نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد تعوذ پڑھ لیا تو سجدہ سہو ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سورہ فاتحہ کے بعد اور سورت ملانے سے پہلے تعوذ پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سائل: احمد مجتبیٰ (لطیف آباد نمبر 5، حیدر آباد)
جواب
صورت مسئولہ میں سجدہ سہو واجب ہوگا کیونکہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں اور وتر اور سنن و نوافل کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد بغیر کسی اجنبی فاصل کے سورت ملانا واجب ہے اور سورہ فاتحہ اور اگلی سورت کے درمیان تعوذ پڑھنا اجنبی فاصل ہے، کیونکہ تعوذ ایک نماز میں ایک دفعہ مشروع ہے اور اس کا مقام اور محل پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے ہے، سورہ فاتحہ شروع کرنے کے بعد تعوذ کا محل باقی نہیں رہتا، لہذا سورہ فاتحہ اور سورت کے درمیان تعوذ پڑھنا بے محل اور اجنبی فاصل قرار پائے گا اور بھولے سے تعوذ پڑھنے کی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوگا ، نیز جان بوجھ کر ایسا کرنے کی صورت میں نماز مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہوگی یعنی نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا اور جان بوجھ کر ایسا کرنا گناہ بھی ہے لہٰذا توبہ بھی کرنی ہوگی۔
یاد رہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت اور ابتداء سے کوئی سورت پڑھے تو اس کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے اور یہ دونوں اجنبی فاصل نہیں ہیں کیونکہ آمین سورہ فاتحہ کے تابع ہے اور بسم اللہ شریف اگلی سورت کے تابع ہے۔ نیز اگر کوئی شخص ابتداء سے سورت پڑھنے کے بجائے درمیان سے آیات کی تلاوت کرے تو اگرچہ اس کے حق میں بسم اللہ پڑھنا مستحب نہیں مگر اس صورت میں بھی بسم اللہ شریف اجنبی فاصل نہیں ہوگا کیونکہ بسم اللہ شریف قرآن پاک کی ایک آیت ہے تو اس کا ملانا، قرآن پاک کا ملانا ہے، نہ کہ کسی اجنبی فاصل کا۔
سورت ملانے کے متعلق متن تنویر الابصار و شرح درمختار میں ہے: (و ضم) اقصر (سورۃ) کالکوثر او ما قام مقامھا، و ھو ثلاث آیات قصار (فی الاولیین من الفرض و جمیع) رکعات (النفل) لان کل شفع منہ صلاۃ (و) کل (الوتر)، (و تقدیم الفاتحۃ علی) کل (السورۃ) ملخصا“ اور ایک چھوٹی سورت،جیسے سورت الکوثر یا جو اس کے قائم مقام ہو اور وہ تین چھوٹی آیات ہیں، ملانا فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل کی تمام رکعات میں کیونکہ اس کا ہر شفع نماز ہے اور وتر کی تمام رکعات میں واجب ہے، اور فاتحہ کا پوری سورت پر مقدم ہونا بھی واجب ہے۔ (متن تنویر الابصار و شرح درمختار، ج 2، ص 185، مطبوعہ کوئٹہ)
سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ متن کی عبارت (و ضم) کے تحت جد الممتار میں فرماتے ہیں: اقول: فی لفظ الضم اشارۃ الی ان الواجب ان یکون السورۃ اثر الفاتحۃ بلا فصل باجنبی کسکوت، فقد صرحوا ان لو قرا الفاتحۃ ثم وقف متاملاً انہ ای سورۃ یقرا لزمہ سجود السھو و انما قلت باجنبی لاخراج آمین فانہ من توابع الفاتحۃ و بسم اللہ قبل السورۃ فانھا من توابع السورۃ۔ و استفید من ھاھنا ان لو وقف بعد الفاتحۃ یقرا دعاء او ذکرا لزمہ السجود ان سھوا، والاعادۃ لو عمدا فلیراجع“ میں کہتا ہوں: ملانے کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ واجب یہ ہے کہ سورۃ، فاتحہ کے بعد کسی اجنبی فاصل مثلا: سکوت کے بغیر ہو کیونکہ فقہاء نے صراحت فرمائی کہ اگر فاتحہ کی قراءت کی اور پھریہ سوچتے ہوئے خاموش کھڑا رہا کہ کونسی سورت پڑھے تو اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا اور میں نے اجنبی کی قید آمین کو نکالنے کے لیے لگائی کہ یہ فاتحہ کے توابع میں سے ہے اور سورۃ سے پہلے بسم اللہ کو نکالنے کے لیے لگائی کہ یہ سورت کے توابع میں سے ہے، یہاں سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اگر کوئی فاتحہ کے بعد دعا یا ذکر کی وجہ سے رکا، تو اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا اگر بھولے سے ہو؛ اور اگر جان بوجھ کر ہو تو نماز کا اعادہ واجب ہوگا، مراجعت کر لی جائے۔ (جد الممتار، ج 3، ص 150، 151، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
تعوذ ایک نماز میں ایک دفعہ مشروع ہے، ہدایہ مع فتح القدیر میں ہے: (یفعل فی الرکعۃ الثانیۃ مثل ما فعل فی الاولی) لانہ تکرار الارکان(الا انہ لا یستفتح و لا یتعوذ) لانھما لم یشرعا الا مرۃ واحدۃ" نمازی دوسری رکعت میں بھی پہلی رکعت کی طرح ارکان ادا کرے کیونکہ (دوسری رکعت میں) انہی ارکان کی تکرار ہے لیکن دوسری رکعت میں ثناء اور تعوذ نہیں پڑھے گا کیونکہ یہ دونوں ایک دفعہ ہی مشروع ہیں۔ (ہدایہ مع فتح القدیر، ج 1، ص 268، مطبوعہ کوئٹہ)
تعوذ کا مقام پہلی رکعت میں سورت فاتحہ سے پہلے ہے، فاتحہ شروع کردی تو اس کا محل فوت ہوگیا۔ ردالمحتار میں ہے: ذکرہ الحلبی ای فی شرح المنیۃ بقولہ: والتعوذ انما ھو عند افتتاح الصلاۃ فلو نسیہ حتی قرا الفاتحۃ لا یتعوذ بعد ذلک کذا فی الخلاصۃ ۔ ۔ ۔ قول الخلاصۃ (حتی قرا الفاتحہ) معنا ہ شرع فی قراءتھا اذ بالشروع فات محل التعوذ۔ علامہ حلبی رحمہ اللہ نے شرح منیہ میں اس کو اپنے اس قول کے ساتھ ذکر کیا کہ تعوذ نماز کو شروع کرنے کے وقت پڑھی جائے گی لہذا اگر کوئی تعوذ بھول گیا اور سورت فاتحہ پڑھ لی تو اب تعوذ نہ پڑھے ، ایسا ہی خلاصہ میں ہے اور خلاصہ کے قول (حتی قرا الفاتحۃ) کا معنی یہ ہے کہ سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کردی کیونکہ سورہ فاتحہ شروع کرنے کے سبب تعوذ کا محل ہی فوت ہوگیا۔ (ردالمحتار، ج 2، ص 233، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ حافظ نے تراویح میں فاتحہ اور سورہ توبہ کے درمیان اعوذ باللہ من النار و من شر الکفار ۔الخ بالجھر قصداً پڑھا اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ نماز ہوئی یا نہیں؟ اس کے جواب میں سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: ”سورہ توبہ شریف کے آغاز پر بجائے تسمیہ یہ تعوذ محدثات عوام سے ہے ، شرع میں اس کی اصل نہیں، خیر بیرون نماز اس میں حرج نہ تھا۔ رہی نماز اگر سورہ فاتحہ کے بعد یہی سورہ توبہ شروع کی اور اس سے پہلے وہ اعوذ پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی کہ واجب ضم سورۃ بوجہ فصل بالاجنبی ترک ہوا۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 481، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: تعوذ صرف پہلی رکعت میں ہے۔ (بھار شریعت، ج 1، ص 523، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
بسم اللہ شریف، قرآن پاک کی آیت ہونے کی وجہ سے بھی اجنبی فاصل نہیں، اس حوالے سے سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ضم سورت جو واجب ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ خاص سورت ہی ملانی واجب ہے یہاں تک کہ بعد فاتحہ وسط سورت سے کسی رکوع کا پڑھنا ناجائز و موجب ترک واجب ٹھہرے کہ سورت بمعنی معروف کا ملانا اس پر بھی صادق نہیں بلکہ اس سے مراد قرآن عظیم کی بعض آیات ملانا ہے کہ خواہ سورت ہو یا نہ ہو بسم اللہ شریف خود ایک آیت قرآن عظیم ہے تو اس کا ملانا قرآن عظیم ہی کا ملانا ہوا، نہ کسی غیر کا۔ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 162، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سورہ فاتحہ کے بعد بسم اللہ شریف پڑھنے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے:سورہ فاتحہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سنت ہے اور اس کے بعد اگر کوئی سورت اول سے پڑھے تو اس پر بسم اللہ کہنا مستحب ہے اور کچھ آیتیں کہیں اور سے پڑھے تو اس پر کہنا مستحب نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 349، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: 5367-Har
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1444ھ / 27 فروری 2023ء