نماز میں قراءت کے دوران 10 سیکنڈ خاموش رہنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں دورانِ قراءت کچھ پڑھنے کے بعد آٹھ سے دس سیکنڈ خاموش رہ کر سوچنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
نماز میں قیام کے دوران کچھ تلاوت کی اور پھر 8 سے 10 سکینڈ رک گئے کہ صحیح پڑھا ہے یا نہیں یہ سوچ رہے ہوں، تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
نماز میں قراءت کے دوران یا تسبیحات پڑھنے کے دوران، سوچنے میں تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سکوت کیا، توسجدہ سہو واجب ہوجائے گا۔ پوچھی گئی صورت میں 8 یا 10 سیکنڈ اتنی مقدار بن جاتی ہے جو تین بار سبحان اللہ سے زیادہ ہو، لہٰذا اتنی دیر سوچنے کے لئے خاموش رہنے کی وجہ سے سجدہ سہولازم ہوجائے گا۔ ہاں اگر کوئی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار سے کم خاموش رہاتو اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ خاموش رہنا اگر سوچنے کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کوئی بلا وجہ جان بوجھ کر تین سبحان اللہ کی مقدار خاموش رہے تو ایسا کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہوجاتی ہے، سجدہ سہو سے تلافی نہیں ہو سکتی۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: سکوت اتنی دیر کیا کہ تین بار سبحان اللہ کہہ لیتا، تو یہ سکوت اگر بر بنائے تفکر تھا کہ سوچتا رہا کہ کیا پڑھوں، تو سجدہ سہو واجب ہے، اگر نہ کیا، تو اعادہ نماز کا واجب ہے اور اگر وہ سکوت عمداً بلا وجہ تھا، جب بھی اعادہ واجب۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 192، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: قراءت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کا وقفہ ہو ا، تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 715، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2504
تاریخ اجراء: 14 ربیع الآخر 1447ھ / 08 اکتوبر 2025ء