غنی شخص کا قربانی کے جانور کا دودھ استعمال کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا غنی قربانی کے جانور کا دودھ استعمال کر سکتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ غنی کے قربانی کے لئے جانور خریدنے سے چونکہ وہ جانور قربانی کے لئے متعین نہیں ہوتا، اس کی جگہ وہ اور جانور بھی قربان کر سکتا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا غنی قربانی کے لئے خریدے گئے جانور کا دودھ استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
قول معتمد کے مطابق غنی کو بھی قربانی سے پہلے قربانی کے لئے خریدے گئے جانور کے دودھ کا استعمال یا اس کے علاوہ کسی قسم کا انتفاع (فائدہ اٹھانا) مکروہ تحریمی و ناجائز ہے کیونکہ غنی کے قربانی کے لئے جانور خریدنے سے جانور کے قربانی کے لئے متعین نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ غنی پر اسی جانور کی قربانی لازم نہیں ہے، اس کے علاوہ کسی اور جانور کی بھی قربانی کر سکتا ہے اور اس سے اس کا واجب ادا ہو جائے گا، البتہ جب تک اس جانور کی جگہ دوسرا جانور نہیں بدلا جاتا اس وقت تک وہی پہلا جانور قربت (قربانی) کے لئے متعین ہوگا اور اس سے انتفاع حاصل کرنا مکروہ تحریمی و ناجائز ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ غنی کو قربانی کا جانور بدلنے کی صرف اسی صورت میں اجازت ہے، جب پہلے جانور کے مقابلے میں اچھے جانور سے بدلنا پایا جائے، اگر دوسرا جانور پہلے کے مقابلے میں کم درجہ کا ہو یا چاہے برابر بھی ہو، تو یہ تبدیلی مکروہ تحریمی و ناجائز ہے۔ تبدیلی کی مشروط و مقید اجازت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ غنی کا جانور قربانی کے لئے متعین ہوتا ہے۔ الغرض غنی و فقیر میں صرف اتنا فرق ہے کہ فقیر قربانی کا جانور بالکل تبدیل نہیں کر سکتا، اس پر اسی متعین جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی کو تبدیل کرنے کی اجازت ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ بہتر جانور اس کے بدلے ذبح کرے، ورنہ مکروہ ہے اور بہرحال وہ جب تک جانور بدل نہ لے، تب تک پہلا جانور ہی قربانی کے لئے متعین ہے اور اس سے انتفاع ممنوع و ناجائز ہے۔
تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”(و یکرہ الانتفاع بلبنھا قبلہ) کما فی الصوف و منھم من أجازھما للغنی لوجوبھا فی الذمۃ فلا تتعین. زیلعی“ اور قربانی سے پہلے جانور کے دودھ سے فائدہ حاصل کرنا مکروہ ہے جیسا کہ اون کے بارے میں ہے اور علماء میں سے بعض نے غنی کے لئے اون اور دودھ کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے قربانی کے ذمہ میں واجب ہونے کی وجہ سے لہذا جانور متعین نہیں ہوگا. زیلعی۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، ج 9، ص 544، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے: ”قولہ: (لوجوبھا فی الذمۃ فلا تتعین) والجواب أن المشتراۃ للأضحیۃ متعینۃ للقربۃ الی أن یقام غیرھا مقامھا فلا یحل لہ الانتفاع بھا ما دامت متعینۃ، و لھذا لا یحل لہ لحمھا اذا ذبحھا قبل وقتھا. بدائع. و یأتی قریباً أنہ یکرہ أن یبدل بھا غیرھا فیفید التعیین أیضاً“ مصنف علیہ الرحمۃ کا قول: (قربانی کے ذمہ میں واجب ہونے کی وجہ سے لہذا جانور متعین نہیں ہوگا) اور جواب یہ ہے کہ قربانی کے لئے خریدا گیا جانور قربت کے لئے متعین ہے یہاں تک کہ اس کی جگہ اس کے غیر کو قائم کر دیا جائے لہذا جب تک وہ متعین ہے اس سے فائدہ حاصل کرنا حلال نہیں اور اسی وجہ سے اسے اس کا گوشت (کھانا بھی) حلال نہیں جب وہ قربانی کے وقت سے پہلے جانور کو ذبح کر دے۔ بدائع، اور عنقریب آئے گا کہ قربانی کے جانور کو اس کے غیر سے بدلنا مکروہ ہے تو یہ بھی (جانور کی) تعیین کا فائدہ دے گی۔ (رد المحتار، ج9، ص544، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں مزید ہے: "و یکرہ ان یبدل بھا غیرھا: ای اذا کان غنیا۔ نھایۃ۔" اور قربانی کے جانور کو بدلنا مکروہ ہے۔ یعنی جب وہ غنی ہو۔ نہایہ۔ (رد المحتار، ج 9، ص 545، مطبوعہ کوئٹہ)
اوپر مذکور بدائع و رد المحتار کے کلام سے واضح ہے کہ غنی کا جانور جب تک تبدیل نہ ہو، قربت کے لئے متعین ہوتا ہے۔ متعین ہونے والی یہ بات سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے بھی جانور گم ہونے والے مسئلہ میں علت کے طور پر بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: "أقول: تقدم فيما اذا ضلت فاشترى اخرى فوجد الاولى فذبح الثانية وهي اقل قيمة من الاولى تصدق بالفضل، وذلك لانها وان لم تتعين في حق الغني الغیر الناذر لكنه لما اشتراها للاضحية فقد نوى اقامة القربة بها، فاذا ابدلها بما دونها كان رجوعا عن بعض ما نوى فامر بالتصدق۔" میں کہتا ہوں: یہ مسئلہ گزر چکا کہ جب قربانی کا جانور گم ہو جائے اور وہ دوسرا جانور خرید لے، پھر پہلا جانور مل جائے اور وہ دوسرے جانور کو ذبح کردے اور یہ دوسرا جانور پہلے جانور سے کم قیمت کا ہو، تو اضافی رقم صدقہ کر دے۔ کیونکہ اگرچہ نذر نہ ماننے والے غنی شخص کے حق میں وہ جانور متعین نہیں ہوا تھا، لیکن چونکہ اس نے اُسے قربانی کے لیے خریدا تھا، اس لیے اس نے اس جانور کے ذریعے قربت کی نیت کی تھی۔ پس جب اس نے اس جانور کے بدلے میں اس سے کم قیمت والا جانور ذبح کیا، تو یہ نیت کے بعض حصے سے رجوع شمار ہوگا، لہٰذا اسے صدقہ کا حکم دیا گیا۔ (جد الممتار، ج 06، ص 459، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
غنی کے جانور سے انتفاع کی کراہت سے کراہت تحریمی مراد ہے، اس پر دلیل اوپر مذکور بدائع و رد المحتار کے یہ الفاظ ہیں "فلا یحل لہ الانتفاع بھا ما دامت متعینۃ" کہ ان میں انتفاع کو "لا یحل" سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور "لا یحل" عدم جواز کے لئے متعین ہوتا ہے، کراہت تنزیہی پر اس کا اطلاق نہیں کیا جاتا۔ مزید تائید، بطور نظیر بیان کئے گئے اگلے حکم سے بھی ہوتی ہے کہ آگے لکھا: "و لھذا لا یحل لہ لحمھا اذا ذبحھا قبل وقتھا" کہ غنی بھی اگر قربانی کا جانور وقت سے پہلے ذبح کر دے تو اس کو گوشت کھانا، حلال نہیں ہوتا، بلکہ تصدق لازم ہوتا ہے۔ اس سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ پیچھے جو انتفاع کی ممانعت کی گئی ہے، وہ بھی درجہ وجوب میں ہے۔
"لا یحل" عدم جواز کے لئے ہوتا ہے۔ چنانچہ سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”اقول: قد علمت ان عدم الجواز بمعنی عدم الحل الصادق بکراھۃ التحریم۔“ اقول: (میں کہتا ہوں) آپ نے پیچھے پڑھ لیا ہے کہ عدم جواز بمعنی عدم حلت ہے جو کراہت تحریمی پر صادق آتا ہے۔ (ت) (فتاویٰ رضویہ، ج 06، ص 701، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
غنی کے لئے کم تر یا برابر درجہ کے جانور سے تبدیلی مکروہ تحریمی و ناجائز ہے۔ چنانچہ سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے بہت تفصیلی انداز میں اس کو مختلف دلائل سے ثابت کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: "وقال في "الهداية "و "التبيين": (إنّها تعيّنت للأضحية حتى وجب أن يضحي بها بعينها في أيام النحر، ويكره أن يبدل بها غيرها) اهـ. قال في "العناية": ( بعينها في أيام النحر فيما إذا كان المضحي فقيراً، ويكره أن يبدل إذا كان غنياً اهـ. ومطلق الكراهة للتحريم. بل زاد سعدي أفندي بعد قوله: "إذا كان غنياً": (ولكن يجوز استبدالها بخير منها عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى) اهـ.خصهما؛ لأنها عند أبي يوسف كالوقف، فدل على أن الاستبدال بغير الخير لا يجوز .وقال في "العناية": (لو اشترى أضحية ثم باعها واشترى مثلها لم يكن به بأس) اهـ، فافهم أن لو كانت أدون منها كان به بأس، ولا بأس في المكروه تنزيهاً فيكره تحريماً بل قال عليه سعدي أفندي: (أقول: فيه بحث )اهـ. أي: في المثل أيضاً بأس بل يشترط للجواز الخيرة كما قدمنا عنه، وقال في "التبيين" و "العناية ": (لو باع أضحيته واشترى بثمنها غيرها، فإن كان الثاني أنقص من الأول تصدق بما فضل) اهـ .ظاهر الصيغة الوجوب، ولا يرد ما نصوا عليه قاطبة: أن المشتري إذا كان موسراً لا تصير واجبة بالشراء بنية الأضحية باتفاق الروايات، فإن معناه أنه لو ضحى بغيرها يتأدّى ما عليه وإن كره له استبداله۔"
"ہدایہ" اور "تبیین" میں فرمایا: جب کسی جانور کو قربانی کے لیے متعین کیا جائے، تو وہ متعین ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے ایام نحر میں ذبح کرنا واجب ہوتا ہے، اور اسے کسی دوسرے جانور سے بدلنا مکروہ ہے۔ عنایہ میں فرمایا: ایام نحر میں معین جانور کو ذبح کرنا فقیر شخص کے متعلق ہے اور اگر قربانی کرنے والا شخص غنی ہو، تو اس کے لیے جانور تبدیل کرنا مکروہ ہے۔ اور مطلق کراہت سے مراد کراہتِ تحریمی ہے، بلکہ سعدی افندی نے ”نہایہ“ کے اس قول ”جب وہ غنی ہو“ پر یہ اضافہ کیا کہ امام ابو حنیفہ و امام محمد رحمھما اللہ کے نزدیک غنی کو جانور بدلنا جائز ہے جبکہ دوسرا جانور پہلے جانور سے بہتر ہو۔ سعدی افندی نے صرف طرفین علیہما الرحمہ کا قول ذکر کیا، کیونکہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کے نزدیک قربانی کا جانور وقف کے حکم میں ہوتا ہے، یہ اس بات پر دلیل ہے کہ بہتر نہ ہونے کی صورت میں جانور کا تبادلہ جائز نہیں ہے۔ اور عنایہ میں یہ فرمایا: اگر کسی نے قربانی کا جانور خریدا، پھر اسے بیچ کر اسی کی مثل دوسرا جانور خرید لیا، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پس یہ سمجھ کہ اگر دوسرا جانور پہلے سے کم درجہ کا ہو، تو اس میں حرج ہوگا۔ اور مکروہ تنزیہی میں کوئی حرج نہیں، پس یہاں کراہت تحریمی مراد ہے، بلکہ سعدی افندی نے یہاں بھی کہا: ”میں کہتا ہوں: اس میں بھی بحث ہے۔“ یعنی یہ کہنا کہ ”اسی کی مثل جانور ہو تو بھی کوئی حرج نہیں“ محل نظر ہے، بلکہ تبادلے کے جواز کے لیے جانور کا بہتر ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ پہلے ہم اس کی وضاحت کر چکے۔ اور تبیین اور عنایہ میں فرمایا: اگر کسی نے اپنی قربانی کا جانور بیچ کر اس کی قیمت سے دوسرا جانور خریدا، اور وہ دوسرا جانور پہلے سے کمتر نکلا، تو جو قیمت میں فرق ہے، اس کا صدقہ کرے۔ عبارت سے وجوب کا مفہوم ظاہر ہے۔ اور اس پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا جو تمام فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر خریدار مالدار ہو، تو صرف خریداری اور نیتِ قربانی سے جانور واجب نہیں ہو جاتا، اس پر اتفاق ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کسی اور جانور سے قربانی کرے تو بھی اس کا واجب ادا ہو جائے گا، اگرچہ جانور کا تبادلہ مکروہ ہوگا۔ (جد الممتار، ج 06، ص 460، 461، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
بہار شریعت میں غنی، فقیر کی قید کے بغیر مطلقاً قربانی کے جانور سے انتفاع منع ہونے کا فرمایا، جس سے واضح ہے کہ انتفاع کے معاملہ میں غنی و فقیر کا فرق نہیں ہے، دونوں کے لئے قربانی کے جانور سے انتفاع مکروہ و ممنوع ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”ذبح سے پہلے قربانی کے جانور کے بال اپنے کسی کام کے لیے کاٹ لینا یا اس کا دودھ دوہنا مکروہ و ممنوع ہے اور قربانی کے جانور پر سوار ہونا یا اس پر کوئی چیز لادنا یا اس کو اجرت پر دینا غرض اس سے منافع حاصل کرنا منع ہے اگر اس نے اون کاٹ لی یا دودھ دوہ لیا تو اسے صدقہ کر دے اور اجرت پر جانور کو دیا ہے تو اجرت کو صدقہ کرے اور اگر خود سوار ہوا یا اس پر کوئی چیز لادی تو اس کی وجہ سے جانور میں جو کچھ کمی آئی اتنی مقدار میں صدقہ کرے۔“ (بھار شریعت، ج 3، ص 347، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو محمد محمد سرفراز اختر عطاری
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mul-1397
تاریخ اجراء: 01 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 29 مئی 2025ء