logo logo
AI Search

روزے میں مسواک کا ریشہ نگلنے سے روزہ ٹوٹے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نفلی روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے کوئی ریشہ پیٹ میں چلا جائے، تو کیا حکم ہے

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر نفلی روزے کی حالت میں مسواک کا ایک چھوٹا ریشہ مسواک کرنے کے دوران پیٹ میں چلا جائے، تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ نیز اگر شک ہے کہ پیٹ میں گیا ہے یا نہیں، تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

روزہ فرض ہو یا نفل، اگر مسواک کا کوئی ریشہ بغیر چبائے حلق سے نیچے اتر گیا، تو روزہ یاد ہونے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا، اگرچہ وہ ریشہ تِل کے دانے کے برابر ہو یا اس سے کم، بہر صورت حکم ایک ہی ہے، کیونکہ حالتِ روزہ میں خارج سے کوئی چیز منہ میں ڈال کر حلق سے نیچے اتاری جائے تو بغیر چبائے نگلنے کی صورت میں بہر صورت روزہ ٹوٹ جاتا ہے، وہ چیز قلیل ہو یا کثیر، سب کا حکم یکساں ہے۔

جوہرۃ النیرہ میں ہے: ولو ابتلع سمسمة بين اسنانه لا يفطر و ان تناولها من الخارج و ابتلعها من غير مضغ، افطر‘‘ ترجمہ: اگر روزہ دار نے دانتوں میں موجود تل نگل لیا ،تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اور اگر باہر سے منہ میں ڈالا اور بغیر چبائے نگل گیا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ (جوھرۃ النیرہ، کتاب الصوم، ج 1، ص 170 مطبوعہ، قدیمی کتب خانہ، کراچی)

تبیین الحقائق میں ہے: و اما اذا ادخله من خارج، فينظر ان ابتلعه من غير مضغ، فطره، قل او كثر‘‘ ترجمہ: بہر حال جب باہر سےکوئی چیز داخل کی، تو دیکھا جائےکہ اگر بغیر چبائے نگل لی، تو روزہ ٹوٹ جائے گا، (وہ چیز ) کم ہو یا زیادہ۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 325، مطبوعہ: ملتان)

حضرت علامہ مولانا ہاشم ٹھٹھوی سندھی رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں: فان اخرجہ من فیہ، ثم اکلہ فانہ یفسد الصوم بالاتفاق، سواء کان قلیلاً او کثیراً کذا فی حاشیۃ الحلبی علی شرح الوقایۃ، اما فساد الصوم فی الکثیر فظاھر و اما فی القلیل، فلانہ بعد ما اخرجہ صار بحیث یستطاع الامتناع عنہ‘‘ ترجمہ: اگر کسی نے منہ میں موجود چیز کو نکالا، پھر کھا لیا، تو بالاتفاق روزہ فاسد ہو جائے گا، چاہے وہ چیز کم ہو یا زیادہ، اسی طرح شرح وقایہ پر حاشیہ حلبی میں ہے، بہرحال کثیر میں روزے کے فساد کا حکم تو ظاہر ہے، قلیل میں بھی فساد روزہ کا حکم اس لئے ہے کہ نکالنے کے بعد اسے منہ میں ڈالنے سے بچنا ممکن ہے۔ (مظھر الانوار، صفحہ 274 تا 275، مکتبہ مجددیہ نعیمیہ)

البتہ اگر مسواک کے ریشے کو چبایا، تو اس کی درج ذیل چند صورتیں بنتی ہیں:

1. چنے کے برابر یا اس سے زیادہ مسواک کا ریشہ چبایا اور وہ حلق سے نیچے اتر گیا، تو روزہ یاد ہونے کی صورت میں مطلقاً روزہ ٹوٹ جائے گا، چاہے اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو یا نہ ہو۔

2. اگر مسواک کا ریشہ چنے سے کم مثلاً گند م یا تِل کے دانے کے برابر ہو، تو اسے چبانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، جبکہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس نہ ہوا ہو، کیونکہ اتنی مقدار کی کوئی چیز چبانے سے وہ دانتوں میں ہی پھیل جاتی ہے، حلق میں نہیں جاتی۔ ہاں! اس دوسری صورت میں بھی اگر اس چیز کا ذائقہ حلق میں محسوس ہوا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔

تبیین الحقائق میں ہے: و اما اذا ادخله من خارج، فينظر ان ابتلعه من غير مضغ فطره، قل او كثر وان مضغه ينظر، ان كان قدر الحمصة فكذلك و ان كان اقل لا يفطره‘‘ ترجمہ: بہر حال اگر روزہ دار نے باہر سے منہ میں کوئی چیز داخل کی، تو دیکھا جائے کہ اگر اس نے بغیر چبائے نگل لی، تو روزہ فاسد ہو جائے گا، چاہے وہ قلیل ہو یا کثیر اور اگر اس نے چبائی، تو چنے کی مقدار چیز چبانے (اور حلق سے اتر جانے) میں بھی فسادِ روزہ کا ہی حکم ہے، ہاں! اگر چنے سے کم ہو، تو روزہ فاسد نہیں ہو گا (مگر جبکہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو)۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 325، مطبوعہ: ملتان)

بحر الرائق میں ہے: لو اخرجہ، ثم ابتلعہ فسد صومہ کما لو ابتلع سمسمۃ او حبۃ حنطة من خارج، ۔ ۔ بخلاف ما لو مضغها حيث لا يفسد، لانها تتلاشى، الا اذا كان قدر الحمصة، فان صومه يفسد و فی الكافی فی السمسمة قال: ان مضغها لا يفسد الا ان وجد طعمها فی حلقه، قال فی فتح القدير: و هذا حسن جداً، فليكن الاصل فی كل قليل مضغه‘‘ ترجمہ: اگر روزہ دار نے (منہ میں موجود چیز کو)منہ سے نکالا، پھر نگل گیا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا جیساکہ کوئی شخص تل یا گندم کے دانے کو باہر سے منہ میں ڈال کر نگل جائے، ( تو روزہ فاسد ہو جاتا ہے)، ۔ ۔ ۔ برخلاف اس صورت میں کہ جب اتنی مقدار کو چبا لیا، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ اتنی چیز دانتوں میں پھیل جاتی ہے، ہاں! اگر چبائی جانے والی چیز چنے جتنی ہو تو (حلق میں اتر جانے سے) روزہ فاسد ہو جائے گا اور کافی میں تِل کے متعلق فرمایا: اگر اسے چبایا تو روزہ نہ ٹوٹے گا، مگر یہ کہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو، (تو ٹوٹ جائے گا)۔ فتح القدیر میں (ذائقہ محسوس ہونے والے حکم کے متعلق) فرمایا: یہ بہت اچھا ہے، چاہئے کہ ہر چبائی جانے والی قلیل چیز میں یہ حکم لاگو ہو۔ (بحر الرائق، جلد 2، صفحہ 478، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ ہاشم ٹھٹھوی سندھی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: فان مضغ حبۃ حنطۃ لا یفسد صومہ، لانھا تتلاشی بالمضغ، کذا فی فتاوی قاضیخان والتاتارخانیۃ، فان کان الحنطۃ قدر الحمصۃ یفسد صومہ وان مضغ، لما فی التبیین۔ ۔ اذا مضغ سمسمۃ، ثم ابتلعھا لم یفطر، لانہ لا یغلب علی الظن دخولھا فی حلقہ، لانھا تتلاشی بالمضغ فلا یفطر الا ان یجد طعمھا فی حلقہ، کذا فی السراج الوھاج، قال فی فتح القدیر: و ھذا الاستثناء المذکور بقولہ الا اذا وجد طعمھا فی حلقہ حسن جداً، فلیکن الاصل فی کل قلیل مضغہ کذا فی البحر الرائق و النھر الفائق و ھذا الذی ذکرنا من عدم فساد الصوم بمضغ السمسم عند عدم وجدان الطعم فی الحلق مقید بان یکون السمسم اقل من قدر الحمصۃ، اما اذا کان مثل الحمصۃ او اکثر، فان صومہ یفسد و ان مضغھا

ترجمہ: اگر گندم کے دانے کو چبایا تو روزہ فاسد نہیں ہو گا، کیونکہ چبانے کے ساتھ وہ پھیل جائے گا، یونہی فتاوی قاضی خان اور تاتارخانیہ میں ہے اور اگر گندم کا دانہ ہی چنے برابر ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اگرچہ اسے چبایا جائے، جیسا کہ تبیین میں (اس کے متعلق گزر چکا) ہے، ۔ ۔ جب تِل کو چبایا پھر نگلا تو روزہ فاسد نہ ہوا، کیونکہ اتنی چیز کے حلق میں داخل ہونے کے متعلق ظنِ غالب نہیں ہوتا، کیونکہ اتنی مقدار چبانے کے ساتھ پھیل جاتی ہے، مگر جب حلق میں اس کا ذائقہ محسوس ہو، (تو روزہ ٹوٹے گا) جیسا کہ سراج الوھاج میں ہے اور فتح القدیر میں ہے: حلق میں ذائقہ محسوس ہونے والا استثناء بہت اچھا ہے، چاہئے کہ ہر چبائی جانے والی قلیل چیز میں یہی حکم لاگو ہونا چاہئے، جیسا کہ بحر الرائق اور نہر الفائق میں ہے اور یہ جو ہم نے بیان کیا کہ تِل کو چبانے کی صورت میں حلق میں ذائقہ محسوس نہ ہو، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، مقید ہے اس سے کہ وہ تِل، چنے کی مقدار سے کم ہو، بہرحال اگر چنے جتنا یا اس سے زیادہ ہوا تو (نگلنے سے) روزہ ٹوٹ جائے گا، اگرچہ اسے چبایا ہو۔ (مظھر الانورار، صفحہ 240 تا 241، مکتبہ مجددیہ نعیمیہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2453
تاریخ اجراء: 11 ربیع الاول 1447ھ / 05 ستمبر 2025ء