logo logo
AI Search

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز میں درست محل میں لقمہ دینا اور لینا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے کہ ایک امام نمازِ عشاء کی تیسری رکعت مکمل کرنے کے بعد چوتھی کے لیے کھڑے ہونے کے بجائے بھولے سے بیٹھ گیا، پھرایک مقتدی نے تین تسبیح کی مقدار سے پہلےلقمہ دیا اور امام اس کا لقمہ لے کر فورا کھڑا ہوگیا اور نماز کے آخر میں سجدہ سہو کیا، تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے، ہوگئی یا نہیں؟

نوٹ: سائل نے وضاحت کی ہے کہ اس جماعت میں کوئی مقتدی مسبوق نہیں تھا۔ سب پہلی رکعت سے شامل تھے۔

جواب

قوانین شرعیہ کے مطابق غلطی جب ایسی ہو، جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو، تو اس کا بتانا ہر مقتدی پر واجب کفایہ ہوتا ہے اور صورت مستفسرہ میں بھی امام جب چوتھی رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بجائے بھولے سے بیٹھا، تو تین تسبیح کی مقدار تاخیر ہوجانے سے واجب ترک ہوجاتا، کہ نماز میں جو پہلی اور چار رکعت والی میں تیسری رکعت میں نہ بیٹھنا واجب ہے، اس سے مراد تین تسبیح کی مقدار ہے اگرچہ تین تسبیح سے کم بھی بلا عذر نہیں بیٹھنا چاہیے، لیکن ترکِ واجب تین تسبیح کی مقداربیٹھنے پر ہی متحقق ہوگا، اس سے کم پر نہیں، لہٰذا ہر مقتدی پر بتانا واجب تھا اور جب ایک مقتدی نے حکمِ شرع بجا لاتے ہوئے تین تسبیح کی مقدار سے پہلے لقمہ دے دیا اور امام اس کا لقمہ لے کر فورا کھڑا ہوگیا، تو واجب ترک نہ ہوا، لہٰذا سجدہ سہو کی ضرورت نہیں تھی۔ امام نے جو سجدہ سہو کیا بلا سبب واقع ہوا، مگر اس کے باوجود صورت مستفسرہ میں امام اور سب مقتدیوں کی نماز درست ہوگئی، کیونکہ بلا سبب سجدہ سہو اگرچہ ممنوع ہے، مگر اس سے امام اور مدرک یعنی جس کی امام کے ساتھ کوئی رکعت نہ نکلی ہو، ان کی نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ مسبوق یعنی جس کی ایک یا زائد رکعات نکل گئی ہوں، وہ اگر بلا سبب سجدہ سہو میں امام کی متابعت کرے، تو بعد میں اس پر بلا سبب سجدہ سہو ظاہر ہونے پر اس کی نماز فاسد ہوجائے گی، دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا جائے گا، البتہ اگر اسے علم ہی نہ ہوا، تو حکمِ فساد نہ ہوگا اور امام کی حالت کو صلاح و درستی پر محمول کرتے ہوئے اس کی نماز کو بھی درست قرار دیا جائے گا۔

لقمہ سے متعلق سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: اور اگر غلطی ایسی ہے جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہر مقتدی پر واجب کفایہ ہے۔ اگر ایک بتادے اور اس کے بتانے سے کاروائی ہو جائے سب پر سے واجب اتر جائے گا ورنہ سب گنہگار رہیں گے۔ فان قیل لہ مصلح آخر و ھو سجود السهو فلا یجب الفتح عینا قلت بلی فان ترک الواجب معصیۃ و ان لم یاثم بالسھو و دفع المعصیۃ واجب و لا یجوز التقریر علیھا بناء علی جابر یجبرھا کما لا یخفی۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہاں اصلاح کی دوسری صورت، بصورت سجدہ سہو موجود ہے تو یہاں لقمہ دینا واجب نہ ہوگا۔ قلت: کیوں نہیں، کیونکہ ترک واجب گناہ ہے اگرچہ امام سہو سے گنہگار نہیں ہوتا اور گناہ سے بچنا ضروری ہے تو معصیت پر اثبات اس لیے کہ کسی دوسرے سے اس کا ازالہ کر لیا جائے گا، جائز نہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔ (ت)۔ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 280 تا 281، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

در مختار میں نماز کے واجبات کے بیان میں ہے: ’’و ترک قعود قبل ثانیۃ او رابعۃ‘‘ اور دوسری یا چوتھی رکعت سے پہلے قعدہ نہ کرنا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 2، ص 201، مطبوعہ کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے: ’’و کذا القعدۃ فی آخر الرکعۃ الاولی او الثالثۃ فیجب ترکھا، و یلزم عن فعلھا ایضا تاخیر القیام الی الثانیۃ او الرابعۃ عن محلہ، و ھذا اذا کانت القعدۃ طویلۃ، اما الجلسۃ الخفیفۃ التی استحبھا الشافعی فترکھا غیر واجب عندنا بل ھو الافضل کما سیاتی‘‘ اور اسی طرح پہلی یا تیسری رکعت کے آخر میں قعدہ تو اس کا ترک کرنا واجب ہے اور اس کے فعل (قعدہ کرنے) سے دوسری رکعت یا چوتھی رکعت کی طرف قیام کو اپنے محل سے موخر کرنا بھی لازم آئے گا اور یہ تب ہے جب قعدہ طویل ہو بہر حال جلسہ خفیفہ (تھوڑا بیٹھنا) جس کو امام شافعی نے مستحب قرار دیا ہے تو اس کا ترک ہمارے نزدیک واجب نہیں بلکہ وہ (ترک کرنا) افضل ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ (رد المحتار، ج 2، ص 201، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں نمازکے واجبات کے بیان میں ہے: دوسری سے پہلے قعدہ نہ کرنا اور چار رکعت والی میں تیسری پر قعدہ نہ ہونا۔ دو فرض یا دو واجب یا واجب فرض کے درمیان تین تسبیح کی قدر وقفہ نہ ہونا۔ ملخصا (بهار شریعت، ج 1، ص 519، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سجدہ بلا سبب کی صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز کے حکم سے متعلق سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: امام ومقتدیان سابق کی نماز ہو گئی۔ اگر سجدہ سہو میں مسبوق اتباع امام کرے، بعد کو معلوم ہو کہ یہ سجدہ بے سبب تھا اس کی نماز فاسد ہو جائے گی کہ ظاہر ہوا کہ محل انفراد میں اقتداء کیا تھا، ہاں اگر معلوم نہ ہو تو اس کے لیے حکم فساد نہیں کہ وہ حال امام کو صلاح و صواب پر محمول کرنا ہی چاہیے۔ ملخصا۔ (فتاوی رضویہ، ج 8، ص 185، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Har-4155
تاریخ اجراء: 21 محرم الحرام 1442ھ / 10 ستمبر 2020ء