قضا نمازوں میں سنت مؤکدہ پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
قضا نمازیں ادا کرتے وقت کیا سنتِ مؤکدہ پڑھنا بھی ضروری ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اگر کسی شخص کی کوئی نماز رہ جائے، تو اس کی قضا میں صرف فرض اور واجب نمازیں ادا کی جائیں گی، سنن و نوافل کی قضا نہیں ہو گی۔ البتہ! فجر کی نماز رہ جائے اور اسی دن زوال سے پہلے اس کی قضا کی جائے، تو فجر کے فرضوں کے ساتھ اس کی دو سنتیں بھی قضا کر لی جائیں۔ ہاں! اگر زوال کے بعد یا اگلے دن قضا کی جائے، تو صرف دو فرض ادا کیے جائیں گے۔ نیز اگر عشاکی نماز رہ جائے، تو چار فرض کے ساتھ وتر کی بھی قضا کرنا لازم ہوگا کہ وتر واجب ہے۔
نوٹ: اگر کسی شخص نے بلاعذرِ شرعی جان بوجھ کر فرض و واجب نماز ترک کی ہو تو قضا کے ساتھ اس گناہ سے سچی توبہ کرنا بھی لازم ہے۔
بحر الرائق میں ہے و لم تقض إلا تبعا قبل الزوال ۔ ۔ ۔ و قيد بسنة الفجر لأن سائر السنن لا تقضى بعد الوقت لا تبعا و لا مقصودا ترجمہ: فجر کی سنتوں کی قضا نہیں پڑھی جائے گی، ہاں فرض بھی قضا ہوگئے ہوں، تو زوال سے پہلے پہلے فرضوں کے ساتھ ساتھ سنتوں کی قضا بھی پڑھی جائے گی، اور مصنف نے فجر کی سنتوں کی قید لگائی کیونکہ بقیہ ساری سنتوں کی وقت گزر جانے کے بعد نہ تو تبعاً قضا ہے، اور نہ مقصودی طور پر۔ (بحر الرائق، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 132، مطبوعہ: كوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے فجر کی نماز قضا ہوگئی اور زوال سے پہلے پڑھ لی تو سنتیں بھی پڑھے ورنہ نہیں علاوہ فجر کے اور سنتیں قضا ہوگئیں تو ان کی قضا نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 664، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی ہندیہ میں ہے و يجب القضاء بتركه ناسيا أو عامدا و إن طالت المدة و لا يجوز بدون نية الوتر كذا في الكفاية ترجمہ:وتر بھول سے چھوٹ گئے ہوں یا جان بوجھ کر چھوڑے ہوں بہرصورت ان کی قضا واجب ہے اگرچہ کتنی ہی مدت گزر جائے اور وتر کی قضا، وتر کی نیت کے بغیر جائز نہیں جیسا کہ کفایہ میں ہے۔ (فتاوی ہندیۃ، جلد 1، صفحہ 111، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے وتر واجب ہے اگر سہواً یا قصداً نہ پڑھا تو قضا واجب ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 653، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
جب گناہ سرزرد ہوجائے تو اس سے توبہ کرنے کے متعلق کنز العمال میں ہے اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسر العلانیۃ بالعلانیۃ ترجمہ: جب تم کوئی گناہ کرو تو اس سے توبہ کرو خفیہ گناہ کی خفیہ توبہ اوراعلانیہ گناہ کی اعلانیہ توبہ ہے۔ (کنز العمال، جلد 4، صفحہ 209، مؤسسة الرسالة، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5233
تاریخ اجراء: 05 صفر المظفر 1448ھ / 20 جولائی 2026ء