logo logo
AI Search

بکری کا ایک تھن خشک ہو تو قربانی کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس بکری کا ایک تھن خشک ہو اس کی قربانی ہو جائیگی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بکری ہے جس کا ایک تھن پیدائشی طور پر چھوٹا ہے اور اس سے دودھ بھی نہیں اترتا ہو، جبکہ دوسرا تھن ٹھیک ہے اور اس سے دودھ بھی اترتا ہے۔ کیا ایسی بکری کی قربانی ہو سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

بکری میں ایک تھن کا خشک ہونا چاہے پیدائشی طور پر ہو یا بعد میں کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ہوا ہو، یہ ایسا عیب ہے جو قربانی سے مانع (رکاوٹ) ہے، لہذا سوال میں مذکور بکری جس کا ایک تھن پیدائشی طور پر خشک ہے، اس کی قربانی نہیں ہو سکتی۔

یاد رہے بکری، بھیڑ وغیرہ جن جانوروں کے دو تھن ہوتے ہیں، ان میں ایک کا خشک ہونا، اور گائے، بھینس وغیرہ میں دو کا خشک ہونا قربانی سے مانع ہے، اگر گائے، بھینس وغیرہ کا ایک تھن خشک ہو تو قربانی جائز ہے۔

تنویر الابصار و در مختار میں ہے: "(والجذاء) مقطوعة رءوس ضرعها أو يابستها، ولا المصرمة أطباؤها: وهي التي عولجت حتى انقطع لبنها" ملخصا۔ جذاء یعنی وہ مادہ جس کے تھنوں کے کنارے کٹے ہوں یا خشک ہو گئے ہوں، ان کی قربانی جائز نہیں۔ نہ ہی وہ بکری (جائز ہے) جس کا علاج کیا گیا یہاں تک کہ اس کا دودھ خشک ہو گیا۔ (تنویر الابصار ودر مختار مع رد المحتار، ج 9، ص 537، مطبوعہ کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے: "وفي الشاة والمعز إذا لم يكن لهما إحدى حلمتيهما خلقة أو ذهبت بآفة وبقيت واحدة لم يجز وفي الإبل والبقر إن ذهبت واحدة يجوز أو اثنتان لا اهـ" اور بکری یا دُنبے کے متعلق اگر ان میں سے ایک تھن پیدائشی طور پر نہ ہو یا کسی آفت کی وجہ سے ختم ہو گیا ہو اور دوسرا باقی ہو، تو وہ جائز نہیں۔ البتہ اونٹ اور گائے میں اگر ایک تھن ختم ہو گیا ہو تو جائز ہے، لیکن اگر دو تھن ختم ہو جائیں تو جائز نہیں۔ ملتقطا عنہ" (رد المحتار، ج 9، ص537 تا 538، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے: "ولا تجوز الحذاء وهي المقطوعة ضرعها، ولا المصرمة وهي التي لا تستطيع أن ترضع فصيلها، ولا الجداء وهي التي يبس ضرعها، كذا في محيط السرخسي" اور جذاء یعنی وہ مادہ جس کا تھن کٹا ہوا ہو، اور نہ وہ جو اپنے بچے کو دودھ نہ پلا سکتی ہو، اور نہ وہ جس کا تھن بالکل سوکھ چکا ہو۔ ایسے ہی محیط سرخسی میں ہے" (فتاوی عالمگیری، ج 9، ص 51، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: "جس کے تھن کٹے ہوں یا خشک ہوں اوس کی قربانی ناجائز ہے بکری میں ایک کا خشک ہونا ناجائز ہونے کے لیے کافی ہے اور گائے بھینس میں دو خشک ہوں تو ناجائز ہے۔" (بھار شریعت، ج 3، ص 341، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو محمد محمد سرفراز اختر عطاری
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mul-1395
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1446 ھ / 30 مئی 2025 ء