سنت مؤکدہ نماز بیٹھ کر پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سنتِ مؤکدہ نماز بیٹھ کر پڑھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا سنت موکدہ نماز بیٹھ کر ادا کرنے سے ہو جائے گی؟
جواب
سنتِ فجر میں قیام ضروری ہے بلاعذر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے، اگر پڑھیں تو ادا نہیں ہوں گی۔ نیز تراویح بلاعذر بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے بلکہ بعض کے نزدیک تو ہوگی ہی نہیں۔ لہٰذا عذر نہ ہو تو تراویح بھی کھڑے ہوکر ادا کی جائے۔
ان کے علاوہ بقیہ سنن مؤکدہ کو بلاعذر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ عذر نہ ہو تو سنت مؤکدہ، غیر مؤکدہ اور دیگر نوافل بھی کھڑے ہو کر ہی ادا کیے جائیں، کیونکہ بلاعذر بیٹھ کر پڑھنےسے ثواب کم ہوجاتا ہے۔ البتہ اگر کوئی عذر ہو تو سنن مؤکدہ بلا کراہت بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے۔
تنویر الابصار میں ہے: (و يتنفل مع قدرته على القيام قاعدا) قیام پر قدرت کے باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں۔
اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: في غير سنة الفجر في الأصح كما قدمه المصنف، بخلاف سنة التراويح لأنها دونها في التأكد، فتصح قاعدا وإن خالف المتوارث و عمل السلف“ یعنی سنت فجر کے علاوہ نوافل بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے جیسا کہ مصنف نے پہلے بیان کیا۔ بخلاف نماز تراویح کے (یعنی تراویح کی نماز بلاعذ بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے) کیونکہ اس کی تاکید سنت فجر کی بہ نسبت کم ہےلہٰذا اسے بیٹھ کر پڑھنا جائزہے اگرچہ یہ متوارث اور اسلاف کے عمل کے خلاف ہے۔ (در مختارشرح تنویر الابصار معہ رد المحتار، جلد 02، صفحہ 36، مطبوعہ بیروت)
مراقی الفلاح میں ہے: (يجوز النفل) إنما عبر به ليشمل السنن المؤكدة و غيرها فتصح إذا صلاها (قاعدا مع القدرة على القيام) ۔ ۔ ۔ ۔ یقال إلا سنة الفجر لما قيل بوجوبها و قوة تأكدها“ قیام پر قدرت ہونے کے باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، اس مسئلے کو مطلق نفل کے ساتھ اس لیے بیان کیا تاکہ سنن مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کو بھی شامل ہوجائے لہٰذا جب سنن مؤکدہ و غیر مؤکدہ کو بیٹھ کر پڑھے گا تو نماز درست ہوگی ۔ ۔ ۔ کہا گیا ہے کہ سنت فجر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے کیونکہ اس کو واجب بھی کہا گیا ہے اور اس کی تاکید زیادہ ہونے کی وجہ سے۔ (مراقی الفلاح، صفحہ 151، 152، مطبوعہ المکتبۃ العصریۃ)
بہارِشریعت میں ہے: تراویح بیٹھ کر پڑھنا بلا عذر مکروہ ہے، بلکہ بعضوں کے نزدیک تو ہوگی ہی نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 04، صفحہ 693، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2499
تاریخ اجراء: 05 ربیع الآخر 1447ھ / 29 ستمبر 2025ء