logo logo
AI Search

سلام کے علاوہ کسی اور فعل سے نماز سے باہر آنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قعدہ اخیرہ کے بعد قصداً منافی نماز عمل سے نماز واجب الاعادہ ہوگی یا نہیں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیف نماز کے احکام میں غنیۃ المستملی کے حوالے سے ایک مسئلہ لکھا ہوا  ہے: ”قَعدۂ اَخِيرہ کے بعد سلام يا بات چيت وغيرہ کوئی ايسا فِعل قَصداً (يعنی اِرادتاً) کرنا جو نَماز سے باہَر کردے۔ مگر سلام کے علاوہ کوئی فِعل قَصداً (یعنی ارادۃً) پايا گيا تو نَماز واجِبُ الاِعادہ ہو گی ۔ اور اگر بِلاقَصد (بِلا ارادہ) کوئی اِس طرح کافِعل پا يا گيا تونَماز باطِل۔“

اس میں لکھا ہے کہ قعدہ اخیرہ کے بعد قصدا منافی نماز فعل کرنے کی صورت میں نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ جبکہ ہدایہ میں یہ لکھا ہوا ہے: ”وإن تعمد الحدث في هذه الحالة أو تكلم أو عمل عملا ينافي الصلاة تمت صلاته؛ لأنه يتعذر البناء لوجود القاطع، لكن لا إعادة عليه“یعنی ہدایہ کے مطابق نماز کا اعادہ نہیں ہے۔ لہذا یہ ارشاد فرمائیے کہ ان میں سے درست مسئلہ کیا ہے؟ اگر نماز واجب الاعادہ ہے تو کیوں؟ اور پھر صاحب ہدایہ نے کس چیز کا اعادہ لازم نہیں کیا؟ یعنی دونوں میں تطبیق کیا ہوگی؟ سائل: سید عثمان شاہ (قصور شہر)

جواب

قعدہ اخیرہ کے بعد اپنے فعل سے نماز سے باہر نکلنے کو خروج بصنعہٖ کہتے ہیں۔ یہ نماز کے فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ لیکن اس فعل کا لفظ سلام کے ساتھ ہونا واجب ہے۔ اگر کسی نے قعدہ اخیرہ کے بعد لفظ سلام کے بجائے جان بوجھ کر نماز سے نکلنے کے لئے کوئی نماز کے منافی کام کیا تو  خروج بصنعہ والا فرض ادا ہوگیا۔ اس کا یہ فعل مفسد نماز شمار نہیں ہوگا۔ اس لئے اب اس پر اس نماز کو دوبارہ پڑھنا فرض نہیں ہے۔ لیکن چونکہ لفظ سلام کے ساتھ نماز سے باہر آنا واجب تھا جو کہ اس نے چھوڑ دیا اور جان بوجھ کر واجب چھوڑنے کی صورت میں نماز کا اعادہ لازم ہوتا ہے۔ اس لئے اس شخص پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔ 

اوپر ذکر کردہ تفصیل سے دونوں مسئلوں میں تطبیق واضح ہو گئی ہے کہ ہدایہ میں جو اعادہ نہ ہونے کا فرمایا وہاں بطور فرض اعادہ نہ ہونا ہے جیسا کہ اس میں بیان کردہ علت "لأنه لم يبق عليه شيء من الأركان" سے واضح ہے اور غنیہ میں جو اعادہ لازم کیا وہ سلام کا واجب ترک ہونے کی وجہ سے ہے۔ لہذا دونوں کتابوں کے مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

غنیۃ المستملی اور منیۃ المصلی میں ہے: "(والسابعۃ) من الفرائض۔۔۔۔(وھی الخروج من الصلوۃ بفعل المصلی) فانہ فرض۔۔۔۔ (حتی ان المصلی اذا احدث عمدا بعد ماقعد قدر التشہد او تکلم او عمل عملا ینافی الصلوۃ) کالاکل والشرب وغیر ذلک (تمت صلاتہ بالاتفاق) لتمام جمیع فرائضھا عندھما و کذا عندہ لوجود الخروج بصنعہ ایضا۔۔۔ولم یبق علیہ الا شیئ واجب وھو السلام و اما الفرائض فقد تمت جمیعا" ترجمہ: فرائض میں سے ساتواں فرض یہ ہے کہ نمازی کا اپنے فعل سے نماز سے نکلنا۔ یہاں تک کہ نمازی نے تشہد کی مقدار قعدہ کرنے کے بعد جب جان بوجھ کر حدث واقع کیا، کلام کیا یا کوئی ایسا کام کیا جو نماز کے منافی تھا جیسے کھانا یا پینا وغیرہ تو اس کی نماز پوری ہو جائے گی۔ صاحبین کے نزدیک تو فرائض پورا ہوجانے کی وجہ سے نماز پوری ہو جائے گی۔ یونہی امام اعظم کے نزدیک نماز سے نمازی کے فعل کے ساتھ نکلنے کی وجہ سے نماز پوری ہو جائے گی۔ اب نمازی کا صرف ایک واجب رہ گیا تھا جو کہ سلام پھیرنا۔ بہرحال فرائض تو سب پورے ہوچکے تھے۔ (غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المصلی، ص 254 ، مطبوعہ کوئٹہ)

ہدایہ میں ہے: "وإن تعمد الحدث في هذه الحالة أو تكلم أو عمل عملا ينافي الصلاة تمت صلاته؛ لأنه يتعذر البناء لوجود القاطع، لكن لا إعادة عليه لأنه لم يبق عليه شيء من الأركان" ترجمہ: اگر اس حالت میں نمازی نے جان بوجھ کر حدث کیا یا کلام کیا یا کوئی ایسا عمل کیا جو نماز کے منافی ہو تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔ کیونکہ قاطع پائے جانے کی وجہ سے بنا کرنا منقطع ہوگیا۔ لیکن اس پر نماز کا اعادہ فرض نہیں ہے۔ کیونکہ ارکان میں سے کوئی بھی رکن اب باقی نہیں رہا۔ (الہدایہ، کتاب الصلوۃ، باب الحدث فی الصلوۃ، ج 1، ص 60، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

بحرالرائق میں مسئلے کی علت یوں بیان کی ہے: "ومعنى قوله تمت صلاته تمت فرائضها، ولهذا لم تفسد بفعل المنافي وإلا فمعلوم أنها لم تتم بسائر ما ينسب إليها من الواجبات لعدم خروجه بلفظ السلام وهو واجب بالاتفاق حتى أن هذه الصلاة تكون مؤداة على وجه مكروه فتعاد على وجه غير مكروه كما هو الحكم في كل صلاة أديت مع الكراهة" ترجمہ: ماتن کے قول: نماز مکمل ہوگئی"  کا معنی یہ ہے کہ نماز کے فرائض مکمل ہوگئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نماز کے منافی فعل کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہو رہی۔ ورنہ یہ معلوم ہے کہ نماز ان تمام چیزوں یعنی واجبات کے اعتبار سے مکمل نہیں ہوئی جن کی طرف نماز کو منسوب کیا جاتا ہے  کہ لفظ سلام کے ذریعے نماز سے نہیں نکلے حالانکہ وہ بالاتفاق واجب ہے۔ یہاں تک کہ یہ نماز کراہت کے طریقے پر ادا ہوئی ہے لہذا، اس نماز کو غیر مکروہ طریقے سے دہرایا جائے گا جیسا کہ ہر وہ نماز جسے کراہت کے ساتھ ادا کیا گیا ہو، اس کے بارے میں حکم ہے۔ (بحر الرائق، کتاب الصلوۃ، ج 1، ص 396، دار الکتاب الاسلامی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو شاہد محمد ماجد علی مدنی
مصدق: ابو الحسن مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-12455
تاریخ اجراء: 02 جمادی الاولی 1445 ھ / 17 نومبر 2023ء