کیا قربانی کے نصاب میں خالص چاندی کا اعتبار ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نصاب کی مقدار میں خالص چاندی کا اعتبار ہے یا کھوٹ والی کا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی ہو، تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی؟ نیز اس میں چاندی کے بسکٹ کا اعتبار ہے یا چاندی کے زیور کا؟ برائے کرم اس کی وضاحت کردیجئے۔
جواب
جی ہاں! جس کے پاس حاجت اورقرض (اگر ہے، تو اس) سے زائدساڑھے باون تولےچاندی، یا اتنی ہی چاندی کی رقم، یا اتنی ہی مالیت کا کسی قسم کا مال، سامان، یا جائیداد وغیرہ ہو، تو اس پر قربانی واجب ہے، نیز اس کے لیے بسکٹ والی بالکل خالص چاندی ہونا ضروری نہیں ہے، ایسی چاندی جس میں غالب چاندی ہو، وہ بھی کافی ہے، لہذا اگر اتنی مقدار کا زیور ہو، اور اس میں چاندی غالب اور کھوٹ مغلوب ہو، تو قربانی واجب ہوجائے گی، کیونکہ جب کھوٹ پر چاندی غالب ہو، تو وہ سارا چاندی ہی شمار ہوتا ہے۔
قربانی واجب ہونے کےنصاب کے متعلق بدائع الصنائع ہے ”فلا بد من اعتبار الغنى و هو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه و ما يتأثث به و كسوته و خادمه و فرسه و سلاحه و مالا يستغنی عنه“ ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یا رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیاراوروہ اشیاء جن کے بغیرگزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہو، جو اس (دو سو درہم یا بیس دینار) کی قیمت کو پہنچتی ہو۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 196، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے "و إذا كان الغالب على الدراهم الفضة فهي فضة، و إن كان الغالب على الدنانير الذهب فهي ذهب" ترجمہ: چاندی کے سکوں پر چاندی غالب ہو تو وہ چاندی ہی شمار ہوں گے، اسی طرح سونے کے سکوں پر سونا غالب ہو تو وہ سونا شمار ہوں گے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الصرف، ج 3، ص 219، دار الكتب العلمية، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5084
تاریخ اجراء: 22 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 08 جون 2026ء