاصل ہونے والاحق سب چندہ دینے والوں کو برابر حاصل ہوگا اس میں چندے کی کمی بیشی کا لحاظ نہیں ہوگا۔ چنانچہ اس کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: جبکہ انہوں (چندہ دینے والوں) نے مدرسہ بنانے کے لئے خالد کو چندہ دیا تو اسے شراء زمین و تعمیر کا ماذون کیا اور ان کا روپیہ ان کے اذن سے اس نے شراء و تعمیر میں صرف کیا تو وہ زمین و عمارت تمام مشتریوں اور چندہ دہندوں کی ہوئی جس کا ایک پیسہ چندہ ہو اور جس کا ہزار روپے سب شریک ہیں اور جبکہ دینی مدرسہ نفع عام مسلمین کے لئے بنانا مقصود تھا اس میں کسی کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ میں کسی جز کا مالک رہوں اور اس سے انتفاع ایک مدت محدود تک ہو پھر میری ملک میں واپس آئے جبکہ اپنی ملک سے خارج کرکے ہمیشہ کے لئے نفع مسلمین کے واسطے کردینا مقصود ہوتا ہے اور یہی حاصل وقف ہے ۔ ۔ ۔ اور حق کہ واقف کو وقف پر ہوتا ہے سب کو بروجہ کمال یکساں حاصل ہوا اس میں کمی و بیشی چندہ پر لحاظ نہ ہوگا کہ یہ حق متجزی نہیں اور حق غیر متجزی ہر شریک کے لئے کاملا حاصل ہوتا ہے، ملتقطا۔ (فتاویٰ رضویہ ج 16، ص 126، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاھور)
چندے کے ذریعے خریدی گئی مسجد یا مدرسے کی جگہ کو جب تک چندہ دینے والے یا ان کا وکیل ماذون وقف نہ کرے اس وقت وہ وقف نہیں ہوگی بلکہ چندہ دینے والوں کی ملکیت پر باقی رہے گی، ان کی اجازت سے اس کو بیچ سکتے ہیں ۔ چنانچہ مسجد کے متعلق ایک اسی طرح کی صورت کا جواب دیتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الحنان لکھتے ہیں : اگر چندہ دینے والے سب یا ان کا وکیل ماذون بعد خریداری زمین یہ کہہ دیتا کہ اس زمین کو مسجد کیا تو وہ کل مسجد ہوجاتی اور اس میں سے کسی جزو کی بیع یا کوئی تصرف مالکانہ مطلقاً حرام ہوتا لیکن ظاہراً یہاں ایسا واقع نہ ہوا بلکہ زمین خریدی گئی کہ اس میں مسجد بنائی جائے گی اور بنانے میں تصحیح سمت کے سبب ایک حصہ چھوٹ گیا، جس قدر بنی وہی مسجد سمجھی گئی اور ا س میں نماز جاری ہوئی، حصہ متروکہ کو اگرچندہ دہندوں یا ان کے وکیل ماذون نے وقف علی المسجد کردیا تو اب بھی اس کی بیع ناجائز ہوئی مگر سوال سے اس صورت کاوقوع بھی ظاہر نہیں ہوتا، صرف اتنا ہوا کہ وہ چندہ دے کر اس روپے اور زمین سے بے تعلق ہوگئے اور یہ ملک سے خارج ہونے کا موجب نہیں ، جب تک وقف شرعی نہ پایا جائے یہ بیع اور اس روپے کا مسجدمیں صرف کرنا اگر اجازت مالکان سے تھا یا بعد وقوع انہوں نے اجازت دے دی تو دونوں تصرف صحیح ہوگئے، اور اگر مشتری کی خریداری اور زینہ بنالینے کو ایک کافی زمانہ گزرا اور مالکوں نے تعرض نہ کیا تو یہ بھی اجازت سمجھی جائے گی، فقط، و اللہ تعالٰی اعلم۔ (فتاویٰ رضویہ ج 16، ص 422، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Har-7266
تاریخ اجراء: 27 رجب المرجب 1447 ھ/ 17 جنوری 2026ء