پہلے قعدے میں تشہد کے بعد سلام پھیرنے پر نماز کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پہلے قعدے میں تشہد کے بعد بھولے سے سلام پھیر دیا، تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ چار رکعت والی نماز میں قعدہ اولیٰ میں تشہد پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بجائے بھولے سے سلام پھیر دیا۔ پھر یاد آنے پر کھڑا ہو گیا اور بقیہ دو رکعتیں پڑھ کر سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کر لی۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس صورت میں نماز ہو گئی؟
جواب
(1) اگر بھول کر سلام پھیرنے کے بعد منافی نماز کوئی عمل، جیسے: بات چیت، قہقہہ، جان بوجھ کر حدث طاری کرنا، مسجد سے باہر نکل جانا وغیرہ نماز کے خلاف کوئی کام نہیں کیا تھا، اور پھر کھڑے ہو کر مزید دو رکعت ادا کر کے سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کر لی، تو اس صورت میں نماز درست ہو گئی، کیونکہ بھول کر سلام پھیرنے کی وجہ سے وہ نماز ختم نہیں ہوئی تھی۔
(2) اگر بھول کر سلام پھیرنے کے بعد بات چیت، قہقہہ، جان بوجھ کر حدث طاری کرنا، مسجد سے باہر نکل جانا وغیرہ نماز کے خلاف کوئی کام کر لیا تھا، تو اب اس پر مزید دو رکعت ملانے کی گنجائش نہیں تھی، لہذا ایسی صورت میں وہ نماز درست نہیں ہوئی، بلکہ اس نماز کو دوبارہ سے پڑھنا ضروری ہوگا۔
نور الایضاح میں ہے: ’’مصل رباعية أو ثلاثية أنه أتمها فسلم ثم علم أنه صلى ركعتين أتمها وسجد للسهو“ ترجمہ: چار رکعت یا تین رکعت نماز پڑھنے والے نے یہ گمان کیا کہ اس نے نماز پوری کر لی اور سلام پھیر دیا پھر اسے یاد آ گیا کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ بقیہ رکعت پوری کرے اور سجدہ سہو کرے۔
نور الایضاح کی اس عبارت ”فسلم ثم علم“ کے بعد مراقی الفلاح میں ہے: ”قبل إتيانه بمناف“ ترجمہ: نماز کے خلاف کوئی عمل کرنے سے پہلے (یاد آ گیا)۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 182، مطبوعہ مکتبۃ العصریۃ، بیروت)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(سلم مصلی الظھر) مثلا (علی) رأس (الرکعتین توھما) اتمامھا (اتمھا) اربعا (وسجد للسھو)؛ لان السلام ساھیا لایبطل؛ لانہ دعاء من وجہ‘‘ ترجمہ: مثلاً ظہر کی نماز پڑھنے والے نے چار رکعت پوری ہونے کے خیال میں دو رکعت پر سلام پھیر دیا، تو وہ چار رکعت مکمل کرے اور سجدہ سہو کرے کیونکہ بھول کر سلام پھیرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ سلام ایک طرح سے دعا ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، باب سجود السھو، صفحہ 674، دار المعرفۃ، بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے: ’’ولو سلم مصلي الظهر على رأس الركعتين على ظن أنه قد أتمها، ثم علم أنه صلى ركعتين، وهو على مكانه يتمها ويسجد للسهو أما الإتمام فلأنه سلام سهو فلا يخرجه عن الصلاة. وأما وجوب السجدة فلتأخير الفرض وهو القيام إلى الشفع الثاني‘‘ ترجمہ: اگر ظہر کی نماز پڑھنے والے نے یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس نے (چار رکعت) نماز پوری پڑھ لی، دوسری رکعت پر سلام پھیردیا، پھر اسے معلوم ہوا کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں اور وہ اپنی نماز کی جگہ پر ہے تو وہ بقیہ نماز پوری کرے اور سجدہ سہو کرے۔ بقیہ نماز پوری کرنے کا حکم تو اس لئے کہ ہے کہ یہ سلام بھول کر پھیرا گیا تو اس کی وجہ سے وہ نماز سے باہر نہیں ہوا اور سجدہ سہو کا واجب ہونا تو وہ فرض یعنی دوسرے شفعہ کے قیام میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، فصل فی بیان سبب الوجوب، صفحہ 693-692، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ’’ظہر کی نماز پڑھتا تھا اور یہ خیال کر کے کہ چار پوری ہو گئیں دو رکعت پر سلام پھیر دیا، تو چار پوری کر لے اور سجدۂ سہو کرے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 718، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی محمد وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ اگر چار رکعات والی نماز میں دو رکعت پر سلام پھیرتے ہی فوراً یاد آ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ نئے سرے سے نماز شروع کرنا چاہیے؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ”جب تک کوئی منافی صلوٰۃ فعل (نماز کے خلاف کوئی عمل) نہ کیا ہو تو بقیہ نماز پوری کر لے اور آخر میں سجدہ سہو کرے از سرِ نو نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔“ (وقار الفتاوی، جلد 02، صفحہ 119، مطبوعہ بزم وقار الدین)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1239
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448 ھ/22 جون 2026ء