تراویح میں جلدی جلدی قرآن مجید پڑھنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تراویح میں تیز تیز قرآن مجید پڑھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ تراویح کی نماز میں تیزی تیزی سے قرآن پڑھنے سے نماز میں کوئی حرج تو نہیں ہو گا، نماز درست ہو جائے گی؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
تراویح میں درمیانے انداز پر قرآن پڑھنا چاہیے اور آج کل کے اکثر حفاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مخارج کا خیال ہونا تو بڑی بات ہے یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سوا کسی لفظ کا پتا نہیں چلتا، حروف بھی صحیح طرح ادا نہیں ہوتے، بلکہ جلدی جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں، اور اس پر فخر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے، حالانکہ اس طرح قرآنِ مجید پڑھنا سخت حرام ہے، اور اگر جلدی جلدی پڑھنے میں پورے قرآن مجید میں سے صِرف ایک حَرف بھی چبا لیا گیا، تو خَتمِ قرآن کی سنّت ادا نہ ہو گی، بلکہ دوران نماز حرف چب جانے یا درست تلفظ کے ساتھ ادا نہ ہونے کی وجہ سے معنی فاسد ہونے یا مہمل یعنی بے معنی ہو جانے کی صورت میں وہ نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔ لہذا تراویح میں قرآن پاک کو ترتیل کے ساتھ یعنی آہستہ آہستہ پڑھنا چاہیے، اس طرح کہ جو پڑھا جارہا ہے وہ سمجھ آسکے کہ فقہائے کرام نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ فر ضو ں میں ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرے اور تراویح میں متوسّط (یعنی درمیانے) انداز پر، اور رات کے نوافل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے، مگر وہ بھی ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے۔
صاحبِ بہار شریعت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سالِ وفات: 1367ھ) فرماتے ہیں: ”فرضوں میں ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرے اور تراویح میں متوسط انداز پر اور رات کے نوافل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے، مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اس کو ادا کرے، ورنہ حرام ہے اس لیے کہ ترتیل سے قرآن پڑھنے کا حکم ہے۔۔۔آج کل کے اکثر حفاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے، یعلمون تعلمون کے سوا کسی لفظ کا پتہ بھی نہیں چلتا نہ تصحیح حروف ہوتی، بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پر تفاخر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے، حالانکہ اس طرح قرآن مجید پڑھنا حرام و سخت حرام ہے۔“ (بہار شریعت، حصہ 3، صفحہ: 547، المدینۃ العلمیہ، کراچی)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”افسوس صد افسوس کہ اس زمانہ میں حفاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے، اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں کہ یعلمون تعلمون کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں اُنھیں دیکھیے تو حروف صحیح نہیں ادا کرتے ہمزہ، الف، عین اور ذ، ز، ظ اور ث، س، ص، ت، ط وغیرہا حروف میں تفرقہ (فرق) نہیں کرتے جس سے قطعاً نماز ہی نہیں ہوتی فقیر کو انہیں مصیبتوں کی وجہ سے تین سال ختم قرآن مجید سننا نہ ملا۔ مولا عزوجل مسلمان بھائیوں کو توفیق دے کہ ما انزل اللہ پڑھنے کی کوشش کریں۔“ (بہار شریعت، حصہ 4، صفحہ: 691، المدینۃ العلمیہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے "اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے، نماز فاسد ہوگئی، ورنہ نہیں۔ " (بہار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 554، مکتبۃ المدینہ)
سیدی امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فیضان رمضان میں ارشاد فرماتے ہیں: ”افسوس! آج کل دینی معاملات میں سستی کا دور دورہ ہے عموما تراویح میں قرآن کریم ایک بار بھی صحیح معنوں میں ختم نہیں ہو پاتا۔ قرآن پاک ترتیل کے ساتھ یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے، مگر حال یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا کرے تو اکثر لوگ اُس کے ساتھ تراویح پڑھنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے! اب وہی حافظ پسند کیا جاتا ہے جو تراویح سے جلد فارغ کر دے۔ یاد رکھئے! تراویح اور نماز کے علاوہ بھی تلاوت میں حروف چبا جانا حرام ہے۔ اگر تراویح میں حافظ صاحب پورے قرآن کریم میں سے صرف ایک حرف بھی چبا گئے تو ختم قرآن کی سنت ادا نہ ہوگی۔ بلکہ دوران نماز حرف چب جانے کی وجہ سے معنی فاسد ہونے یا مہمل یعنی بے معنی ہو جانے کی صورت میں وہ نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔ لہذا کسی آیت میں کوئی حرف چب گیا یا درست مخرج سے نہ نکلا اور بدل گیا تو لوگوں سے شرمائے بغیر پلٹ کر پڑھ لے اور دُرست پڑھ کر پھر آگے جائے۔ ایک افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ حفاظ کی ایک تعداد ایسی ہوتی ہے جسے ترتیل کے ساتھ پڑھنا ہی نہیں آتا! تیزی سے نہ پڑھیں تو بھول جاتے ہیں! ایسوں کی خدمتوں میں ہمدردانہ مشورہ ہے، لوگوں سے نہ شرمائیں، خدا کی قسم! اللہ عزوجل کی ناراضی بہت بھاری پڑے گی، لہذا بلا تاخیر تجوید کے ساتھ پڑھانے والے کسی قاری صاحب کی مدد سے از ابتدا تا ا نتہا اپنا حفظ درست فرمالیں۔ مد و لین کا خیال رکھنا لازمی ہے نیز مد، غنہ، اظہار، اخفاء وغیرہ کی بھی رعایت فرمائیں۔" (فیضان رمضان، صفحہ: 161، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5078
تاریخ اجراء: 25 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 11 جون 2026ء