logo logo
AI Search

ایک شخص چھری چلائے دوسرا تسمیہ کہے تو قربانی کا حکم؟

قربانی کے جانور پر ایک شخص چھری چلائے اور دوسرا شخص تسمیہ کہے،تو کیا حکم ہے

مجیب: فرحان احمد عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-397

تاریخ اجراء: 04محرم الحرام1443ھ/03اگست2022ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

   قربانی کرتےہوئے ایک شخص چھری چلائے اور دوسرا تسمیہ(بسم اللہ اللہ اکبر) کہے ،تو کیا قربانی ہوجائے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

   ذبح کرنے والے کے علاوہ کسی اور شخص کا تسمیہ پڑھنا شرعاً معتبر نہیں ،لہٰذا جو شخص جانور قربان کر رہا ہے وہ اگر جان بوجھ کر تسمیہ(اللہ عزوجل  کا نام لینا) چھوڑ دے، تو جانور حلال نہیں ہوگا ۔ ہاں اگر بھول کر نہ کہا، تو جانور حلال ہوگا اور قربانی بھی ہوجائے گی۔

   ردالمحتار میں ہے : ويشترط كونها من الذابح لا من غيره “ یعنی  اللہ عزوجل کا  نام لینا  ذابح کی طرف سے شرط ہے، غیر کی طرف سے  نہیں ۔ (ردالمحتار، جلد09، صفحہ 502، مطبوعہ:کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم