logo logo
AI Search

مسجد بیت کے اوپر یا ساتھ واش روم بنانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مسجد بیت کے اوپرواش روم ہونا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

گھر میں جو جگہ نماز کے لیے خاص کر دی جائے، وہ مسجد بیت کہلاتی ہے، اور مسجد بیت حقیقتاً مسجد نہیں ہوتی، اسی وجہ سے مسجد بیت کے احکام، عام وقف شدہ مساجد کی طرح نہیں ہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر نیچے کسی کمرے کو مسجد بیت قرار دیں، اور اس کے اوپر واش روم ہو، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ یونہی اگر مسجد بیت کے ساتھ اٹیچ واش روم ہو تو یہ بھی جائز ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ اٹیچ واش روم والا حصہ مسجد بیت میں شامل نہیں ہو گا اور اس صورت میں بلا ضرورت مسجد بیت سے باہر (گھر کے کسی دوسرے حصے میں) جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

مسجد بیت کی تعریف سے متعلق محیط برہانی میں ہے "مسجد بيتها یرید به الموضع المعد للصلاة" ترجمہ: مسجد بیت سے مراد وہ جگہ ہے، جو گھر میں نماز کے لیے مقرر کی جائے۔ (المحیط البرھانی، جلد 2، صفحہ 405، مطبوعه: بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے "مسجد بيتها ليس بمسجد حقيقة بل هو اسم للمكان المعد للصلاة في حقها حتى لا يثبت له شيء من أحكام المسجد" ترجمہ: مسجدِ بیت حقیقتاً مسجد نہیں ہوتی، بلکہ یہ عورت کے حق میں نماز کے لئے مقرر کی گئی جگہ کو کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے لیے مسجد کے احکام میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہو گا۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 281، مطبوعه: كوئٹہ)

خواتین کے اعتکاف اورمسجد بیت سے متعلق مزید احکام جاننے کے لیے درج ذیل کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5216
تاریخ اجراء: 12 صفر المظفر 1448ھ / 27 جولائی 2026ء