logo logo
AI Search

وتر میں سورۂ نصر، لہب اور اخلاص پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وتر کی تین رکعتوں میں سورہ ٔ نصر ، سورۂ لہب اور سورۂ اخلاص پڑھنا جبکہ پہلی سورت دوسری سے چھوٹی ہے

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا وتر کی پہلی رکعت میں سورہ نصر، دوسری میں سورہ لہب اور تیسری میں سورۂ اخلاص پڑھ سکتے ہیں جبکہ سورۂ نصر میں تین آیات، سورۂ لہب میں پانچ آیات اور سورۂ اخلاص میں چار آیات ہیں؟

جواب

نماز وتر کی پہلی رکعت میں سورۂ نصر، دوسری میں سورۂ لہب اور تیسری میں سورۂ اخلاص پڑھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ تلاوت بالترتیب ہی ہے اور کوئی بھی اگلی سورت پچھلی سورت سے واضح طویل نہیں ہے۔

دوسری رکعت کی قراء ت پہلی سے لمبی کرنا اس وقت مکروہ ہے جبکہ بیّن (واضح) فرق معلوم ہوتا ہو پوچھی گئی صورت میں معمولی فرق ہے اس لئے حرج نہیں ۔

بہار شریعت میں ہے:”دوسری رکعت کی قراء ت پہلی سے طویل کرنا مکروہ ہے جبکہ بیّن (واضح) فرق معلوم ہوتا ہو اور اس کی مقدار یہ ہے کہ اگر دونوں سورتوں کی آیتیں برابر ہوں تو تین آیت کی زیادتی سے کراہت ہے اور چھوٹی بڑی ہوں تو آیتوں کی تعداد کا اعتبار نہیں بلکہ حروف و کلمات کا اعتبار ہے، اگر کلمات و حروف میں بہت تفاوت ہو کراہت ہے اگرچہ آیتیں گنتی میں برابر ہوں، مثلاً پہلی میں ” اَلَمْ نَشْرَحْ “ پڑھی اور دوسری میں ” لَم یَکُن “ تو کراہت ہے، اگرچہ دونوں میں آٹھ آٹھ آیتیں ہیں۔“(بہار شریعت،ج1،ص546-547،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2407

تاریخ اجرا: 09ربیع الاول1447ھ/03ستمبر2025ء