logo logo
AI Search

مسجد کی بجلی اور موٹر سے باہر نل لگانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لوگوں کے پانی بھرنے کے لیے مسجد کی بجلی اور موٹر سے مسجد سے باہر نل لگانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد میں پانی کا انتظام (مثلاً پانی کا بور، موٹر اور ٹینکی وغیرہ) مسجد کے چندے سے ہو اور بِل بھی مسجد کے چندے ہی سے دیا جا رہا ہو، تو کیا مسجد کے باہر لوگوں کے پانی بھرنے کے لئے ٹونٹی لگا سکتے ہیں، تاکہ وہ دکان یا گھر میں استعمال کے لئے پانی بھر سکیں؟ نیز اگر کسی خاص شخص نے مسجد کے لئے بور کروایا تھا، اب اس سے اجازت لے لی جائے اور بِل بھی لوگ ہی ادا کرتے رہیں، تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں لوگوں کے پانی بھرنے کے لئے مسجد کے باہر ٹونٹی لگانا، جائز نہیں، کیونکہ اس کے لئے مسجد کی موٹر، ٹینکی اور بجلی وغیرہ استعمال ہوگی اور مسجد کی اشیاء مسجد ہی کے استعمال کے لئے ہوتی ہیں، نہ کہ دوسروں کے لئے۔ نیز جو پانی مسجد کی ٹینکی میں آجاتا ہے، وہ مسجد کی ملک ہوجاتا ہے اور اب اسے مسجد سے باہر لے جانا، مسجد کے پانی کو بلااجازت شرعی لے جانا ہوگا، لہذا یہ جائز نہیں۔ اور اگر کسی خاص شخص نے مسجد کے لئے بور کروایا تھا، اب وہ اجازت دیدے اور بِل بھی لوگ ہی ادا کریں، تب بھی یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا، کیونکہ اُس شخص کی اجازت یا لوگوں کے بِل ادا کر دینے کی وجہ سے مسجد کی اشیاء کا استعمال جائز نہیں ہوجائے گا، بلکہ بدستور ناجائز ہی رہے گا۔

مسجد کی کوئی بھی چیز خلافِ مصرف استعمال کرنا، جائز نہیں۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: متولی المسجد لیس لہ ان یحمل سراج المسجد الی بیتہ و لہ ان یحملہ من البیت الی المسجد“ ترجمہ: مسجد کے متولی کے لئے جائز نہیں کہ وہ مسجد کا چراغ گھر میں لے جائے، ہاں! گھر کا چراغ مسجد میں لا سکتاہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 2، ص 462، مطبوعہ دار الفکر)

اسی بارے میں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: مسجد کی اشیاء ،مثلاً لوٹا ،چٹائی وغیرہ کو کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کرسکتے، مثلاًلوٹے میں پانی بھر کر اپنے گھر نہیں لیجاسکتے، اگرچہ یہ ارادہ ہو کہ پھر واپس کر جاؤں گا، اُسکی چٹائی اپنے گھر یا کسی دوسری جگہ بچھانا، نا جائز ہے، یونہی مسجد کے ڈول رسی سے اپنے گھر کے لئے پانی بھر نا یا کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بے محل استعمال کرنا، نا جائز ہے۔ (بھار شریعت، ج 2، ص 561 تا 562، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

یہی حکم پانی کے بارے میں بھی ہے۔ چنانچہ البحر الرائق میں ہے: و لو اتخذھا للتوضوء لا یجوز الشرب منه بالاجماع“ ترجمہ: اور اگر سقایا وضو کے لیے بنایا، تو بالاجماع اس سے پانی پینا جائز نہیں ہے۔ (البحر الرائق، ج 5، ص 275، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

اسی بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: اگر وقف کا پانی ہے، تو اس میں نہ کسی کو تغیر کا اختیار، نہ کسی کی اجازت کا اعتبار۔ فی البحر ثم الدر من الوضوء: مکروھہ الاسراف فیہ لو بماء النھر و المملوک لہ،اما الموقوف علی من یتطھر بہ و منہ ماء المدارس فحرام اھ و فی ش عن الحلیۃ:لانہ انما یوقف و یساق لمن یتوضا الوضوء الشرعی و لم یقصد اباحتھا لغیر ذٰلک اھ“ ترجمہ: بحر پھر در مختار کے باب الوضو میں ہے: وضو میں پانی کا اسراف مکروہ ہے، خواہ نہر کا پانی ہو یا اپنا مملوک پانی ہو۔ بہرحال جو پانی پاکی حاصل کرنے والوں کے لیے وقف ہوتا ہے، جس میں مدارس کا پانی بھی شامل ہے، اس کا اسراف حرام ہے اور در مختار کی شرح فتاوی شامی میں حلیہ کے حوالہ سے منقول ہے: اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی انہی لوگوں کے لیے وقف کیا جاتا اور رکھا جاتا ہے، جو شرعی وضو کرنا چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ کے لئے اس کی اباحت مقصود نہیں ہوتی۔ (فتاوی رضویہ، ج 2، ص 483، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اوربہارِ شریعت میں ہے: جاڑوں میں اکثر جگہ مسجد کے سقایہ میں پانی گرم کیا جاتا ہے، تاکہ مسجد میں جو نمازی آئیں، اس سے وضو و غسل کریں، یہ پانی بھی وہیں استعمال کیا جاسکتا ہے، گھر لے جانے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح مسجد کے لوٹوں کو بھی وہیں استعمال کر سکتے ہیں، گھر نہیں لے جا سکتے۔ بعض لوگ تازہ پانی بھر کر مسجد کے لوٹوں میں گھر لے جاتے ہیں، یہ بھی ناجائز ہے۔ (بھارِ شریعت، ج 3، ص 387، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: نل کے پانی کی قیمت مسجد کے مال سے ادا کی جاتی ہو، تو گھروں کو لے جانا، جائز نہیں۔ (فتاویٰ مصطفویہ، ص 269، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)

مفتی محمد وقار الدین قادری علیہ رحمۃ اللہ الباری سے مسجد کا پانی باہر لے جانے کے بارے میں سوال ہوا، تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: مسجد اور اوقاف کی ہر چیز انسانوں کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی خالص ملکیت ہو جاتی ہے اور جب وقف ہوتا ہے، تو وقف کرنے والا اپنی ملکیت سے نکال کر رضاء الٰہی کے لئے مصارفِ متعینہ میں خرچ کرنے کے لئے سپردِ خدا کر دیتا ہے، تو پھر وقف کی کسی چیز کو کوئی شخص اپنے ذاتی مصرف میں نہیں لا سکتا اور متولی یا کمیٹی کو بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ وقف کی کسی چیز کو اپنے ذاتی کام میں استعمال کریں یا کسی کو استعمال کرنے کی اجازت دیں ۔ ۔ ۔ اس لئے مسجد کا پانی کوئی شخص گھر نہیں لے جاسکتا، صرف مسجد میں استعما ل کر سکتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جو لوگ پانی گھروں میں لے جاتے ہیں وہ گناہ گار ہیں، انہیں توبہ کرنی چاہیے۔ (وقار الفتاوی، ج 2، ص 317، مطبوعہ، بزم وقار الدین، کراچی)

اسی طرح کے سوال کے جواب میں مفتی خلیل خان قادری برکاتی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: مسجد کی کسی چھوٹی چیز کو بھی بے محل اور بے موقع استعمال کرنا، ناجائز ہے، مثلاً مسجد کے سقایہ کی آگ گھر لے جانا یا لوٹا، چٹائی وغیرہ یا کسی دوسری غرض میں استعمال کرنا، یوہیں سقایہ کا پانی گھر لے جانا یا مسجد کے لوٹے میں پانی بھر کے اپنے گھر میں استعمال کرنا یا مسجد کے ڈول رسی سے اپنے گھر کے لئے پانی بھرنا۔ اسی حکم میں مسجد کی ٹنکی کا پانی جو نمازیوں کے وضو غسل کے لئے ہوتا ہے، اپنے گھریلو استعمال میں لانا،کہ ناجائز ہے، تو سرکاری نل سے آنے والا پانی اگر مسجد کی ٹنکی میں آچکا، تو مسجد کی ملک ہو گیا، اسے اب گھریلو استعمال میں لانا جائز نہیں۔ (فتاویٰ خلیلیہ، ج 2، ص 538، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: GUJ-0062
تاریخ اجراء: 13 جمادی الاولیٰ 1447ھ / 05 نومبر 2025ء