مسافر سے مقیم بننے کے لیے پندرہ دن مقرر ہونے کی حکمت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسافر کے مقیم ہونے کے لیے پندرہ دن ہی کیوں ضروری ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسافرکے مقیم ہونے کے لیے کسی شہر میں پندرہ دن اقامت کی نیت کرنے کاجو مسئلہ ہے، اس میں پندرہ دن تعیین کی کیا وجہ ہے؟
سائل: محمد عدنان (فیصل آباد)
جواب
شرعی مسافر جب کسی ایک مقام پر پندرہ دن یا اس سے زیادہ کے لیےقیام کی نیت کرلے، تو اسے حکم ہے کہ قصر کے بجائے نماز مکمل چار رکعت پڑھے۔ اس مدت کو پندرہ دن کے ساتھ خاص کرنے کی بنیادی وجہ حضرتِ عبد اللہ بن عمر اور حضرتِ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی وہ آثار ہیں جن میں اقامت کی کم از کم مدت پندرہ دن مقرر کی گئی ہے اور یہ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ شرعی مقادیر قیاس اور اجتہاد سے معلوم نہیں کیے جاسکتے، لہٰذا جب کوئی صحابی رضی اللہ عنہ ایسا شرعی حکم بیان کرے جومحض رائے اور اجتہاد سے معلوم نہ ہوسکتا ہو، تو وہ حدیثِ مرفوع کے حکم میں شمار ہوتا ہے، اسی بنا پر مذکورہ آثار بھی حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہیں۔
وطنِ اقامت کے لیے پندرہ دن کا اعتبار ہوگا، چنانچہ الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے: و لا يزال على حكم السفر حتى ينوي الاقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر" ترجمہ: مسافر سفر کے حکم (اور رخصتوں) پر ہی رہے گا یہاں تک کہ وہ کسی شہر یا گاؤں میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کر لے۔ اور اگر اس نے اس سے کم دن ٹھہرنےکی نیت کی تو وہ قصر ہی کرے گا۔ (الھدایۃ، ج 1، ص 80، مطبوعہ بیروت)
امام محمدبن حسن شیبانی علیہ الرحمۃ کتاب الآثار میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: إذا كنت مسافرا، فوطنت نفسك على إقامة خمسة عشر يوما، فأتمم الصلاة" ترجمہ: جب تم مسافر ہو اور اپنے دل میں (کسی ایک جگہ) پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ کر لو، تو نماز پوری پڑھو (یعنی قصر نہ کرو)۔(كتاب الاثار للامام محمد، ج 1، ص 489، رقم: 188، مطبوعہ حيدرآ باد، دكن)
اما م ابن ابی شیبہ علیہ الرحمۃ سندِ صحیح کے ساتھ حضرتِ مجاہد علیہ الرحمۃ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: كان ابن عمر إذا أجمع على إقامة خمس عشرة سرح ظهره و صلى أربعا" ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب پندرہ دن ٹھہرنے کا پختہ ارادہ کر لیتے، تو اپنی سواری کو (سامان اتار کر چرنے کے لیے) چھوڑ دیتے اور نماز چار رکعت مکمل پڑھتے۔ (المصنف لابن ابی شیبۃ، ج 5، صفحہ 284، رقم: 8436، مطبوعہ دار كنوز إشبيليا، الریاض)
شارح بخاری، امام ابن بطال علیہ الرحمۃ حضرت عبداللہ بن عباس اورحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں اصحاب نے فرمایا: إذا قدمت بلدًا و أنت مسافر، و فى نفسك أن تقيم خمس عشرة ليلة، فأكمل الصلاة" ترجمہ: جب تم حالت سفر میں کسی شہر پہنچو اور تمہارے دل میں وہاں پندرہ راتیں ٹھہرنے کا ارادہ ہو،تونماز مکمل پڑھو۔ (شرح صحیح بخاری لابن بطال، ج 3، ص 76، مطبوعہ ریاض)
مقادیرِ شرعیہ سماعی ہوتی ہیں، چنانچہ فتح القديرميں ہے: نصب المقادير لا يعرف إلا سماعا فكان للموقوف على الصحابة حكم المرفوع" یعنی شارع علیہ السلام سے سنے بغیرشرعی مقداروں کومقرر کرنا، معلوم نہیں ہوسکتا، لہٰذا صحابہ کرام علیہم الرضوان سے موقوفاً حدیث، حدیث مرفوع کے حکم میں ہو گی۔ (فتح القدیر، ج 6، ص 136ِ مطبوعہ مصر)
کبھی حدیثِ موقوف حکماً حدیثِ مرفوع کی مثل ہوتی ہے چنانچہ امام جلال الدين سيوطی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: من المرفوع أيضا ما جاء عن الصحابي و مثله لا يقال من قبل الرأي و لا مجال للاجتهاد فيه فيحمل على السماع، جزم به الرازي في المحصول، و غير واحد من أئمة الحديث" ترجمہ: حديثِ مرفوع كی ايك قسم یہ ہے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کوئی ایسی خبر مروی ہو جواپنی رائے کی بنیاد پر نہ کہی جا سکتی ہو اور اس میں اجتہاد کی گنجائش بھی نہ ہو، تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سننے پر محمول کیا جائے گا۔ امام رازی نے المحصول میں اورکثیر محدثین نے اسی پر جزم کیا ہے۔ (تدریب الراوی، ج 1، ص 451، مطبوعہ دار الطیبۃ)
مذکورہ روایات حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہیں، چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے متعلق فرماتے ہیں: و الأثر في مثله كالخبر لأنه لا مدخل للرأي في المقدرات الشرعية" ترجمہ: اس جیسے مقام میں صحابی کا قول بھی حدیث مرفوع کی طرح ہے، کیونکہ شرعی مقدار کے بیان میں قیاس کا کچھ دخل نہیں۔ (لمعات التنقيح، ج 3، ص 212، مطبوعہ دار النوادر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: FSD-10068
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ / 27 جون 2026ء