قیام میں الٹا ہاتھ استعمال کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قیام میں الٹا ہاتھ استعمال کرنے سے نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ قیام کی حالت میں الٹا ہاتھ جماہی روکنے کے لئے یا ویسے ہی کھجانے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے ورنہ نماز ٹوٹ جائے گی۔ تو کیا واقعی ایسا ہے یا نہیں؟ میں نے بہار شریعت اور نماز کے احکام میں مفسدات نماز میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں پڑھا۔ تو اس مسئلے کی کیا حقیقت ہے؟
جواب
نماز میں قیام کی حالت میں جماہی روکنے کے لئے یا کسی بھی ضرورت کے تحت ہاتھ کا استعمال کرنے کی حاجت ہو تو سیدھے ہاتھ کو استعمال کرنا چاہئے اور بقیہ ارکان و احوال نماز میں بائیں ہاتھ کو استعمال میں لانا چاہئے اور یہ ممانعت اس وجہ سے نہیں ہے کہ قیام کی حالت میں بائیں ہاتھ کو استعمال کرنے سے نماز فاسد ہوجائے گی بلکہ اس بناء پر ہے کہ حتی الامکان نماز میں اعضا کو بے جا حرکت سے بچانا چاہئے اورحرکت کی ضرورت پڑے تو کم سے کم اعضا کو حرکت دی جائے۔ تو دورانِ نماز، حالتِ قیام میں جب ہاتھ کا استعمال ناگزیر ہوجائے تو سیدھا ہاتھ استعمال میں لایا جائے کہ اس طرح کرنے سے صرف سیدھا ہاتھ اپنے موضعِ سنت سے ہٹے گا جبکہ الٹا ہاتھ اپنے موضعِ سنت پر ہی رہے گا تو یوں فقط ایک سنت فوت ہوگی جبکہ حالت قیام میں الٹا ہاتھ استعمال کرنےسے الٹا ہاتھ تو موضعِ سنت سے ہٹے گا ہی اس کے ساتھ ساتھ سیدھا ہاتھ بھی موضعِ سنت پر برقرار نہیں رہے گا کیونکہ سیدھے ہاتھ کا الٹے ہاتھ کی پشت پر ہونا حالتِ قیام میں مسنون ہے۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے ’’ویغطی فاہ بیمینہ فی القیام وفی غیرہ بالیسار۔‘‘ یعنی قیام کی حالت میں منہ پر سیدھے ہاتھ کو رکھے اور بقیہ ارکان میں الٹے ہاتھ کو رکھے۔ (فتاوٰی عالمگیری، جلد 1 صفحہ 107 مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ شامی قدس سرہ السامی رد المحتار میں حاشیۃ الطحطاوی کے حوالے سے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ”لأن التغطية ينبغي أن تكون باليسرى كالامتخاط ، فإذا كان قاعدا يسهل ذلك عليه ولم يلزم منه حركة اليدين، بخلاف ما إذا كان قائما فإنه يلزم من التغطية باليسرى حركة اليمين أيضا لأنها تحتها. ا هـ۔“ یعنی جماہی روکنے کے لئے منہ ڈھانپنے کا عمل الٹے ہاتھ سے ہونا چاہئے جس طرح ناک صاف کرنے کا عمل بائیں ہاتھ سے کیا جاتا ہے۔ تو جب نماز قعدہ میں ہوگا تواس کے لئے الٹے ہاتھ کا استعمال آسان ہوگا اور اس سے دونوں ہاتھوں کو حرکت دینا لازم نہیں آئے گا جبکہ اس کے برخلاف قیام کی حالت میں الٹا ہاتھ استعمال کرنے سے سیدھے ہاتھ کو بھی لازماً حرکت کرنی پڑے گی کیونکہ الٹا ہاتھ سیدھے ہاتھ کے ہی نیچے ہوتا ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر، جلد 1 صفحہ 214، مطبوعہ کوئٹہ) (رد المحتار، جلد 2 صفحہ 215، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے ارشادات کا مجموعہ بنام ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے اور جماہی میں آواز نکلنا تو کہیں نہ چاہیے اگرچہ غیرِ مسجد میں تنہا ہو کہ وہ شیطان کا قہقہہ ہے۔ جماہی جب آئے حتی الامکان منہ بند رکھو، منہ کھولنے سے شیطان منہ میں تھوک دیتا ہے۔ یوں نہ رُکے تو اوپر کے دانتوں سے نِیچے کا ہونٹ دبالو اور یوں بھی نہ رُکے تو حتی الامکان (منہ) کم کھولو اور اُلٹا ہاتھ اُلٹی طرف سے منہ پر رکھ لو یونہی نماز میں بھی مگر حالتِ قیام میں سیدھا ہاتھ اُلٹی طرف سے رکھو کہ اُلٹا ہاتھ رکھنے میں دونوں ہاتھ اپنی مسنون جگہ سے بدلیں گے اور سیدھا رکھنے میں صرف یہ ہی بضرورت بدلا، اُلٹا اپنی محلِ سُنّت پر ثابت رہا۔ جماہی روکنے کا ایک مجرَّب طریقہ یہ ہے کہ جب جماہی آنے کو ہو فوراً تصور کرے کہ حضراتِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کو کبھی نہ آئی (رد المحتار علی الدر المختار، ج ۲، ص ۴۹۸، ۴۹۹) کہ یہ مثلِ احتلام شیطان کی طرف سے ہے اور وہ دخلِ شیطان سے معصوم (یعنی محفوظ ہیں)۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، حصہ 2 صفحہ 318 - 319، مکتبۃ المدینہ)
قیام میں الٹے ہاتھ کے استعمال سے اگر نماز فاسد ہوجایا کرتی تو امام اہلسنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نماز کے فساد کا حکم ارشاد فرماتے جبکہ آپ نے فسادِ نماز کا حکم نہیں دیا بلکہ الٹے ہاتھ کے استعمال سے ہونے والی ایک خرابی کی طرف نشاندہی فرمائی اور وہ یہ ہے کہ اس طرح کرنے سے دونوں ہاتھ محل سنت پر نہ رہیں گے لہٰذا ان عبارات فقہاء سے واضح و ظاہر ہے کہ دورانِ نماز حالتِ قیام میں الٹے ہاتھ کے استعمال سے ممانعت کی وجہ، فسادِ نماز نہیں بلکہ ترکِ سنت کی کثرت ہے۔
مذکورہ بالا حکم قیام میں جماہی یا ایسی جگہ کھجلی سے متعلق ہے کہ جہاں بآسانی الٹے یا سیدھے ہاتھ سے کھجانا ممکن ہو البتہ ایسی جگہیں کہ جہاں سیدھے ہاتھ سے کھجانا ممکن ہی نہ ہو جیسے سیدھے ہاتھ کی پشت، کلائی، کہنی اور بازو پر کھجلی ہورہی ہو یا ایسی جگہ کھجلی ہو کہ جہاں الٹے ہاتھ کے مقابلے میں سیدھے ہاتھ کا استعمال دشوار ہوجائے اور جسم کو زیادہ حرکت دینی پڑے جیسے الٹی ران پر کھجلی ہو رہی ہو تو اس صورت میں سیدھے ہاتھ کے استعمال میں دائیں طرف کا پورا بدن حرکت کرے گا اور جھکےبغیر یہ ممکن نہیں تو یہ زائد حرکت ہوگی تو ان صورتوں میں حالت قیام میں الٹے ہاتھ کے ضرورتاً استعمال میں حرج نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: FMD-0044
تاریخ اجراء: 05 ذی الحجۃ 1437ھ / 08 ستمبر 2016ء