logo logo
AI Search

مرد و عورت کیلئے مہر کی رقم پر قربانی کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بقدرِ نصاب مہر جو ابھی ادا نہیں کیا، کیا اس کی وجہ سے قربانی لازم ہوگی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس شخص کے ذمہ بیوی کا مہرِ مؤجل (جو طلاق یا وفات کے وقت دینا ہوگا) دو لاکھ روپے ہوں، تو کیا مہر کے دو لاکھ نکالنے کے بعد اس کی قربانی کا نصاب شمار کیا جائے گا یا مہر کی رقم نکالے بغیر شمار کیا جائے گا؟ اور کیا اس مہر کی وجہ سے بیوی مالک نصاب سمجھی جائے گی اور اس پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں شوہر کی قربانی کا نصاب مہر کی رقم نکالے بغیر شمار کیا جائے گا کہ جس طرح مہر مؤجل شوہر پر زکوٰۃ واجب ہونے سے مانع نہیں اسی طرح قربانی واجب ہونے سے بھی مانع نہیں، لہذا اگر اس کے پاس صرف اتنا مال ہے، جو قربانی کے نصاب تک پہنچتا ہے، تو اس پر قربانی واجب ہوگی اور اگر مال نصاب سے کم ہے، تو قربانی واجب نہیں ہوگی۔ نیز اس کی بیوی مہر (معجل ہو یا مؤجل) کی وجہ سے مالک نصاب نہیں سمجھی جائے گی، لہذا اگر بیوی کے پاس مہر کے علاوہ مال نصاب سے کم ہے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی اور اگر مال نصاب تک پہنچتا ہے، تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔

مہر مؤجل شوہر پر وجوبِ زکوٰۃ سے مانع نہیں، اس سے متعلق درمختار مع رد المحتار میں ہے: "او مؤجلاً و الصحیح انہ غیر مانع" ترجمہ: اور صحیح یہ ہے کہ مہر مؤجل وجوبِ زکوٰۃ سے مانع نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الزکاۃ، جلد 3، صفحہ 177، مطبوعہ ملتان)

مہر (معجل ہو یا مؤ جل) کی وجہ سے عورت مالک نصاب نہیں ہوگی، اس سے متعلق عالمگیری میں ہے: "و المرأۃ تعتبر موسرۃ بالمھر اذا کان الزوج ملیاً عندھما و علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی الآخر لا تعتبر موسرۃ بذلک، قیل: ھذا الاختلاف بینھم فی المعجل الذی یقال لہ بالفارسیۃ: دست پیمان، و اما المؤجل الذی سمی بالفارسیۃ: کابین، فالمرأۃ لا تعتبر موسرۃ بذلک بالاجماع" ترجمہ: جب شوہر مالدار ہو، تو عورت کو مہر کی وجہ سے مالدار سمجھا جائے گا صاحبین علیہما الرحمۃ کے نزدیک اور امام اعظم علیہ الرحمۃ کے ایک قول کے مطابق عورت کو اس (مہر) کی وجہ سے مالدار نہیں سمجھا جائے گا اور کہا گیا کہ یہ اختلاف مہر معجل کے بارے میں ہے، جسے فارسی میں دست پیمان کہا جاتا ہے، بہرحال مہر مؤجل، جسے فارسی میں کابین کہا جاتا ہے، اس کی وجہ سے عورت کو مالدار نہیں سمجھا جائے گا، اس پر اجماع ہے۔ (عالمگیری، کتاب الاضحیۃ، باب تفسیرھا و رکنھا، جلد 5، صفحہ 361، مطبوعہ کراچی)

مہر مؤجل شوہر پر وجوبِ زکوٰۃ سے مانع نہیں، اس سے متعلق فتوی رضویہ میں ہے: آج کل عورتوں کا مہر عام طور پر مہر مؤخر ہوتا ہے، جس کا مطالبہ بعدِ موت یا طلاق ہوگا۔ مرد کو اپنے تمام مصارف میں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ مجھ پر یہ دَین (قرض) ہے، ایسا مہر مانع وجوبِ زکاۃ نہیں ہوتا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 143، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بہار شریعت میں ہے: جو دَین میعادی ہو، وہ مذہبِ صحیح میں وجوبِ زکاۃ کا مانع نہیں۔ چونکہ عادۃً دَین مہر کا مطالبہ نہیں ہوتا، لہذا اگرچہ شوہر کے ذمہ کتنا ہی دَین مہر ہو، جب وہ مالکِ نصاب ہے، زکاۃ واجب ہے۔ خصوصاً مہر مؤخر جو عام طور پر یہاں رائج ہے، جس کی ادا کی کوئی میعاد معین نہیں ہوتی، اس کے مطالبہ کا تو عورت کو اختیار ہی نہیں، جب تک موت یا طلاق واقع نہ ہو۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 879، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مہر (معجل ہو یا مؤجل) کی وجہ سے عورت مالک نصاب نہیں ہوگی، اس سے متعلق بہار شریعت میں ہے: عورت کا مہر شوہر کے ذمہ باقی ہے اور شوہر مالدار ہے، تو اس مہر کی وجہ سے عورت کو مالکِ نصاب نہیں مانا جائے گا، اگرچہ مہر معجل ہو اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدرِ نصاب مال نہیں ہے، تو عورت پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 333، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-1652
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1440ھ / 05 اگست 2019ء