نماز میں سینہ کھلا رکھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
نماز میں سینہ کھلا ہو تو نماز ہوجائے گی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سائل: محمد فیصل (کوٹ مولوی عبدا لقادر، قصور)
جواب
نماز کے دوران سینے کے بٹن اتنے کھلے رکھنا جس سے سینے کا کافی حصہ نظر آئے اور نیچے کوئی دوسرا کپڑابھی نہ پہنا ہو تو اس طرح نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے کہ یہ کمالِ ادب و تہذیب کے خلاف ہے اور آدمی اپنے بڑوں یا دوسرے لوگوں کے مجمع میں اس طرح جانے سے گریز کرتا ہے، اگر جائے تو غیر مہذب، خفیف الحرکات شمار ہوتا ہے تو جب لوگوں کے سامنے اس طرح جانا معیوب ہے تو بارگاہِ ربوبیت میں اس طرح حاضری دینا کیونکر مناسب ہوگا؟ اللہ تعالی تو اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی بارگاہ میں حاضری کے لیے زینت اختیار کی جائے۔ البتہ اگر اوپر کا بٹن نہ لگانے سے گلے کے پاس سینے کا معمولی سا حصہ کھلا ہوا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْازِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو۔ (سورۃ الاعراف، آیت: 31)
مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے نماز کے وقت صرف سترِ عورت کیلئے کفایت کرنے والا لباس ہی نہ پہنو بلکہ اس کے ساتھ وہ لباس زینت والا بھی ہو یعنی عمدہ لباس میں اپنے رب عزوجل کے حضور حاضری دو۔ (تفسیر صراط الجنان، سورۃ الاعراف، آیت: 31، جلد 3، صفحہ 300، مطبوعہ کراچی)
ایسے کپڑے جن کو پہن کر آدمی اپنے اکابرین اور دوسرے لوگوں کے سامنے جانے سے گریز کرتا ہے انھیں پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔ چنانچہ درمختار و ردالمحتار میں ہے و کرہ . . . . صلاتہ فی ثیاب بذلۃ یلبسہا فی بیتہ و مہنۃ أی خدمۃ، إن لہ غیرہا و إلا لا (قال فی البحر، و فسرہا فی شرح الوقایۃ بما یلبسہ فی بیتہ و لا یذہب بہ إلی الأکابر و الظاہر أن الکراہۃ تنزیہیۃ) ملتقطاً من الدر و مزیدا من ردالمحتار بین الھلالین یعنی گھٹیا کپڑے جن کو آدمی گھر میں ہی پہنتا ہے اور کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے جبکہ اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں ورنہ مکروہ نہیں۔ صاحب بحر فرماتے ہیں کہ صدر الشریعہ نے ان کپڑوں کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ وہ کپڑے جو آدمی گھر میں پہنتا ہے اور ان کو پہن کر اپنے اکابر کے پاس نہیں جاتا ہے۔ اور ظاہریہی ہے کہ یہ کراہت تنزیہی ہے۔ (درمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 640، دار الفکر، بیروت)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ہی ایک مقام پر فرماتے ہیں: کسی کپڑے کو ایسا خلافِ عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کرسکے اور کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ بھی مکروہ ہے جیسے انگرکھا پہننا اور گھنڈی یا باہر کے بند نہ لگانا یا ایسا کرتا جس کے بٹن سینے پر ہیں پہننا اور بوتام اتنے لگانا کہ سینہ یا شانہ کھلا رہے جبکہ اوپر سے انگرکھا نہ پہنے ہو یہ بھی مکروہ ہے اور اگراوپر سے انگرکھا پہنا ہے یا اتنے بوتام لگالئے کہ سینہ یا شانہ ڈھک گئے اگرچہ اوپر کا بوتام نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلارہا یا شانوں پر کے چاک بہت چھوٹے چھوٹے ہیں کہ بوتام نہ لگائیں جب بھی کرتا نیچے ڈھلکے گا شانے ڈھکے رہیں گے تو حرج نہیں، اسی طرح انگرکھے پرجوصدری یاچغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں اُن کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے تو اس میں بھی حرج نہیں ہوناچاہئے کہ یہ خلافِ معتاد نہیں ھذا ما ظھرلی من کلماتھم و العلم بالحق عند ربی (یہ وہ ہے جو عبارات فقہاء سے بھرپور واضح ہوا باقی حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ ت) (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 385, 386، رضا فاؤنڈیشن، لاہور(
واضح رہے کہ قمیص پہنی ہو اور فقط سینہ ظاہر ہو جائے توخلافِ معتاد ہونے کی وجہ سے یہ مکروہ تنزیہی تو ہو سکتا ہے لیکن مکروہ تحریمی نہیں ہو سکتا کیونکہ کراہتِ تحریمی کے لئے کسی ایسی نص کا ہونا ضروری ہے جو مؤول نہ ہو اور وہ یہاں وار د نہیں جیسا کہ درج ذیل عبارات سے واضح ہوتا ہے چنانچہ ردالمحتار میں ہے ذکر ابوجعفر انہ لو ادخل یدیہ فی کمیہ و لم یشد وسطہ او لم یزر ازرارہ فھو مسیء لانہ یشبہ السدل اھ قلت لکن قال فی الحلیہ فیہ نظر ظاھر بعد ان یکون تحتہ قمیص اونحوہ ممایستر البدن اھ ترجمہ: امام ابوجعفررحمۃاللہ علیہ نے ذکر کیاہے کہ اگرنمازی نے اپنے بازؤوں کو (قباء کی) آستینوں میں داخل کردیا اور درمیان سے بندھن نہیں باندھا یا اس نے اس کے بٹن بند نہ کئے تو اس نے برا کیا کیونکہ یہ سدل کے مشابہ ہے اھ۔ (علامہ شامی اس پر لکھتے ہیں) میں کہتا ہوں: لیکن حلیہ میں ہے کہ اگرقباء کے نیچے قمیص یا کوئی اور کپڑا پہنا ہے کہ جس سے بدن چھپ جاتا ہے تو پھر اس کو مشابہ سدل کہہ کر اساء ت قرار دینے میں واضح نظر ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 640، دار الفکر، بیروت)
رد المحتار کی عبارت فیہ نظرظاہر کے تحت اعلی حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ جد الممتار میں فرماتے ہیں: اقول: النظر ان کان ففی کراھۃ التحریم، اما التنزیہی فلا شک فی ثبوتہ فانہ کثیاب بذلۃ بل اعظم ترجمہ: میں کہتا ہوں: اگر یہ مکروہ تحریمی ہو تو اس میں نظر ہے، بہرحال مکروہ تنزیہی کے ثبوت میں کوئی شک نہیں کیونکہ یہ کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ (جد الممتار، کتا ب الصلاۃ، جلد 3، صفحہ 389، مطبوعہ کراچی)
ردالمحتار کی اسی عبارت پر کلام کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں:اقول: و فیہ نظر ظاھر فان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین وانما نھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم عما اذا صلی فی ثوب واحد و لیس علی عاتقہ منہ شیء ترجمہ: اقول (میں کہتا ہوں) حلیہ کے کلام میں بھی واضح نظر ہے کیونکہ مرد کے سینے اور پیٹ کا کوئی حصہ ظاہر ہوجائے تو اس میں کوئی اساءت (برائی) نہیں جبکہ اس کے کندھے ڈھکے ہوں اور رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے جو منع کیا ہے تو وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے سے اس صورت میں منع فرمایا ہے جبکہ اس کے کندھے پر کوئی شے نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 360، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اعلی حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: خلاف معتاد جس طرح کپڑا پہن یا اوڑھ کر بازار میں یا اکابر کے پاس نہ جاسکے ضرورمکروہ ہے کہ دربارعزت احق بادب وتعظیم ہے۔ ۔ اور ظاہر کراہت تنزیہی فان کراھۃ التحریم لابدلھا من نھی غیرمصروف عن الظاھر کماقال ش فی ثیاب المھنۃ و الظاھر ان الکراھۃ تنزیھیۃ کیونکہ کراہت تحریمی کے لئے ایسی نہی کا ہونا ضروری ہے جوظاہر سے مؤول نہ ہو، جیسا کہ علامہ شامی نے کام کے کپڑوں کے بارے میں کہا کہ ظاہر کراہت تنزیہی ہے۔ اور اسے سدل میں کہ مکروہ تحریمی اور اس سے نہی وارد، دخل نہیں کہ وہ برلبس خلاف معتاد نہیں بلکہ کپڑا اوپر سے اس طرح سے ڈال لینا کہ دونوں جانبین لٹکتی رہیں مثلاً چادر سر یا کندھوں پر ڈال لی اور دو بالا نہ مارا یا انگرکھا کندھے پرڈال لیا اور آستین میں ہاتھ نہ ڈالا کما فی الدر وغیرہ (جیسا کہ دروغیرہ میں ہے۔) اور اگر آستینوں میں ہاتھ ڈالے اور بند نہ باندھے تو یہ بھی سدل نہ رہا اگرچہ خلاف معتاد ضرور ہے۔ ملتقطاً (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 358، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0573
تاریخ اجراء: 17 ربیع الاول 1444ھ / 14 اکتوبر 2022ء