صاحبِ ترتیب کو نماز کے دوران قضا یاد آنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صاحب ترتیب کو وقتی نماز کے دوران قضا یاد آ جائے تو کیا حکم ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک شخص صاحبِ ترتیب ہے۔ اُس کی فجر کی نماز قضا ہو گئی۔ پھر ظہر کی نماز کے دوران اسے یاد آیا کہ میری فجر کی نماز قضا ہے، لیکن اس نے پہلے ظہر کی نماز مکمل ادا کی، پھر فجر کی قضا نماز پڑھی اور اس کے بعد عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں معمول کے مطابق ادا کرتا رہا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اُس کی ظہر کی نماز اور بعد کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟ کیا ظہر کی نماز اور بقیہ نمازیں درست ہو گئیں، یا دوبارہ قضا کی نیت سے پڑھنا ہوگی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں ظاہری پیش آمدہ صورت کے اعتبار سے ظہر کی نماز کے علاوہ آپ کی بقیہ سب نمازیں درست ہو گئیں۔ آپ کو صرف ظہر کی نماز دوبارہ قضا کی نیت سے پڑھنا ہوگی۔
تفصیل یہ ہے کہ صاحبِ ترتیب پر پانچوں فرضوں میں باہم اور فرض و وتر کے درمیان ترتیب قائم رکھنا ضروری ہے۔ صاحب ترتیب کی اگر کوئی نماز قضا ہو جائے اور وہ قضا نماز یاد ہوتے ہوئے اور وقتی نماز میں گنجائش ہونے کے باوجود قضا نماز کو پڑھے بغیر وقتی نماز پڑھے، تو وقتی نماز نہیں ہوتی۔ یونہی اگر وقتی نماز پڑھنے کے دوران قضا نماز یاد آجائے، تو وقتی نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ اب صورتِ مسئولہ میں اولاً تو ظہر کی نماز سے پہلے فجر کی قضا کرنا لازم تھی۔ پھر جبکہ ظہر کی وقتی نماز کے دوران فجر کی قضا نماز یاد آگئی تو ظہر کی نماز فاسد ہو گئی۔ اب اس کے بعد فجر کی نماز اگرچہ قضا کرلی اور وہ درست ہو گئی مگر چونکہ ظہر کی نماز فاسد ہو گئی تھی، تو عصر کی وقتی نماز سے پہلے پچھلی ظہر کی فاسد ہو جانے والی نماز کی ادائیگی لازم تھی تا کہ ترتیب قائم رہے۔ لیکن ظاہر یہی ہے کہ اس شخص نے ظہر کی نماز کو اپنے خیال میں درست سمجھا اور اس کے گمان میں کوئی قضا نماز لازم نہیں تھی، لہذا اس بنیاد پر اس نے عصر کی نماز پڑھ لی، لہذا ایسی صورت میں عصر کی نماز درست ہوئی اور بقیہ وقتی نمازیں بھی درست ہوتی گئیں، کیونکہ جس نے اپنے گمان میں یہ سمجھا ہو کہ اس پر کوئی قضا نماز نہیں اور وہ اگلی نماز ادا کر لے تو اس گمان کی بنیاد پر ترتیب ساقط ہو جاتی ہے اور اگلی وقتی نماز درست ہو جاتی ہے۔ اس گمان کو فقہائے کرام نے نِسیان والے مسئلے کے ساتھ لاحق کیا ہے، یعنی جیسے قضا نماز بھول کر وقتی نماز پڑھنے سے ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، تو اس گمان کا بھی وہی حکم ہے جو نِسیان کا ہے۔ نیز صورتِ مسئولہ میں خاص اس عصر کی وقتی نماز میں ہی ترتیب کے ساقط ہونے کا حکم ہوگا۔ اس کے بعد والی وقتی نمازوں کے لیے ترتیب باقی رہے گی، جیسا کہ وقت کی تنگی، یا بھولنے کی وجہ سے جو ترتیب ساقط ہو تو خاص اسی وقتی نماز میں ہوتی ہے، بقیہ بعد والی وقتی نمازوں میں ترتیب باقی رہتی ہے۔
جزئیات ملاحظہ ہوں:
صاحب ترتیب شخص پر فرض نمازوں میں باہم ترتیب رکھنا لازم ہوتا ہے، سوائے یہ کہ وہ قضا نماز بھول جائے، یا وقت تنگ ہو، یا صاحب ترتیب ہی نہ رہا ہو، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(الترتیب بین الفروض الخمسۃ والوتر اداء وقضاء لازم۔۔۔الا) فلا یلزم الترتیب (اذاضاق الوقت أو نسیت الفائتۃ أو فاتت ست بخروج وقت السادسۃ)‘‘ ترجمہ: پانچ فرض نمازوں میں باہم اور وتر میں ترتیب لازم ہے، چاہے یہ ادا ہوں یا قضا، سوائے یہ کہ جب وقت تنگ ہو یا قضا ہونے والی نماز کو بھول جائے یا چھٹی نماز کا وقت نکل جانے سے چھ نمازیں قضا ہوجائیں تو اب ترتیب لازم نہیں۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 638-633، دارالمعرفۃ، بیروت)
صاحب ترتیب شخص اگر قضا نماز یاد ہوتے ہوئے وقتی نماز پڑھ لے گا تو اس کی وقتی نماز نہیں ہوگی، چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے: ”الترتیب بین الفائتۃ و الوقتیۃ و بین الفوائت مستحق کذا فی الکافی، حتی لا یجوز اداء الوقتیۃ قبل قضا ء الفائتۃکذا فی محیط السرخسی۔۔۔اذا صلی الظھر وھو ذاکر انہ لم یصل الفجر فسد ظھرہ“ ترجمہ: قضا اور ادا نمازوں کے مابین اور قضا نمازوں میں باہم ترتیب قائم رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ کافی میں مذکور ہے، یہاں تک کہ فوت ہونے والی نماز سے پہلے، وقتی نماز ادا کرنا جائز نہیں اسی طرح محیط سرخسی میں ہے۔۔۔جب کسی شخص نے ظہر کی نماز پڑھی اور اسے یاد تھاکہ اس نے فجر کی نماز نہیں پڑھی ہے تو اس کی ظہر فاسد ہو گئی۔ (الفتاوٰی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 135-134، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں ارشاد فرماتے ہیں: ”پانچوں فرضوں میں باہم اور فرض و وتر میں ترتیب ضروری ہے کہ پہلے فجر پھر ظہر پھر عصر پھر مغرب پھر عشا پھر وتر پڑھے، خواہ یہ سب قضا ہوں یا بعض ادا بعض قضا، مثلاً ظہر کی قضا ہو گئی تو فرض ہے کہ اسے پڑھ کر عصر پڑھے، یا وتر قضا ہوگیا تو اُسے پڑھ کر فجر پڑھے اگر یاد ہوتے ہوئے عصر یا فجر کی پڑھ لی تو ناجائز ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ4، صفحہ 370، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صاحب ترتیب کو وقتی نماز کے دوران قضا نماز یاد آجائے تو بھی وقتی نماز فاسد ہوجاتی ہے، چنانچہ رد المحتار میں ہے: ”لو تذکّر فائتۃً وھو یصلی فان کان قبل القعود قدر التشھّد بطلت اتفاقاً“ ترجمہ: اگر (صاحب ترتیب کو) نماز کے دوران کوئی قضا نماز یاد آگئی، تو اگر یہ یاد آنا قعدۂ اخیرہ میں مقدارِ تشہد بیٹھنے سے پہلے ہو، تو بالاتفاق (وقتی نماز) باطل ہو جائے گی۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد 2، صفحہ 641، دارالمعرفۃ، بیروت)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے: ’’ومن تذکّر صلوات علیہ وھو فی الصلاۃ فقد حکی عن الفقیہ ابی جعفر رحمہ اللہ تعالیٰ ان مذھب علمائنا رحمھم اللہ تعالی ان تفسد صلاتہ“ ترجمہ: اور جس شخص کو نماز کے دوران اپنی کئی فوت شدہ نمازیں یاد آ جائیں، تو فقیہ ابو جعفر رحمہ اللہ تعالیٰ سے منقول ہے کہ ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالیٰ کا مذہب یہ ہے کہ اس کی (موجودہ وقتی) نماز فاسد ہو جائے گی۔(الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 122، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ”قضا نماز یاد نہ رہی اور وقتیہ پڑھ لی پڑھنے کے بعد یاد آئی تو وقتیہ ہو گئی اور پڑھنے میں یاد آئی تو گئی۔“ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 705، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اس گمان کی بنیاد پر وقتی نماز پڑھی کہ اُس پر کوئی قضا نماز نہیں، تو ترتیب ساقط ہو جائے گی اور وقتی نماز درست ہو جائے گی، چنانچہ صورت مسئولہ کا خاص اور واضح جزئیہ ملاحظہ ہو۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(ظن ظنا معتبرا) أي يسقط لزوم الترتيب أيضا بالظن المعتبر، كمن صلى الظهر ذاكرا لتركه الفجر فسد ظهره، فإذا قضى الفجر ثم صلى العصر ذاكرا للظهر جاز العصر، إذ لا فائتة عليه في ظنه حال أداء العصر، وهو ظن معتبر لأنه مجتهد فيه‘‘ ترجمہ: (معتبر گمان کیا) یعنی معتبر گمان کی وجہ سے بھی ترتیب کا لازم ہونا ساقط ہو جاتا ہے۔ جیسے ایک شخص نے فجر کی قضا یاد ہوتے ہوئے ظہر پڑھ لی، تو اس کی ظہر فاسد ہو گئی۔ پھر جب اُس نے فجر کی قضا پڑھ لی، پھر اس کے بعد ظہر کی نماز یاد ہوتے ہوئے عصر پڑھی تو عصر جائز ہو جائے گی، کیونکہ عصر ادا کرتے وقت اس کے گمان میں کوئی نماز فوت شدہ نہیں تھی، اور یہ معتبر گمان ہے، اس لیے کہ اس میں اجتہاد کیا گیا ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 629، 628، دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’وإذا صلى الظهر وهو ذاكر أنه لم يصل الفجر فسد ظهره ثم قضى الفجر وصلى العصر وهو ذاكر للظهر يجوز العصر؛ لأنه لا فائتة عليه في ظنه حال أداء العصر وهو ظن معتبر، كذا في التبيين‘‘ ترجمہ: اور جب کسی شخص نے ظہر کی نماز اس حال میں پڑھی کہ اسے یاد تھا کہ اس نے فجر کی نماز نہیں پڑھی، تو اس کی ظہر فاسد ہو گئی۔ پھر اس نے فجر کی قضا ادا کی اور عصر کی نماز پڑھی، اور اسے ظہر یاد تھی، تو عصر جائز ہو جائے گی، کیونکہ عصر ادا کرتے وقت اس کے گمان میں کوئی فوت شدہ نماز باقی نہ تھی، اور یہ ایسا گمان ہے جو شرعاً معتبر ہے۔ اسی طرح تبیین میں مذکور ہے۔ (الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 122، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
محیط برہانی میں ہے: ”صلى العصر وعنده أنه لا ظهر عليه، فيجزئه كما لو ترك الظهر أصلا، وعنده أنه صلى الظهر، فإنه يجزئه العصر‘‘ ترجمہ: کسی نے نمازِ عصر پڑھی اور اس کے نزدیک اس پر ظہر کی نماز باقی نہیں، تو اس کی نمازِ عصر جائز ہو جائے گی، جیسا کہ اگر کسی نے ظہر کی نماز پڑھی ہی نہ ہو اور وہ یہ سمجھ رہا ہو کہ اس نے ظہر پڑھی ہے، تو اس کی نمازِ عصر درست ہو جاتی ہے۔ (محیط برھانی، جلد 1، صفحہ 535، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ’’فجر کی نماز قضا ہو گئی اور یاد ہوتے ہوئے ظہر کی پڑھ لی پھر فجر کی پڑھی تو ظہر کی نہ ہوئی، عصر پڑھتے وقت ظہر کی یاد تھی مگر اپنے گمان میں ظہر کو جائز سمجھا تھا تو عصر کی ہو گئی‘‘۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 705، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فقہائے کرام نے مذکورہ گمانِ معتبر کو نِسیان کے ساتھ لاحق کیا ہے، یعنی جیسے قضا بھول کر وقتی نماز پڑھنے سے ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، ایسے ہی گمان معتبر میں بھی ترتیب ساقط ہوگی، چنانچہ بحر الرائق میں ہے: ’’ويسقط الترتيب بالنسيان وهو عدم تذكر الشيء وقت حاجته وهو عذر سماوي مسقط للتكليف لأنه ليس في وسعه ولأن الوقت وقت للفائتة بالتذكر وما لم يتذكر لا يكون وقتا لها ومما ألحق بالنسيان الظن‘‘ ترجمہ: اور نسیان (بھول جانے) کی وجہ سے ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، اور نسیان سے مراد یہ ہے کہ انسان کو ضرورت کے وقت وہ چیز یاد نہ ہو۔ یہ ایک آسمانی عذر ہے جو اس تکلیف (یعنی ترتیب کے وجوب) کو ساقط کر دیتا ہے، کیونکہ یہ اس کے اختیار میں نہیں۔ نیز فوت شدہ نماز کا وقت یاد آنے کے ساتھ ہی اس کے حق میں وقت بنتا ہے، لہٰذا جب تک اسے یاد نہ ہو، وہ وقت اس فوت شدہ نماز کے لیے وقت شمار نہیں ہوتا۔ اور جن امور کو نسیان کے ساتھ ملحق کیا گیا ہے، ان میں ظن (گمان) بھی شامل ہے۔ (بحر الرائق، جلد 2، صفحہ 89، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
صورت مسئولہ میں صرف عصر میں ترتیب کے ساقط ہونے کا حکم ہوگا، اس کے بعد والی وقتی نمازوں میں ترتیب باقی رہے گی، چنانچہ رد المحتار اور حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے: واللفظ للثانی: ’’لو سقط الترتيب بين فائتة ووقتية لضيق وقت أو نسيان يبقى فيما بعد تلك الوقتية، انتهى حلبي‘‘ ترجمہ: اگر وقت کی تنگی یا بھول جانے کی وجہ سے فوت شدہ نماز اور وقتی نماز کے درمیان ترتیب ساقط ہو جائے تو وہ سقوط صرف اسی وقتی نماز تک محدود رہے گا، اور اس کے بعد والی نمازوں کے لیے ترتیب باقی رہے گی۔ انتھى حلبی۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 486، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1212
تاریخ اجراء: 16 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 02 جون 2026ء