logo logo
AI Search

مسجد میں مٹی کے تیل والا پینٹ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسجد میں مٹی کے تیل کی آمیزش والا پینٹ کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مسجد کی صفائی ستھرائی کا کام جاری ہے، تو مسجد کے اندر در و دیوار پر ایسا پینٹ (paint) کرنا جس میں مٹی کا تیل ملایا گیا ہو، شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ مٹی کا تیل ملانے سے پینٹ بد بو دار ہو جاتا ہے۔ سائل: محمد ارشد (راولپنڈی)

جواب

مسجدیں اللہ عزوجل کا گھر ہیں، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا شرعاً مطلوب اور بلا شبہ مستحسن عمل ہے، لیکن جہاں ہمیں مسجدوں کو پاک، صاف رکھنے کی ترغیب دی گئی، وہیں انہیں خوشبودار رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے، لہذا مسجد کو ہر اس چیز سے بچانا واجب ہے، جس کی وجہ سے اس میں بد بو پھیلے اور مٹی کا تیل چونکہ بدبو دار ہوتا ہے اور پینٹ (paint) میں ملانے سے اس میں بھی بُو پیدا ہو جاتی ہے، بلکہ (مشاہدہ ہے کہ) ایسا پینٹ استعمال کرنے کے بعد جب تک اچھی طرح خشک نہ ہو جائے، اس کے ارد گرد بہت زیادہ بو پھیلی رہتی ہے، اس لئے مسجد میں مٹی کے تیل کی آمیزش والا بد بو دار پینٹ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی کیمیکل وغیرہ سے یہ بُو دور ہو سکتی ہو، تو بدبو کو سو فیصد ختم کر کے مٹی کا تیل استعمال کرنے میں حرج نہیں۔

مساجد کو صاف ستھرا اور خوشبودار رکھنے کا حکم ہے۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَعَہِدْنَاۤ اِلٰۤی اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَہِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرا گھر طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے خوب پاک صاف رکھو۔“ (پارہ 1، سورۃ البقرہ، آیت 125)

اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ’’اس سے معلوم ہوا کہ خانہ کعبہ اور مسجد حرام شریف کو حاجیوں، عمرہ کرنے والوں، طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور نمازیوں کے لیے پاک و صاف رکھا جائے۔ یہی حکم مسجدوں کو پاک و صاف رکھنے کا ہے، وہاں گندگی اور بدبو دار چیز نہ لائی جائے۔ یہ سنت انبیاء (علیہم السلام) ہے۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 205، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اور حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث میں ہے: ’’امر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ببناء المساجد فی الدور وان یتنظف و یتطیب“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ صاف اور خوشبو دار رکھی جائیں۔“ (جامع ترمذی، ابواب السفر، باب ما ذکر فی تطییب المساجد، جلد 1، صفحہ 130، مطبوعہ کراچی)

مسجد کو بُو سے بچانا واجب ہے۔ غنیۃ المتملی میں ہے: ’’یجب ان تصان عن ادخال الرائحۃ الکریھۃ‘‘ ترجمہ: مسجد میں بدبو کے داخل کرنے سے بچنا واجب ہے۔“ (غنیۃ المتملی، فصل فی احکام المسجد، صفحہ 610، مطبوعہ کوئٹہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’مسجد کو بو سے بچانا واجب ہے، ولہذا مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حرام، مسجد میں دیا سلائی سلگانا حرام، حتی کہ حدیث میں ارشاد ہوا: وان یمرفیہ بلحم نیئ“ یعنی مسجد میں کچا گوشت لے جانا جائز نہیں، حالانکہ کچے گوشت کی بو بہت خفیف ہے، تو جہاں سے مسجد میں بو پہنچے، وہاں تک ممانعت کی جائے گی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 232، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اگر کسی طرح بُو دور ہو سکے، تو اس پینٹ کو کرنے میں حرج نہیں۔ ملفوظات اعلیٰ حضرت میں ہے: ”مسجد میں کسی بدبودار تیل کے جلانے کی اجازت نہیں، نہ کہ مٹی کا تیل۔ ہاں اگر اس کی بد بو کسی مصالحہ سے دور کر دی جائے، تو جرم نہیں۔“ (ملفوظات اعلی حضرت، صفحہ 317، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: مارکیٹ میں ایسے پینٹ/روغن بھی دستیاب ہیں، جن میں بُو نہیں ہوتی، لہذا بوقتِ ضرورت مسجد کے لئے انہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7031
تاریخ اجراء: 03 صفر المظفر 1444ھ/31 اگست 2022ء