قربانی کے پیسے چوری ہوگئے تو کیا ثواب ملے گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قربانی کے لئے جمع شدہ پیسہ چوری ہو گیا تو کیا ثواب ملے گا اور قربانی لازم ہونے کے متعلق احکام
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی انسان نے 20 ہزار روپیہ قربانی کے لیے رکھا تھا، وہ پیسہ چوری ہوگیا، پیسہ ملا نہیں، تو کیا قربانی کرنے کا ثواب ملے گا؟
جواب
نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے، مزید ایک حدیثِ قدسی کے مطابق جب بندہ کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور پھر وہ اسے سرانجام نہ دے، تب بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ ان احادیثِ طیبہ کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ جس شخص نے قربانی کی نیت سے پیسے رکھے تھے اور وہ چوری ہوگئے، تو اسے اس نیک کام کی نیت کا ثواب ضرور ملے گا۔ تاہم یہ یاد رہے کہ کسی چیز پر ثواب مل جانا جدا چیز ہے اور اس عمل (مثلاً فرض یا واجب) کا ادا ہوجانا اور چیز ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگرچہ اس نیک نیت کا اجر مل جائے گا، لیکن ان پیسوں کے چوری ہونے کے بعد اب اس شخص پر قربانی کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟ اس کی درج ذیل دو صورتیں ہیں:
(1) اگر اُس رقم کے چوری ہونے کے بعد وہ صاحبِ نصاب نہیں رہتا، تو اس پر قربانی لازم نہیں ہوگی۔
(2) اور اگر اس رقم کے چوری ہونے کے بعد بھی وہ صاحبِ نصاب رہتا ہے، تو اب اس پر قربانی کرنا لازم ہوگا۔
نوٹ: یاد رہے کہ یہاں صاحبِ نصاب سے مراد وہ شخص ہے کہ جس کی ملکیت میں قربانی کے دنوں میں حاجت اصلیہ (یعنی وہ چیزیں جن کی انسان کو حاجت رہتی ہے، جیسے رہائش گاہ، خانہ داری کے وہ سامان جن کی حاجت ہو، سواری اور پہننے کے کپڑے وغیرہ ضروریاتِ زندگی) سے، اور اگر ذمے پر قرض ہو، تو اس سے زائد، دوسو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں، یا سونا، چاندی، ہر ایک، اپنی ذات میں نصاب سے کم ہو، لیکن جتنی مقدار میں ہیں، اُن کی مجموعی قیمت، ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچتی ہو، یا ایسا کوئی سامان، یا جائیداد وغیرہ ہو، کہ تنہا اس کی، یا اس کے ساتھ دوسرے مال (رقم یا زیور وغیرہ) کو ملانے سے، اس کی قیمت (فی زمانہ) ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو ایسا شخص، نصاب کا مالک ہوتا ہے، اور اُس پر قربانی واجب ہوتی ہے۔
چنانچہ اچھی نیت کی اہمیت کے متعلق صحیح بخاری میں ہے ”إنما الأعمال بالنيات، و إنما لكل امرئ ما نوى“ ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے، جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح بخاری، صفحہ 13، رقم الحدیث 01، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
نیکی کا ارادہ کرنے پر بھی ثواب ملنے کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے ”عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: قال اللہ عز وجل: إذا هم عبدي بحسنة و لم يعملها كتبتها له حسنة، فإن عملها كتبتها عشر حسنات إلى سبعمائة ضعف“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ کسی نیکی کا ارادہ کرے اور پھر اسے نہ کرسکے، تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہوں اور اگر وہ نیکی کر بھی لے، تو میں اس کے لیے دس گنا سے سات سو گنا تک لکھ دیتا ہوں۔ (صحیح مسلم ، صفحہ 66، رقم الحدیث 204، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اسی طرح کی ایک حدیثِ مبارک کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے معلوم ہوا کہ نیکی کا ارادہ بھی نیکی ہے اس پر بھی ثواب ہے مگر ثواب اور چیز ہے اداء فرض اور چیز لہذا صرف ارادہ سے فرض ادا نہ ہوگا۔ (مراۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 384، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
کسی نیک کام کو کرنے کی نیت اور کوشش پر اس کا ثواب ملنے کے متعلق مبسوط للسرخسی میں ہے (إنما الأعمال بالنيات، و إنما لكل امرئ ما نوى)، فإذا نوى العامل بعمله التمكن من إقامة الطاعة ۔ ۔ ۔ كان مثابا على عمله باعتبار نيته“ ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے،جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ اگر کوئی شخص اپنے عمل سے کسی نیکی کو کرنے پر قدرت حاصل کرنے کی نیت کرے، تو اسے اپنی اسی نیت کے اعتبار سے اپنے عمل کا ثواب ملے گا۔ (مبسوط للسرخسی، جلد 30، صفحہ 254، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
حج کے ارادے سے پیسے جمع شروع کیے اور مکمل ہونے سے پہلے فوت ہوجانے والے شخص کو ثواب ملنے یا نہ ملنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فتاوی بحر العلوم میں ہے زید کو ضرور حج کا ثواب ملے گا۔ حدیث شریف میں ہے: نية المؤمن خير من عمله یعنی نیتِ صادقہ پر ثواب ملتا ہے۔ اور یہاں تو زید نے حتی المقدور اس کی تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ (فتاوی بحر العلوم، جلد 2، صفحہ 280، شبیر برادرز، لاہور)
پیسے چوری ہوگئے، جس وجہ سے قربانی کا نصاب باقی نہ رہا، تو قربانی لازم نہ ہونے کے متعلق الجوہرۃ النیرۃ میں ہے ”فلو جاء من يوم النحر وله مائتا درهم أو أكثر فسرقت منه أو هلكت أو نقص عددها فلا أضحية عليه، ولو جاء يوم الأضحى ولا مال له ثم استفاد مائتين في أيام النحر فعليه الأضحية إذا لم يكن عليه دين“ ترجمہ: اگر کوئی قربانی کے دن آئے اور اس کے پاس دو سو درہم (ساڑھے باون تولے چاندی کی بقدر) یا اس سے زیادہ ہو ں پھروہ چوری ہو گئے یا ہلاک ہوگئے یا (ساڑھے باون تولے چاندی کی مقدار سے) کم ہوجائے، تو اس پر قربانی لازم نہیں اور اگر وہ قربانی کے دن آئے اور اس کے پاس کوئی مال نہ ہو، پھر ایامِ قربانی میں دو سو درہم حاصل کرلے، تو اس پر قربانی لازم ہوگی جبکہ اس پر قرض نہ ہو۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 2، صفحہ 452، مطبوعہ: لاہور)
قربانی واجب ہونے کا نصاب بیان کرتے ہوئے بدائع الصنائع میں علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی حنفی (متوفی 587ھ) فرماتے ہیں: فلا بد من اعتبار الغنى و هو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه و ما يتأثث به و كسوته و خادمه و فرسه و سلاحه و مالا يستغنی عنه" ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دوسو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یا رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیا جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیزہو، جو اس (دو سو درہم یا بیس دینار) کی قیمت کو پہنچتی ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیہ، ج 4، ص 196، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کےسوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو ، جس کی قیمت دوسو درہم ہو، وہ غنی ہے، اس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان، جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائد ہیں۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 333، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5092
تاریخ اجراء: 30 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 16 جون 2026ء