نماز میں کتنی قراءت واجب ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کتنی قراءت کرنے سے واجب ادا ہوجاتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے امام صاحب بعض اوقات نماز پڑھاتے ہوئے کسی ایک رکعت میں کبھی ان دو آیات کی قراءت کرتے ہیں: ﴿فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(36) وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ- وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴾ (پارہ 25، سورۃ الجاثیۃ، آیت 37، 36)
اور کبھی ان دو آیات کی قراءت کرتے ہیں: ﴿لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (128) فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ ﱙ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ- عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (129)﴾ (پارہ 11، سورہ توبہ، آیت 128، 129)
کیا ایک رکعت میں ان آیات کی قراءت سے قراءت کا واجب ادا ہوجائے گا؟
جواب
ان آیات کی قراءت سے واجب ادا ہوجائے گا، البتہ امام صاحب کو چاہیے کہ مختلف نمازوں میں جن سورتوں کا پڑھنا سنت ہے، ان کی تلاوت کیا کریں، خصوصا، جبکہ لوگوں کو بہت مختصر سی تلاوت سے نماز ہونے میں شک اور تردد ہوتا ہو، تو بلاوجہ بار بار اس عمل کو نہیں دہرانا چاہیے۔
تفصیل: سورہ فاتحہ کے بعد جہاں سورت ملانا واجب ہے، وہاں ایک چھوٹی سورت یا اس کے قائم مقام یعنی تین چھوٹی آیات، یا ایک یا دو بڑی آیتیں جو تین چھوٹی آیات کے برابر ہوں، اُن کی تلاوت کرلینے سے سورت ملانے کا واجب ادا ہوجائے گا۔قرآن پاک میں سب سے چھوٹی تین آیات کو معیار بناتے ہوئے تین چھوٹی آیات کی مقدار پچیس (25) حروف بتائی گئی ہے، یعنی اگر دو، یا ایک آیت، بلکہ اگر کسی آدھی آیت کے اندر بھی کم از کم پچیس حروف پورے ہوجاتے ہوں، تو اس سے قراءت کا واجب ادا ہوجائے گا۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ کم ازکم تیس (30) حروف ہوں (کیونکہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ تیس حروف کی مقدار مکمل ہو)۔ اب سوال میں بیان کی گئی (سورہ توبہ اور سورہ جاثیہ کی) ہر دو آیتوں کو دیکھا جائے، تو ان میں سے ہر دو آیتیں، بلکہ ان میں سے ہر ایک کی پہلی آیت ہی تین چھوٹی آیات کی مقدار کے برابر، بلکہ اس سے زائد ہے، لہذا ان سے قراءت کا واجب ضرور ادا ہوجائے گا۔
سورہ فاتحہ کے بعد تین چھوٹی آیتیں، یا ایک، یا دو بڑی آیات جو تین چھوٹی آیات کے برابر ہوں، اُن کا پڑھنا واجب ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے (و ضم) اقصر (سورۃ) کالکوثر أو ما قام مقامھا، و ھو ثلاث آیات قصار نحو ثم نظر، ثم عبس و بسر، ثم ادبر و استکبر“ و کذا لو کانت الایۃ أو الآیتان تعدل ثلاثا قصارا (فی الاولیین من الفرض و) فی (جمیع) رکعات (النفل و الوتر)‘‘ ترجمہ: فرض کی پہلی دو رکعتوں اور نفل و وتر کی تمام رکعتوں میں ایک چھوٹی سورت ملانا واجب ہے، جیسے سورہ کوثر، یا جو اس کے قائم مقام ہویعنی تین چھوٹی آیتیں جیسے ﴿ثم نظر، ثم عبس و بسر، ثم ادبر و استکبر﴾ اور اسی طرح ایک یا دو ایسی آیتیں جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہوں۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تین چھوٹی آیتوں کی مقدار تیس (30) حروف ہے، چنانچہ شارح رحمۃ اللہ علیہ کے قول ”تعدل ثلاثا قصارا“ کے تحت رد المحتار میں ارشاد فرماتے ہیں: أي مثل ﴿ثُمَّ نَظَرَ﴾ (المدثر: 21) إلخ وهي ثلاثون حرفا، فلو قرأ آية طويلة قدر ثلاثين حرفا يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات....وقد يقال: إن المشروع ثلاث آيات متوالية على النظم القرآني مثل ﴿ثُمَّ نَظَرَ﴾ [المدثر: 21] إلخ ولا يوجد ثلاث متوالية أقصر منهاملتقطاً۔ ترجمہ: (چھوٹی تین آیتیں) یعنی مثلاً ﴿ثم نظر﴾سے آخر ﴿استکبر﴾ تک اور یہ تیس حروف ہیں، لہذا اگر کسی نے تیس حروف کی مقدار کے برابر ایک بڑی آیت کی قراءت کی، تو وہ چھوٹی تین آیتوں کے برابر تلاوت کرنے والا شمار ہوگا۔ ۔ ۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مشروع (واجب)مقدار قرآن کے نظم کے مطابق مسلسل تین آیات ہیں، جیسے ﴿ثُمَّ نَظَرَ﴾ [المدثر: 21] الخ اور ان سے چھوٹی مسلسل تین آیات قرآن میں موجود نہیں ہیں۔ (تنویر الابصار مع در مختار و رد المحتار، جلد 2، صفحہ 185، دار المعرفۃ بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن، علامہ شامی کے اس قول ان سے چھوٹی مسلسل تین آیات قرآن میں موجود نہیں پر فرماتے ہیں کہ اس سے بھی چھوٹی مسلسل تین آیات موجود ہیں جن میں مقدار پچیس حروف ہے، لہذا اسی پر حکم کا مدار ہوگا، یعنی ایسی ایک یا دو بڑی آیتیں جن میں پچیس حرو ف ہوں، ان کو پڑھنے سے واجب ادا ہوجائے گا۔
چنانچہ رد المحتار پر اپنے حاشیے جد الممتار میں ارشاد فرماتے ہیں: اقول: بلیٰ! فقولہ تعالیٰ: قم فانذر، و ربک فکبر، و ثیابک فطھر ثمانیۃ و عشرون حرفا مقروءا و خمسۃ و عشرون مکتوبا و قولہ تعالیٰ: و الفجر، و لیال عشر، و الشفع و الوتر خمسۃ و عشرون حرفا و المکتوب ستۃ و عشرون، فاذن ینبغی ادارۃ الحکم علیٰ خمسۃ و عشرین حرفا سواء اریدت المقروءات کما ھو الالیق او المکتوبات“ ترجمہ: میں کہتا ہوں: کیوں نہیں! (اس سے چھوٹی تین آیات موجود ہیں)چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿قُمْ فَاَنْذِرْ﴾ (2) ﴿وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ (3) ﴿وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ (4) پڑھنے میں اٹھائیس (28) حروف پر مشتمل ہے، اور لکھنے میں پچیس (25) حروف ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَ الْفَجْرِ﴾(1) ﴿وَ لَیَالٍ عَشْر﴾ (2) ﴿وَ الشَّفْعِ وَ الْوَتْر﴾ (3) پڑھنے میں پچیس (25) حروف پر مشتمل ہے، جبکہ لکھنے میں چھبیس (26) حروف ہیں۔لہذا اب حکم کا مدار پچیس (25) حروف ہی پر ہونا چاہیے، خواہ مراد پڑھے جانے والے حروف ہوں جیسا کہ یہی زیادہ مناسب ہے یا لکھے جانے والے حروف ہوں۔ (جد الممتار علی رد المحتار، جلد 3، صفحہ 153، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
البتہ بہتر یہ ہے کہ تیس حروف والے قول کے مطابق قراءت کی جائے، چنانچہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: یوں سولہویں رکعت میں یہ دونوں آیتیں واقع ہوں گی: ﴿فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ﴾ (47)، ﴿ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ﴾ (48) بہتر یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک آیت اور ملائی جائےکہ ان میں صرف ستائیس (27) حرف ہیں اور رد المحتار میں کم از کم تیس (30) حرف درکار بتائے۔ و ان کان فیہ کلام بیناہ علی ھامشہ مع ان المقروات فیھما ثلٰثون (اگرچہ اس میں کلام ہے۔ جیسے ہم نے حاشیہ رد المحتار میں تحریر کیا ہے، علاوہ ازیں ان آیات میں پڑھے جانے والے حروف تیس ہیں۔)۔ ( فتاویٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ 348، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک دوسرے مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: پوری سورہ فاتحہ اور اس کے بعدمتصلاً تین آیتیں چھوٹی چھوٹی یا ایک آیت کہ تین چھوٹی کے برابر ہو، پڑھنا واجب ہے۔ اگر اس میں کمی کرے گا نماز تو ہوجائے گی یعنی فرض ادا ہو جائے گا، مکروہِ تحریمی ہوگی، بھول کر ہے تو سجدہ سہو واجب ہوگا اور قصداً ہے تو نماز پھیرنی واجب ہوگی اور بلا عذر ہے تو گنہگار بھی ہو گا۔ مثلاً تین آیتیں یہ ہیں: ﴿ثُمَّ نَظَرَ ﴿21﴾ ﴿ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ ﴿22﴾ ﴿ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَکْبَرَ ﴿23﴾ یا یہ: ﴿اَلرَّحْمٰنُ ﴿01﴾ ﴿عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ﴿02﴾ ﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ ﴿03﴾۔ ظاہر ہےکہ وہ (یعنی سوال میں مذکور) دو آیتیں ﴿وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا۔ ۔ ۔ الخ﴾ بلکہ اس میں کی پہلی ہی آیت ان تین چھوٹی آیتوں سے بڑی ہے ، تو نماز مع واجب ادا ہو گئی ، دہرانے کی حاجت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 347، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ زید نے بعد سورہ فاتحہ نماز میں آیت ﴿لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴾ پڑھی، عمر کہتا ہے کہ اسے پڑھنے سے نماز نہیں ہو گی؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں فرمایا: نماز درست ہو گئی۔ تین آیت پڑھنا واجب ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ تین چھوٹی آیتیں ہوں یا ان کے برابر، بلکہ اگر آدھی آیت تین چھوٹی آیات کے برابر ہو، جب بھی نماز ہوجائے گی۔ تین چھوٹی آیت کی مثال فقہاء نے یہ دی ہے: ثم نظر، ثم عبس و بسر، ثم ادبر و استکبر، کہ ان آیات کے حروف کل تیس ہیں، لہٰذا اگر تیس حروف کی ایک آیت پڑھ دی، واجب ادا ہوگیا۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، صفحہ 97، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1234
تاریخ اجراء: 01 محرم الحرام 1448ھ / 17 جون 2026ء