سمارٹ گلاسز سے قرآن دیکھ تراویح پڑھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سمارٹ گلاسز کے ذریعے قرآن دیکھ تراویح پڑھانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر تراویح میں سمارٹ گلاسز (Smart Glasses) کے ذریعے قرآن پاک دیکھ کر پڑھا جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟ اس میں قرآن پاک یا موبائل ہاتھ میں نہیں پکڑنا پڑتا اور نہ ہی عمل کثیر کرنا پڑتا ہے بلکہ فقط انگلی کے اشارے سے ہی قرآن پاک عینک کے شیشے پر نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ سائل: محمد عمیر (جوہر ٹاؤن، لاہور)
جواب
تراویح یا کسی بھی نماز میں سمارٹ گلاسز کے ذریعے بھی قرآن پاک دیکھ کر پڑھنا جائز نہیں اور اس سے نماز بھی فاسد ہو جائے گی کیونکہ قرآن پاک دیکھ کر پڑھنا یہاں اس لئے منع ہے کہ اس سے عمل کثیر لازم آتا ہے وہیں اس کی ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے حالت نماز میں غیر سے سیکھ کر پڑھنا پایا جاتا ہے اور حالت نماز غیر نمازی سے سیکھ کر پڑھنا نماز کو فاسد کر دیتا ہے چاہے جس سے سیکھا جائے وہ کوئی فرد ہو یا کوئی چیز (Gadget) ہو۔ سمارٹ گلاسز میں اگرچہ عمل کثیر نہیں پایا جا رہا لیکن غیر نمازی سے سیکھ کر پڑھنا ضرور پایا جاتا ہے لہذا صورت مسئولہ میں سمارٹ گلاسز سے دیکھ کر پڑھنا بھی جائز نہیں ہے۔
المبسوط للسرخسی میں ہے: ”(وإذا قرأ في صلاته في المصحف فسدت صلاته) عند أبي حنيفة۔۔۔ولأبي حنيفة - رحمه اللہ تعالى - طريقان: أحدهما أن حمل المصحف وتقليب الأوراق والنظر فيه والتفكر فيه ليفهم عمل كثير وهو مفسد للصلاة ۔۔۔ والأصح أن يقول: إنه يلقن من المصحف فكأنه تعلم من معلم وذلك مفسد لصلاته“ ترجمہ: کسی نے اپنی نماز میں مصحف سے دیکھ کر قراءت کی تو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، آپ علیہ الرحمۃ کے نزدیک نماز دو وجوہات کی بناء پر فاسد ہوگی (1) مصحف کو اٹھانا، اس کے صفحات کو پلٹنا اور اس میں دیکھنا و غور و فکر کرنا تاکہ سمجھ آئے، یہ عمل کثیر ہے جوکہ نماز فاسد کردیتا ہے، اور اصح یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ (2) اس صورت میں مصحف سے تلقین پائی جا رہی ہے گویا اس نے معلِم سے سیکھا اور یہ مفسدِ نماز ہے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاۃ، ج 1، ص 202، دار المعرفۃ، بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے: ”ولو قرأ المصلي من المصحف فصلاته فاسدة عند أبي حنيفة۔۔۔ولأبي حنيفة طريقتان: إحداهما أن ما يوجد منه من حمل المصحف وتقليب الأوراق والنظر فيه أعمال كثيرة ليست من أعمال الصلاة ولا حاجة إلى تحملها في الصلاة فتفسد الصلاة۔۔۔والطريقة الثانية أن هذا يلقن من المصحف فيكون تعلما منه ألا ترى أن من يأخذ من المصحف يسمى متعلما فصار كما لو تعلم من معلم وذا يفسد الصلاة وكذا هذا“ ترجمہ: نمازی نے مصحف سے دیکھ کر قراءت کی تو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، آپ علیہ الرحمۃ کے نزدیک نماز دو وجوہات کی بناء پر فاسد ہوگی (1) نمازی کا مصحف اٹھانا، اس کے صفحات پلٹنا اور اس میں دیکھنا اعمالِ کثیرہ ہیں، جو کہ نماز کے اعمال میں سے نہیں اور نماز میں مصحف اٹھانے کی حاجت بھی نہیں تو اس سے نماز فاسد ہو جائے گی (2) اس صورت میں مصحف سے تلقین پائی جا رہی ہے تو یہ مصحف سے سیکھنا ہوا، کیا تو دیکھتا نہیں کہ جو مصحف سے کچھ حاصل کرے اسے متعلم کہا جاتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے معلِم سے سیکھا اور جیسے معلِم سے سیکھنا مفسدِ نماز ہے، یونہی مصحف سے سیکھنا بھی مفسدِ نماز ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، ج 1، ص 236، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
العنایہ میں ہے: ”ولأنه تلقن من المصحف وهو كالتلقن من غيره في تحصيل ما ليس بحاصل عنده، والتلقن من الغير مفسد لا محالة فكذا من المصحف“ ترجمہ: کیونکہ یہ مصحف سے تلقن ہے اور یہ اپنے علاوہ کسی آدمی سے تلقن کی طرح ہے اس چیز کے حاصل کرنے میں جو اسے پہلے حاصل نہ تھی۔ اور کسی دوسرے سے تلقن بالیقین نماز کو فاسد کر دیتا ہے لہذا مصحف سے تلقن کا بھی یہی حکم ہوگا۔ (عنایہ، جلد 1، صفحہ 403، دار الفکر، بیروت)
فتح القدیر میں ہے: ”أنه تلقن من خارج وهو المناط في الأصل فقط“ ترجمہ: یہ خارج سے تلقن ہے اور حقیقت میں (نماز فاسد ہونے کا) دار و مدارفقط اسی پر ہے۔ (فتح القدیر، جلد 1، صفحہ 403، دار الفکر، بیروت)
فتاوٰی امجدیہ میں ہے: ”اگرچہ مصحف شریف کی طرف نظر کرنا عبادت ہے مگر اس میں دیکھ کر پڑھنا خارج سے تعلم ہے اور یہ منافی نماز جیسے زبان سے حالت نماز میں امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی، اگرچہ یہ دونوں عبادت ہیں مگر چونکہ منافی نماز ہیں لہذا نماز فاسد۔ “ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 185، مکتبہ رضویہ، کراچی)
فقیہ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نور اللہ نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”جو کلام نماز ی کو یاد نہیں اسے غیر نمازی سے سن کر یا لکھے ہوئے دیکھ کر دونوں صورتوں میں پڑھنے سے فساد نما ز کا حکم کتب فقہ میں ملتا ہے۔“ (فتاوی نوریہ، جلد 1، صفحہ 394، مطبوعہ بصیر پور اوکاڑہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0533
تاریخ اجراء: 18 ذو الحجہ 1447 ھ/04 جون 2026ء