logo logo
AI Search

ناپاک صوفے پر نماز پڑھنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ناپاک صوفے پر خشک ہوجانے کے بعد نماز پڑھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے اپنے گھر میں صوفوں پر کور ڈالے ہوئے ہیں، بچے نے ایک صوفے کے کور پر پیشاب کر دیا اور وہ صوفے کے اندر بھی لگ کر خشک ہوگیا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر صرف صوفے کے کور کو اتار کر پاک کر لیا جائے، پھر دوبارہ اسی صوفے پر ڈال دیا جائے تو کیا عذرِ شرعی کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص اس صوفے پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں پہلی بات یہ ہے کہ صوفے کے کور، صوفے پر ڈال کر نماز اس صورت میں درست ہوگی جبکہ کور کو شرعی طریقے کے مطابق صحیح طرح پاک کر لیا ہو۔ اب اس کور کے حقیقتا پاک ہو جانے کے بعد اگلے شرعی مسائل یہ ہیں کہ اگر صوفے کا کور اتنا موٹا ہے کہ جس سے خشک ہو جانے والے پیشاب کا اثر کور سے ظاہر نہیں ہوتا، اور عموما ًایسا ہی ہوتا ہے کہ پیشاب جب خشک ہو جائے تو اس کا اثر، اس کے اوپر موجود کپڑے پر ظاہر نہیں ہوتا، تو ایسی صورت میں رخصتِ شرعی کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص اس صوفے  پر نماز ادا کر سکتا ہے اور اگر صوفے کا کور اتنا باریک ہے کہ اس سے نیچے موجود نجاست کا اثر ظاہر ہے مثلا وہ نجس چیز نظر آتی ہو یا اس کی بدبو محسوس ہوتی ہو تو اگرچہ اس پیشاب کا اثر باریک کپڑے پر ظاہر نہ ہوتا ہو، تب بھی جب کپڑا باریک و رقیق ہو تو اس پر بیٹھنے سے نمازی کا جسم نجاست سے متصل ہو جائے گا اور نجاست سے جسم کا کوئی بھی حصہ متصل ہو، خواہ موضع سجود والا ہو یا کوئی دوسرا حصہ، اسے فقہائے کرام نے حاملِ نجاست کے حکم میں بیان فرمایا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں حکم شرعی یہ ہوگا کہ نمازی کے بدن مَس ہونے کی جگہ پر ایک درہم سے زیادہ مقدار نجاست موجود ہونے کی صورت میں نماز سرے سے ہوگی ہی نہیں اور پورے ایک درہم کی مقدار ہونے کی صورت میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ یعنی پڑھنا گناہ اور دوبارہ پڑھنا واجب ہوگی، اور ایک درہم کی مقدار سے کم کی صورت میں نماز خلافِ سنت ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کا پیشاب نجاست غلیظہ ہے اور نجاست غلیظہ خواہ مرئیہ ہو جیسے خون وغیرہ یا غیر مرئیہ، جیسے آدمی کا پیشاب وغیرہ، دونوں صورتوں میں ایک درہم کی مقدار پر حکم کا دارومدار ہوتا ہے۔

ناپاک جگہ، پاک کپڑا بچھا کر اس کے اوپر نماز پڑھنے سےمتعلق در مختار مع رد المحتار میں ہے: ”وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقا يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لا يجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظا بحيث لا يكون كذلك جازت“ ترجمہ: اور اسی طرح وہ کپڑا جسے خشک ناپاکی پر بچھایا جائے، تو اگر وہ اتنا باریک ہو کہ جو اس کے نیچے ہے اسے دکھائے یا اس سے ناپاکی کی بو آئے، اس صورت میں اس کی بو ہو تو اس پر نماز جائز نہیں، اور اگر وہ اتنا موٹا ہو کہ ایسا نہ ہو (نیچے موجود چیز کو نہ دکھائے یا نجاست کا اثر اور بو اوپر ظاہرنہ ہو) تو (نماز) جائز ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 626، دار الفکر بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے: ”دبیز (موٹے) کپڑے کے کہ نجس جگہ بچھا کر (نماز) پڑھی اور اس کی رنگت یا بو محسوس نہ ہو تو نماز ہو جائے گی کہ یہ کپڑا نجاست و مصلی میں فاصل ہوجائے گا کہ بدن ِمصلی کا تابع نہیں ۔۔۔۔اگر نجس جگہ پر اتنا باریک کپڑا بچھا کر نماز پڑھی، جو ستر کے کام میں نہیں آ سکتا، یعنی اس کے نیچے کی چیز جھلکتی ہو، نماز نہ ہوئی ۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 478، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

موضع سجود میں پائی جانے والی نجاست سے متعلق غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی میں ہے: ”ولا فرق بین الرکبتین و الیدین و بین موضع السجود و القدمین فی ان النجاسۃ المانعۃ فی مواضعھا مفسدۃ للصلاۃ و ھوالصحیح لان اتصال العضو بالنجاسۃ بمنزلۃ حملھا و ان کان وضع ذلک العضو لیس بفرض ترجمہ: اور گھٹنوں، ہاتھوں، سجدہ اور قدموں کے مقام کے مابین اس حکم میں کوئی فرق نہیں کہ اگر ان جگہوں میں مانعِ نماز نجاست موجود ہو تو  وہ نماز کو فاسد کر دیتی ہے اور  یہی صحیح قول ہے، کیونکہ نمازی کے کسی عضو کا نجاست کے ساتھ متصل ہونا، ایسا ہی ہے جیسے نجاست کو اٹھانا ، اگرچہ اس عضو کا زمین پر رکھنا فرض نہ ہو۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، صفحہ 201، مطبوعہ در سعادت)

موضعِ سجود کے علاوہ نمازی کے بدن مَس ہونے کی جگہ پر نجاست موجود ہو تو یہ بھی حاملِ نجاست کے حکم میں ہے، چنانچہ بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: ”لو صلى ورأسه يصل إلى السقف النجس أو في خيمة كذلك فإنها لا تصح لكونه حاملا للنجاسة و لهذا قال في القنية إذا صلى في الخيمة ورفع سقفها لتمام قيامه جاز إذا كانت طاهرة وإلا فلا“ ترجمہ: اگر کسی شخص نے ایسی حالت میں نماز پڑھی کہ اس کا سر نجس چھت سے لگ رہا تھا، یا نجس خیمے سے لگ رہا تھا تو اس کی نماز درست نہیں ہوگی؛ کیونکہ وہ نجاست کو اٹھانے والا (حاملِ نجاست) شمار ہوگا۔ اسی لیے "قنیہ" میں فرمایا: اگر کسی نے خیمے میں نماز پڑھی اور مکمل قیام کے لیے خیمے کی چھت اپنے سر سے اوپر اٹھا لی، تو اگر خیمہ پاک ہو تو نماز جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔ (بحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 01، صفحہ 281، دار الکتاب الاسلامی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1367ھ) لکھتے ہیں: ”طہارت: یعنی مصلّی کے بدن کا حدث اکبر و اصغر اور نجاست حقیقیہ قدر مانع سے پاک ہونا، نیز اس کے کپڑے اور اس جگہ کا جس پر نماز پڑھے، نجاست حقیقیہ قدر مانع سے پاک ہونا۔۔۔ چھت، خیمہ، سائبان اگر نجس ہوں اور مصلّی کے سر سے کھڑے ہونے میں لگیں، جب بھی نماز نہ ہوگی یعنی اگر ان کی نجس جگہ بقدر مانع اس کے سر کو بقدر ادائے رکن لگے۔۔۔جس جگہ نماز پڑھے، اس کے طاہر ہونے سے مراد موضع سجود و قدم کا پاک ہونا ہے، جس چیز پر نماز پڑھتا ہو، اس کے سب حصہ کا پاک ہونا، شرط صحت نماز نہیں۔ “ (بہارشریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 477، 476، مکتبۃ المدینہ کراچی ملخصاً)

نجاستِ غلیظہ خواہ مرئیہ ہو یا غیر مرئیہ، دونوں صورتوں میں  نماز کے باطل ہونے یا نہ ہونے کا مدار درہم کی مقدار پر ہوگا، چنانچہ فتاوٰی ہندیہ میں ہے: ”تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب، هذا إذا كانت النجاسة قدرا مانعا ۔۔۔النجاسۃ ان کانت غلیظۃ وھی أکثر من قدر الدرھم فغسلھا فریضۃ والصلاۃ بھا باطلۃ، وان کانت مقدار درھم فغسلھا واجب والصلاۃ معھا جائزۃ وان کانت أقل من قدر الدرھم فغسلھا سنۃ“ ترجمہ: نمازی کے بدن، کپڑوں اور اُس جگہ کا جہاں وہ نماز ادا کر رہا ہے، نجاست سے پاک کرنا واجب ہے، جبکہ نجاست اتنی مقدا ر ہو، جو نماز کے لیے مانع (رکاوٹ) شمار ہوتی ہو۔۔۔ نجاست اگر غلیظہ ہو اور وہ درہم سے زائد ہو تو اس کا دھونا فرض ہے، بغیر دھوئے نجاست کے ساتھ ہی نماز پڑھ لی، تو نماز باطل ہے۔ اور اگر ایک درہم کے برابر ہے، تو اس نجاست کا دھونا واجب، بے دھوئے نماز پڑھ لی تو فرض ادا ہوجائیں گے ۔اور اگر ایک درہم سے بھی کم ہے، تو اس نجاست کا دھونا سنت ہے۔ (فتاوی ھندیہ، جلد 1، صفحہ 58، دار الفکر بیروت)

بہارِ شریعت میں نجاست غلیظہ کے بارے میں ہے: ”اگر نَجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید، گوبر تو درہم کے برابر، یا کم، یا زِیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زِیادہ ہو اور درہم کا وزن شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے اور زکوٰۃ میں تین ماشے رتی ہے اور اگر پتلی ہو، جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراداس کی لمبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زِیادہ پانی نہ رک سکے، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے۔ “ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 389، مکتبۃ المدینہ کراچی ملخصاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0294
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1448 ھ/18 جون 2026ء