تکبیر قنوت کے وقت ہاتھ اٹھانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تکبیر قنوت کہتے وقت ہاتھ اٹھانا بھول گئے، تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص نمازِ وتر میں تکبیرِ قنوت کہتے وقت بھولے سے ہاتھ نہ اٹھائے اور صرف زبان سے اللہ اکبر کہہ لے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسی صورت میں سجدۂ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں نماز ادا ہوگئی، کیونکہ سجدۂ سہو اُس وقت واجب ہوتا ہے، جب نماز میں بھولے سے کوئی واجب ترک ہو جائے، جبکہ سنن و مستحبات کے ترک سے سجدۂ سہو لازم نہیں آتا، اور یہاں مسئلہ یہ ہے کہ تکبیرِ قنوت کے وقت ہاتھ اٹھانا سنتِ مؤکدہ ہے، واجب نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص تکبیرِ قنوت کےلئے ہاتھ نہ اٹھائے، تو اس پر سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا، البتہ سنتِ مؤکدہ کے پیشِ نظر اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کبھی کبھار ہاتھ نہ اٹھائے، تو یہ اگرچہ گناہ نہیں، تاہم اِساءت یعنی بُرا ہےاور بلا عذر اس کی عادت بنا لینا گناہ ہے۔
سجدۂ سہو اُس وقت واجب ہوتا ہے جب نماز میں بھولے سے کوئی واجب ترک ہو جائے، سنن و مستحبات کے چھوڑنے سے سجدۂ سہو لازم نہیں آتا، جیساکہ علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 956ھ / 1049ء) لکھتے ہیں: لایجب الا بترک الواجب من واجبات الصلاۃ فلا یجب بترک السنن و المستحبات“ ترجمہ: سجدۂ سہو، نماز کے واجبات میں سے (بھولے سے) کسی واجب کے ترک پر لازم ہوتا ہے، لہٰذا سنن و مستحبات کے ترک پر سجدۂ سہو لازم نہیں۔ (غنیۃ المتملی، صفحہ 393، مطبوعہ کوئٹہ، ملتقطا)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: واجباتِ نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے، تو اس کی تلافی کے لئے سجدۂ سہو واجب ہے۔ (بھار شریعت،جلد01، صفحہ 708، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ایک اور مقام پر آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: سنن و مستحبات کے ترک سے سجدۂ سہو نہیں، بلکہ نماز ہوگئی۔ (بھار شریعت، جلد 01، صفحہ 709، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی، ملخصا)
تکبیرِ قنوت کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا سنتِ مؤکدہ ہے، جیسا کہ تنویر الابصارودر مختار میں ہے: (و لا یسن) مؤکداً (رفع یدیہ الا فی) سبعۃ مواطن کما ورد، ثلاثۃ فی الصلوۃ (تکبیرۃ افتتاح و قنوت و عید) ترجمہ: سات مقامات پر ہاتھ اٹھانا سنتِ مؤکدہ ہے جیسا کہ وارد ہوا، تین نماز میں ہیں، تکبیر تحریمہ میں، تکبیر قنوت میں، عید کی تکبیرمیں۔ (تنویر الابصار و در مختارمع رد المحتار،، جلد 02، صفحہ 262 - 263، مطبوعہ کوئٹہ، ملخصاً)
مراقی الفلاح میں ہے: یسن رفع الیدین للتحریمۃ“ ترجمہ: تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا سنت ہے۔ (مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی، صفحہ 256، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
اس کے تحت علامہ اَحمد طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں: مثلھا فی ذالک تکبیرات الاعیاد و القنوت کما فی التبیین وغایۃ البیان،ومن اعتاد ترکہ اثم“ ترجمہ: عیدین کی تکبیرات اور تکبیر قنوت بھی اس میں تکبیر تحریمہ کی طرح ہیں۔ جیسا کہ تبیین اور غایۃ البیان میں ہے۔ جو اس کو چھوڑنے کی عادت بنائے وہ گناہ گار ہوگا۔ (حاشیہ طحطاوی، صفحہ 256، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)
سنتِ مؤکدہ کو ترک کرنے کا حکم بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: سنت مؤکدہ کے ایک آدھ بار ترک سے اگرچہ گناہ نہ ہو، عتاب ہی کا استحقاق ہو مگر بارہا ترک سے بلاشبہ گناہ گار ہوتا ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 01، صفحہ 596، مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9975
تاریخ اجراء: 19 ذو القعدہ 1447ھ / 06 مئی 2026ء