پینٹ یا ٹراؤزر فولڈ کر کے نماز پڑھنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لٹکا ہوا کپڑا اٹھانے پر حدیث اور پینٹ یا ٹراؤزر کو فولڈ کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بخاری شریف کی ایک روایت پڑھی تھی، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب نماز پڑھو تو لٹکتے کپڑے کو اٹھا لو کہ اس میں سے جو شے زمین کو پہنچے گی، وہ آگ میں ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا پینٹ (pant) یا ٹراؤزر (trousers) کو فولڈ کرنا نیچے سے یا اوپر سے مکروہ تحریمی ہے؟ اگر ہے تو مذکورہ حدیث سے کیا مراد ہے؟
جواب
حدیث مبارکہ میں جو کپڑا لٹکانے سے منع کیا گیا ہے وہ براہِ تکبر و عجب ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ اسبال یعنی ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا اگر تکبر و غرور کی وجہ سے ہو تو ناجائز و حرام ہے اور اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی و گناہ ہے، اس طرح پڑھی جانے والی نماز واجب الاعادہ ہے یعنی دوبارہ پڑھنی ہوگی اور اگر تکبر و عجب وغیرہ کچھ نیت نہ ہو تو مکروہ تنزیہی و خلافِ اولیٰ ہے۔ اس صورت میں نماز واجب الاعادہ نہیں یعنی ایسی نماز کا دوبارہ پڑھنا واجب نہیں۔
فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”بالجملہ اسبال اگر براہ عجب و تکبر ہے حرام ورنہ مکروہ اور خلاف اولیٰ، نہ حرام و مستحق وعید۔“ (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 167، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی تاج الشریعہ میں فقیہ اسلام تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”تہبند یا پائجامہ کا ٹخنوں سے نیچا رکھنا اگر تکبر کی وجہ سے ہو تو مکروہ تحریمی ہے اور نماز واجب الاعادہ، ورنہ مکروہ تنزیہی ہے اور نماز کا اعادہ واجب نہیں۔“ (فتاوی تاج الشریعہ، ج 3، کتاب الصلاۃ، ص 194، اکبر بک سیلرز، لاہور)
سوال میں ذکر کی گئی حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے شیخ ِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”یعنی قدم کا وہ حصہ جو ٹخنوں سے نیچے ہے اور اس پر تہبند بطور فخر لٹکایا ہوا ہے، بعض شارحین نے کہا: ”مطلب یہ ہے کہ یہ فعل مذموم ہے اور اہل نار کے افعال میں سے ہے۔“ (اشعۃ اللمعات، مترجم، ج 5، ص 556، مطبوعہ فرید بک سٹال، لاہور)
پینٹ، ٹراؤزر وغیرہ میں بھی یہی حکم ہے کہ یہ بھی بنیت تکبر ٹخنوں سے نیچے نہیں رکھ سکتے، اس نیت سے نیچے رکھنے پر گناہ ہوگا لیکن اگر یہ نیت نہیں تو گناہ نہیں البتہ مکروہ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹخنوں سے نیچے تک پینٹ وغیرہ پہنیں اور پھر نماز پڑھنے لگیں تو فولڈ کرکے اوپر کر لیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ پینٹ، شلوار وغیرہ کی بناوٹ ہی اس قدر ہو کہ وہ ٹخنوں سے نیچے نہ جائے، اگر کسی کی پینٹ یا شلوار ٹخنوں سے نیچے ہے تو اسے فولڈ کر کے یا اُڑس کر نماز نہیں ادا کرسکتا کیونکہ یہ گناہ ہے، ایسی صورت میں وہ اوپر کھینچ کر ٹخنوں سے اوپر کر لے اور اگر اوپر نہیں ہو پارہی اور نیت تکبر نہیں تو اسی طرح اس کو رہنے دے، نماز ادا ہو جائے گی، مکروہ تحریمی بھی نہیں ہوگی۔
خلیلِ ملت، مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”شلوار کو اوپر اُڑس لینا یا اس کے پائنچہ کو نیچے سے لوٹ لینا، یہ دونوں صورتیں کفِ ثوب یعنی کپڑا سمیٹنے میں داخِل ہیں اور کف ثوب یعنی کپڑا سمیٹنا مکروہ اور نماز اِس حالت میں ادا کرنا، مکروہِ تحریمی واجب الاعادہ کہ دہرانا واجب، جبکہ اِسی حالت میں پڑھ لی ہو اور اصل اِس باب میں کپڑے کا خلافِ معتاد استعمال ہے، یعنی اس کپڑے کے استعمال کا جو طریقہ ہے، اس کے برخلاف اُس کا استعمال، جیسا کہ عالمگیری میں ہے۔“ (فتاوی خلیلیہ، جلد 1، صفحہ 246، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2424
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر 1447ھ / 01 اگست 2025ء