نماز کے دوران نیت بدلنے سے کون سی نماز ادا ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فجر کی قضا کی نیت سے نماز شروع کی اور دوران نماز مغرب کی نیت کر لی، تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص قضا نمازپڑھ رہا تھا اور نماز فجر کی نیت کی تھی اور نماز فجر ہی پڑھ رہا تھا۔ دوسری رکعت میں التحیات پڑھنے کے بعد وہ کھڑا ہو گیا مطلب اس نے چاہا کہ نمازِ مغرب پڑھ لوں، لہذا اس نے نیت تبدیل کرکے تین رکعت پوری کر کے سلام پھیر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں اس کی نماز ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو کون سی نمازادا ہوئی، مغرب کی نماز یا فجر کی نماز؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں نمازِ مغرب نہیں ہوئی، بلکہ دو رکعت فجر کی قضا نماز ہوئی، اور وہ بھی واجب الاعادہ ہوئی جس کو دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا۔
تفصیل: ایک نماز شروع کرنے کے بعد دورانِ نماز صرف نیت بدل لینے سے نماز تبدیل نہیں ہوتی، بلکہ دوسری نماز شروع کرنے کے لیے نئی تکبیرِ تحریمہ بھی ضروری ہوتی ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں فجر کی قضا کی نیت سے شروع کی گئی نماز کے دوران صرف مغرب کی نیت کر لینے سے وہ نماز مغرب میں تبدیل نہیں ہوگی، بلکہ فجر کی قضا نماز ہی باقی رہے گی۔ البتہ اُس قضا فجر کا اعادہ لازم ہوگا، کیونکہ ہر فرض و واجب کو اس کے محل میں ادا کرنا نماز کے واجبات میں سے ہے اور جان بوجھ کر واجب کے ترک سے نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے۔ نماز کے قعدۂ اخیرہ میں تشہد، درود اور دعا کے بعد بغیر کسی اجنبی فاصلے کے سلام پھیرنا واجب ہوتا ہے، جبکہ صورت مسئولہ میں نمازی جان بوجھ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا جس سے سلام میں جان بوجھ کر تاخیر ہوئی اور یہ واجب اپنے محل میں ادا نہ ہوسکا، لہذا اس وجہ سےفجر کی قضا نماز واجب الاعادہ ہوگئی، اُسے دوبارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
ایک نماز کے دوران دوسری نماز کی طرف منتقل ہونے کی نیت سے پہلی نماز باطل نہیں ہوتی، چنانچہ درمختار میں ہے: و لا تبطل بنية القطع ما لم يكبر بنية مغايرة‘‘ ترجمہ: اور نماز ختم کرنے کی نیت سے نماز باطل (ختم) نہیں ہوتی، جب تک کہ کسی مختلف نیت کے ساتھ تکبیر نہ کہہ لے۔
اس کے تحت ردا لمحتار میں ہے: (قوله و لا تبطل بنية القطع) و كذا بنية الانتقال إلى غيرها ط (قوله ما لم يكبر بنية مغايرة) بأن يكبر ناويا النفل بعد شروع الفرض و عكسه، أو الفائتة بعد الوقتية و عكسه، أو الاقتداء بعد الانفراد و عكسه‘‘ ترجمہ: (ان کا قول کہ نماز ختم کرنے کی نیت سے نماز باطل نہیں ہوتی)۔ اسی طرح کسی دوسری نماز کی طرف منتقل ہونے کی نیت سے بھی نماز باطل نہیں ہوتی۔ (ان کا قول کہ جب تک مختلف نیت کے ساتھ تکبیر تحریمہ نہ کہہ لے) یعنی جب وہ فرض نماز شروع کرنے کے بعد نفل کی نیت سے تکبیر کہے، یا اس کے برعکس، یا وقتی نماز کے بعد قضا کی نیت سے تکبیر کہے، یا اس کے برعکس، یا تنہا پڑھنے کے بعد امام کی اقتدا کی نیت سے تکبیرکہے، یا اس کے برعکس۔ (در مختار مع درا لمحتار، جلد 2، صفحہ 156،دار المعرفۃ، بیروت)
حلبۃ المجلی شرح منیۃ المصلی میں ہے: مجرد النیۃ بالقلب من غیر تکبیر باللسان، فغیر مخرج من الاولی‘‘ ترجمہ: زبان سے تکبیر کہے بغیر صرف دل میں (دوسری نماز کی) نیت کر لینا، پہلی نماز سے خارج کرنے والا نہیں۔ (حلبۃ المجلی شرح منیۃ المصلی، جلد 1، صفحہ 673، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے: و لو افتتح الظهر ثم نوى التطوع أو العصر أو الفائتة أو الجنازة و كبر يخرج عن الأول و يشرع في الثاني و النية بدون التكبير ليس بمخرج. كذا في التتارخانية ناقلا عن العتابية‘‘ ترجمہ: اگر کسی نے ظہر کی نماز شروع کی، پھر (نماز کے دوران) نفل، یا عصر، یا قضا نماز، یا نمازِ جنازہ کی نیت کر لی اور (اس نئی نیت کے ساتھ) تکبیر بھی کہہ دی، تو وہ پہلی نماز سے نکل جائے گا اور دوسری نماز میں داخل ہو جائے گا۔ اور بغیرتکبیر کےصرف نیت کر لینا، پہلی نماز سے خارج کرنے والا نہیں۔ اسی طرح تتارخانیہ میں عتابیہ کے حوالے سے مذکور ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد، صفحہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ایک نماز شروع کرنے کے بعد دوسری کی نیت کی، تو اگر تکبیر جدید کے ساتھ ہے، تو پہلی جاتی رہی اور دوسری شروع ہوگئی، ورنہ وہی پہلی ہے، خواہ دونوں فرض ہوں یا پہلی فرض دوسری نفل يا پہلی نفل دوسری فرض۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 498، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
قعدہ اخیرہ میں سلام کا محل تشہد، دعا کے فوراً بعد ہے، کھڑے ہونے سے سلام کے محل میں تاخیر ہوگی، چنانچہ طوالع الانوار میں ہے: و کان ذلک عقیب فراغہ من التشھد و الصلاۃ و الادعیۃ فحیث تخلل القیام‘‘ ترجمہ: اور سلام کا محل قعدہ اخیرہ میں تشہد، درود اور دعاؤں سے فارغ ہونے کے فوراً بعد ہے، تو (قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد) کھڑا ہونا مخل ہو گا۔ (طوالع الانوار، جلد 2، صفحہ 379، مخطوط)
جبکہ ہر فرض و واجب کو اپنے محل میں ادا کرنا نماز کے واجبات میں سے ہے، چنانچہ واجبات نماز بیان کرتے ہوئے علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ در مختار میں لکھتے ہیں: من الواجبات اتیان کل واجب أو فرض فی محلہ‘‘ ترجمہ: ہر فرض و واجب کا اس کی جگہ ہونا بھی نماز کے واجبات میں سے ہے۔ (در مختار، جلد 2، صفحہ 201، دار المعرفۃ، بیروت)
اور جان بوجھ کر واجب کے ترک سے نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے، جیسا کہ در مختار میں ہے: تعاد وجوبا فی العمد و السھو إن لم یسجد‘‘ ترجمہ: جان بوجھ کر واجب ترک کرنے اور بھول کر ترک کرنے کی صورت میں سجدہ سہو نہ کرنے سے نماز کا اعادہ واجب ہے۔ (درمختار، جلد 2، مطلب: واجبات الصلوۃ، صفحہ 181، دارالمعرفۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1229
تاریخ اجراء: 24 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء