قربانی واجب ہونے کا نصاب اور مقررہ مالیت؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کتنی مالیت ہو، تو قربانی واجب ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی واجب ہونے کا نصاب کیا ہے یعنی کتنا مال ملکیت میں ہو، تو قربانی واجب ہوجاتی ہے؟ نیز یہ قربانی فقط مردوں پر واجب ہے یا مرد و عورت دونوں پر؟
جواب
جس شخص کی ملکیت میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یا سونا چاندی نصاب سے کم ہو، لیکن جس قدرہے، اُس کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچتی ہو، یوں ہی حاجت اصلیہ (یعنی وہ چیزیں جن کی انسان کو حاجت رہتی ہے، جیسے رہائش گاہ، خانہ داری کے وہ سامان جن کی حاجت ہو، سواری اور پہننے کے کپڑے وغیرہ ضروریاتِ زندگی) سے زائد اگر کوئی ایسی چیز ہو جس کی قیمت (فی زمانہ) ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابرہو، تو وہ نصاب کا مالک ہے اور اُس پر قربانی واجب ہے۔
یاد رہے کہ عورتوں پر بھی شرائط پائے جانے کی صورت میں قربانی واجب ہوتی ہے، جس طرح مردوں پرواجب ہوتی ہے۔
قربانی واجب ہونے کا نصاب بیان کرتے ہوئے بدائع الصنائع میں علامہ ابوبکربن مسعود کاسانی حنفی (متوفی 587ھ) فرماتے ہیں: ”فلا بد من اعتبار الغنى و هو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه و ما يتأثث به و كسوته و خادمه و فرسه و سلاحه و مالا يستغنی عنه و هو نصاب صدقة الفطر“ ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دوسو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یا رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیزہو، جو اس (دو سو درہم یا بیس دینار) کی قیمت کو پہنچتی ہو اور یہ ہی صدقہ فطر کا نصاب ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیہ، ج 4، ص 196، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعه مفتی امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی (متوفی 1367ھ) فرماتے ہیں: جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دو سو درہم ہو، وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائد ہیں۔ (بھارِ شریعت، ج 3، ص 333، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن (متوفی 1340ھ) فرماتے ہیں: قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ ۵۶ روپیہ (اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے دور میں رائج الوقت چاندی کے سکے) کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت۔ کاشتکار کے ہل بَیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں، ان کا شمار نہ ہو۔۔۔ اور جس پر قربانی ہے اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں، وہ چاہے قرض لے کر کرے یا اپنا کچھ مال بیچے۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 370، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
تبیین الحقائق میں علامہ زیلعی حنفی فرماتے ہیں: ”و يضم الذهب إلى الفضة بالقيمة فيكمل به النصاب لأن الكل جنس واحد“ ترجمہ: سونے کو چاندی کے ساتھ قیمت کے اعتبار سے ملا کر نصاب مکمل کیا جائے گا، کیونکہ یہ آپس میں ہم جنس ہیں۔ (تبیین الحقائق، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال،ج 2، ص 80، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: قابلِ ضم وہی ہے، جو خود نصاب نہیں، پھر اگر یہ قابلیت ایک ہی طرف ہے، جب تو طریقہ ضم آپ ہی متعین ہوگا۔ کما سبق (جیسا کہ پیچھے گزرا یعنی کہ اس غیر نصاب کو اُس نصاب سے تقویم کر کے ملا دیں) اور دونوں جانب ہے، تو البتّہ یہ امر غور طلب ہوگا کہ اب ان میں کس کو کس سے تقویم کریں کہ دونوں صلاحیتِ ضم رکھتے ہیں، اس میں کثرت و قلّت کی وجہ سے ترجیح نہ ہوگی کہ خواہی نخواہی قلیل ہی کو کثیر سے ضم کریں کثیر کو نہ کریں کہ جب نصابیت نہیں تو قلیل و کثیر دونوں احتیاجِ تکمیل میں یکساں ۔۔۔۔۔ بلکہ حکم یہ ہوگا جو تقویم فقیروں کے لیے اَنفع ہو، اسے اختیار کریں، اگر سونے کو چاندی کرنے میں فقراء کا نفع زیادہ ہے، تو وہی طریقہ برتیں اور چاندی کو سونا ٹھہراتے ہیں، تو یہی ٹھہرائیں اور دونوں صورتیں نفع میں یکساں، تو مزکی(زکوٰۃ دینے والے) کو اختیار۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 116، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
عورتوں پر بھی قربانی واجب ہوتی ہے۔ جیسا کہ در مختارمیں علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: و شرائطها: الإسلام و الإقامة و اليسار الذی يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر لا الذكورة فتجب على الأنثى) یعنی قربانی واجب ہونے کی شرائط یہ ہیں: مسلمان ہونا، مقیم ہونا، ایسی مالداری، جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہو۔ مرد ہونا شرط نہیں، لہذا عورت پر بھی واجب ہے۔ (الدر المختارمع رد المحتار، کتاب الاضحیہ، ج 09، ص 520، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے قربانی واجب ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے یہ مسئلہ ارشاد فرمایا: مرد ہونا اس کے لیے (قربانی واجب ہونے کے لیے) شرط نہیں۔ عورتوں پر واجب ہوتی ہے، جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے۔ (بھارِ شریعت، ج 03، ص 332، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نوٹ: نصاب کی مالیت 29 مئی 2024 کو تقریباً ایک لاکھ سینتالیس ہزار (147000) پاکستانی روپے بنتی ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Fmd-0502
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ 1439ھ / 08 اگست 2018ء