سنت اور نفل نماز کی ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سنن و نوافل کی ایک رکعت میں ایک سے زائد سورتیں پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
نوافل یا سنتوں میں چار پانچ چھوٹی سورتیں ایک رکعت میں، اور چار پانچ دوسری رکعت میں پڑھنا کیسا ہے؟ مکروہ ہے یا خلاف اولی؟
جواب
وقت میں وسعت ہو، تو سورتوں کی ترتیب کا خیال کرتے ہوئے، سنن و نوافل کی ایک رکعت میں ایک سے زائد سورتیں پڑھ سکتے ہیں۔ نیز ایک سے زائد سورتیں پڑھتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ دوسری رکعت کی قرات پہلی رکعت کی قرات سے زائد نہ ہو، کہ فرائض کی طرح نوافل میں بھی دوسری رکعت میں پہلی رکعت سے لمبی قرات کرنا مکروہ ہے۔ خلاصۃ الفتاوی میں ہے ”ان جمع بین السورتین فی رکعۃ واحدۃ لا ینبغی ان یفعل و لو فعل لا بأس بہ، و الانتقال من آیۃ من سورۃ الی آیۃ اخری من سورۃ اخری او آیۃ من ھذہ السورۃ بینھما آیات مکروہ، و کذا الجمع بین السورتین بینھما سوَر او سورۃ واحدۃ فی رکعۃ واحدۃ مکروہ۔ ۔ ۔ و ھذہ کلھا فی الفرائض، اما فی النوافل لا یکرہ“ ترجمہ: ایک رکعت میں مختلف سورتوں کو ایک ساتھ پڑھنا مناسب نہیں، لیکن اگر ایسا کر لیا، تو حرج بھی نہیں (یعنی جبکہ بیچ سے کوئی سورت نہ چھوڑے) اور ایک سورت کی ایک آیت سے دوسری سورت کی دوسری آیت کی طرف منتقل ہونا، یا اُسی ایک سورت کے بیچ سے آیتیں چھوڑ کر دوسری آیت کی طرف منتقل ہونا مکروہ ہے۔ اسی طرح ایک رکعت میں مختلف سورتوں کو اس طرح پڑھنا مکروہ ہے کہ بیچ میں ایک سے زیادہ سورتیں یا ایک سورت چھوڑ دی جائے اور یہ تمام احکام فرض نمازوں میں ہیں ۔ بہر حال نوافل میں یہ مکروہ نہیں ہے۔ (خلاصۃ الفتاوی، ج 1، ص 97، مطبوعہ: کوئٹہ)
سنتوں کا بھی یہی حکم ہے، جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے "و إذا جمع بين سورتين بينهما سوَر أو سورة واحدة في ركعة واحدة يكره و أما في ركعتين إن كان بينهما سوَر لا يكره ۔ ۔ ۔ و إن كان بينهما سورة واحدة قال بعضهم: يكره، و قال بعضهم: إن كانت السورة طويلة لا يكره. هكذا في المحيط كما إذا كان بينهما سورتان قصيرتان۔ ۔ ۔ ۔ هذا كله في الفرائض و أما في السنن فلا يكره" ترجمہ: اور جب اس نے ایک رکعت میں ایسی دو سورتوں کو جمع کیا کہ ان دونوں کے درمیان ایک سورت ہو یا چند سورتیں ہوں تو مکروہ ہے اور بہرحال دو رکعتوں میں، تو اگر ان دونوں کے درمیان چند سورتیں ہوں تو مکروہ نہیں ہے۔ اور اگر ان کے درمیان ایک سورت ہو تو بعض نے فرمایا مکروہ ہے اور بعض نے فرمایا سورت طویل ہو تو مکروہ نہیں ہے، اسی طرح محیط میں ہے جیسے اس صورت میں مکروہ نہیں ہوتا جب ان کے درمیان دو چھوٹی سورتیں ہوں۔ یہ سب فرائض کے معاملے میں ہے اور رہا سنتوں کا معاملہ تو ان میں کسی صورت میں کراہت نہیں۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 01، صفحہ 78، 79، مطبوعہ: کوئٹہ)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے "يكره تطويل الركعة الثانية على الركعة الأولى بثلاث آيات فأكثر۔ ۔ ۔ في جميع الصلوات الفرض بالاتفاق و النفل على الأصح إلحاقا له بالفرض" ترجمہ: دوسری رکعت کوپہلی رکعت پرتین آیات یااس سے زیادہ کے ساتھ لمبا کرنا، مکروہ ہے۔ فرض نمازوں میں تو یہ مسئلہ بالاتفاق ہے اور اصح قول کے مطابق نفل میں بھی یہی حکم ہوگا، فرض والے حکم کے ساتھ ملاتے ہوئے (یعنی نفل نمازوں میں بھی تین آیات یا اس سے زائد کے ساتھ لمبا کرنا، مکروہ ہے۔) (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 351، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5126
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448ھ / 22 جون 2026ء