logo logo
AI Search

نماز میں دوپٹہ کھل جائے تو کیا نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز میں دوپٹہ کھل گیا لیکن پھر فوراً سر ڈھک لیا، نماز کا کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

نماز کے دوران دوپٹہ کھل گیا، پھر فوراً ہی سر گردن وغیرہ ڈھک لیے، لیکن دوپٹہ درست طریقے سے ایک ہاتھ سے باندھنے میں تین سبحان اللہ کہنے کی مقدار وقفہ گزر جائے تو کیا نماز ٹوٹ جائے گی؟

جواب

اگر دورانِ نماز بلا قصد اعضائے ستر میں سے کسی عضو کا چوتھائی حصہ یا اس سے زیادہ کھل جائے اور تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار تک کھلا رہے تو نمازفاسد ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر چوتھائی سے کم کھلے یا ایک رکن کی مقدار سے پہلے صحیح کر لیا جائے تو نماز فاسد نہیں ہوتی۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر کسی عضو مستورہ کا چوتھائی سے کم حصہ کھلا تھا یا کھلا تو چوتھائی یا اس سے زیادہ تھا لیکن کھلنے کے بعد تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار سے پہلے اسے ڈھک لیا تھا تو نماز فاسد نہیں ہوئی۔

رہا مذکورہ صورت میں ایک ہاتھ سے دوپٹہ باندھنے میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار وقت گزر جانا تو فساد نماز کا حکم اس صورت میں لگے گا جبکہ تین مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار ستر کا چوتھائی یا اس سے زیادہ حصہ کھلا رہا، ہاں اگر ستر کو فوراً دوپٹہ ڈال کر چھپا لیا لیکن دوپٹے کا کنارہ اڑسنے کی مقدار کو شامل کر کے تین مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار یا اس سے زائد لگی تو اڑسنے کے وقت کو شمار نہیں کیا جائے گا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2505
تاریخ اجراء: 10 ربیع الآخر 1447ھ / 04 اکتوبر 2025ء