logo logo
AI Search

عقیقہ کے گوشت کی ران دائی کو دینے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا عقیقہ کے گوشت کی ران دائی کو دینا ضروری ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا عقیقہ کے گوشت کی ران دائی کو دینا ضروری ہے، کیا ایسی کوئی حدیث ہے؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمادیں۔

جواب

عقیقہ کے گوشت کی ران دائی کو دینا ضروری یا واجب نہیں، البتہ بعض احادیث و آثار میں دائی کو ران دینے کا ذکر آیا ہے، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے اسے مستحب قرار دیا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی دائی کو ران دے تو اچھا ہے، اور ثواب کی امید ہے، لیکن نہ دے تو بھی عقیقہ درست ہے اور کوئی گناہ بھی نہیں۔ سنن کبریٰ للبیہقی میں ہے ’’ان النبي صلى اللہ عليه وسلم قال في العقيقة التي عقتها فاطمة عن الحسن والحسين عليهما السلام أن يبعثوا إلى القابلة منها برجل و كلو وأطعموا ولاتكسروا منها عظما‘‘ ترجمہ: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عقیقے کے بارے میں، جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف سے کیا تھا، فرمایا: اس میں سے ایک ران دائی (قابلہ) کو بھیج دو، اور خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ، اور اس کی کوئی ہڈی نہ توڑو۔ (السنن الكبرى للبیھقی، ج 9، ص 508، حدیث: 19286، دار الكتب العلمية، بیروت)

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃمیں ہے ’’حكمها كأحكام الأضحية إلا أنه يسن طبخها وبحلو تفاؤلا بحلاوة أخلاق المولود وحمل لحمها مطبوخا للفقراء ولا بأس بندبهم إليها وتعطى القابلة رجلها لأمره عليه الصلاة والسلام  فاطمة رضي اللہ عنها بإعطائها إياها واليمنى أولى‘‘ ترجمہ: عقیقہ کے احکام قربانی کے احکام ہی کی طرح ہیں، البتہ عقیقہ کے گوشت کو پکا کر تقسیم کرنا مسنون ہے، اور میٹھی چیز کے ساتھ پکانا بھی مسنون ہے، اس نیک فال کے طور پر کہ نومولود کے اخلاق و عادات بھی شیریں ہوں۔ نیز اس کا پکا ہوا گوشت فقراء کو پہنچانا مسنون ہے، اور انہیں کھانے کے لیے مدعو کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔اور دائی کو عقیقہ کے جانور کی ایک ران دینا مستحب ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دائی کو ران دینے کا حکم فرمایا تھا، اور دائیں ران دینا بہتر ہے۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ، کتاب العقیقہ، ج 2، ص 369، مطبوعہ: کراچی)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ اولاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”(10) ساتویں اور نہ ہوسکے تو چودھویں ورنہ اکیسویں دن عقیقہ کرے، دختر کے لئے ایک، پسر کے لئے دو کہ اس میں بچے کا گویا رہن سے چھڑانا ہے۔ (11) ایک ران دائی کو دے کہ بچہ کی طرف سے شکرانہ ہے۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 24، ص 452، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے ’’بعض کا یہ قول ہے کہ سری پائے حجام کو اور ایک ران دائی کو دیں باقی گوشت کے تین حصے کریں ایک حصہ فقرا کا ایک احباب کا اور ایک حصہ گھر والے کھائیں۔ ‘‘ (بہار شریعت، ج 03، حصہ 15، ص 357، مکتبہ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5129
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1448ھ/20 جون 2026ء