جس جانور کے سینگ نکال دئیے گئے ہوں اس کی قربانی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس جانور کے سینگ نکال دئیے گئے ہوں اس کی قربانی
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے قربانی کا ایسا جانور خریدا جس کے سینگ جَڑ سے نکا ل دیے گئے تھے، پھر اس کا زَخْم بھر کر ٹھیک ہوگیا اور وہاں کھال (Skin) جُڑ کر مکمل ٹھیک ہوگئی تو اب کیا ایسے جانور کی قربانی ہو جائے گی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ تفصیل اس مسئلہ میں یہ ہے کہ جس جانور کا سینگ ٹوٹ گیا ہو، اگر سر کے اوپر والا حصّہ ٹوٹا ہو جو ظاہر ہوتا ہے تو قربانی جائز ہے اور اگر سر کے اندر جَڑ تک ٹوٹے تو قربانی جائز نہیں لیکن اس صورت میں اگر سر کا زَخْم بھر جائے جیساکہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو اب قربانی جائز ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017ء