کمر درد کی وجہ سے سنت اور نفل نماز کرسی پر پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سنتیں اور نفل زمین پر سجدہ کرنے کی بجائے صرف کرسی پر پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایسا شخص کہ جس کو کمر کی تکلیف ہے، اس کے لیے زمین پر بیٹھنا مشکل اور تکلیف دہ ہے، وہ فرض، واجب اور سنتِ فجر کہ جن میں قیام فرض ہے ان نمازوں کو کھڑے ہو کر زمین پر سجدہ کر کے ادا کر لیتا ہے، لیکن دیگر سنن و نوافل کہ جن میں قیام فرض نہیں، ان کو کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے پڑھتا ہے، تاکہ زمین پر بیٹھنا نہ پڑے، تو ایسا شخص ان نمازوں میں اشارے سے سجدہ کر سکتا ہے یا زمین پر ہی کرنا ہوگا؟ اور اگر زمین پر سجدہ کرنا ضروری ہے، تو جتنی نمازیں اشارے کے ساتھ سجدہ کر کے ادا کیں، وہ ادا ہو گئیں یا ان کا اعادہ کرنا ہوگا؟
سائل کا مزید بیان ہے کہ میں قیام بھی کر سکتا ہوں اور زمین پر سجدہ بھی کر سکتا ہوں، لیکن زمین پر زیادہ بیٹھ نہیں سکتا۔ ہاں اتنا وقت جتنا دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں لگتا ہے، اتنا وقت میں بیٹھ سکتا ہوں۔
جواب
بیان کردہ صورت میں جب شخصِ مذکور زمین پر سجدہ کر سکتا ہے اور جلسہ کی مقدار زمین پر بیٹھ بھی سکتا ہے، تو سنتِ فجر کے علاوہ دیگر سنن و نوافل جن میں قیام فرض نہیں، ان میں بیٹھ کر نماز تو پڑھ سکتا ہے، لیکن سجدہ زمین یا جو بلندی زمین کے حکم میں ہے، اس پر پیشانی رکھ کر ہی ادا کرنا ہوگا، کیونکہ جب تک زمین پر سجدہ کرنے کی قدرت ہو، زمین پر سجدہ کرنا فرض ہے۔ شخص مذکورسنن و نوافل میں سجدہ زمین پر کرے اور قعدے کافعل چاہے تو کرسی پر بیٹھ کر مکمل کرلے۔ اگر قدرت کے باوجود اشارے سے سجدہ کیا ،تو نماز ادا ہی نہیں ہوگی اور اس کا اعادہ کرنا بھی لازم ہوگا، لہٰذا شخصِ مذکور جب زمین پر سجدے کی قدرت رکھتا تھا، اس کے باوجود ان نمازوں میں سجدہ اشارے سے کرتا رہا، تو وہ نمازیں تکبیر تحریمہ سے شروع تو ہوتی رہیں، لیکن سجدے کا فرض چھوڑنے کی وجہ سے باطل ہوتی رہیں، لہٰذا اس عمل سے توبہ بھی ضروری ہے اور ان تمام نمازوں کو دوبارہ پڑھنا بھی واجب ہے۔
جب زمین پر سجدے کی قدرت ہی نہ ہو، تو بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ سکتے ہیں، ورنہ نہیں، چنانچہ صحیح بخاری، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، سنن الکبری للبیہقی وغیرہا کتبِ احادیث میں ہے، و اللفظ للاوّل: عن عمران بن حصين رضي اللہ عنہ قال: كانت بي بواسير، فسألت النبي صلى اللہ عليه و سلم عن الصلاة، فقال: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب“ ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا، تو میں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ سے (اس مرض میں) نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر تمہیں اس کی طاقت نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو، تو کروٹ کے بل لیٹ کر پڑھو۔ (صحيح البخاري، أبواب تقصير الصلاة، جلد 1، صفحه 376، مطبوعہ دمشق)
مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ بدرالدین عینی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: و بهذا الحديث استدل أصحابنا أن المريض إذا عجز عن القيام صلى قاعدا يركع و يسجد، فإن لم يستطع الركوع و السجود أومأ إيماء قاعدا، و جعل سجوده أخفض من ركوعه“ ترجمہ: اسی حدیث سے ہمارے فقہائے احناف نے استدلال کیا ہے کہ مریض جب قیام سے عاجز ہو، تو بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز ادا کرے، اگر رکوع و سجود کی بھی طاقت نہ ہو، تو بیٹھ کر اشارے سے پڑھے اور سجدے کو رکوع سے زیادہ پست کرے۔ (شرح سنن أبي داود للعيني، کتاب الصلاۃ، باب في صلاة القاعد، جلد 4، صفحه 225، 226، مطبوعه ریاض)
سنتِ فجر کے علاوہ سنن و نوافل میں قیام کی رخصت ہے، لیکن زمین پر سجدہ کی قدرت ہو، تو اس کی رخصت نہیں، چنانچہ بدائع الصنائع، بحر الرائق اور فتاویٰ عالمگیری وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے، و اللفظ للبحر: ان المتنفل یتخیر بین القیام و القعود و لا یتخیر بین الایماء و السجود“ ترجمہ: نفل پڑھنے والے کو قیام اور قعود میں اختیار ہے، لیکن اشارہ اور سجدہ میں اختیار نہیں۔ (بحر الرائق، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 387، مطبوعہ دار الكتاب الاسلامي)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: لو صلی التطوع بالایماء من غیر عذر لایجوز لعدم ارکان الصلاۃ“ ترجمہ: اگر کسی نے بلا عذر نفل نماز اشارہ سے پڑھی، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اس میں نماز کے ارکان مکمل نہیں ہوتے۔ (فتاوی تاتارخانیہ، جلد 1، صفحہ 399، مطبوعہ بیروت)
اسی طرح عامۂ کتبِ فقہ میں قیام پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں قیام کی معافی اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کی رخصت تو مذکور ہے، لیکن قیام ساقط ہونے کی وجہ سے رکوع و سجود کے ساقط ہونے کا حکم ہرگز نہیں، بلکہ حقیقی رکوع (یعنی سر کے ساتھ کمر کے جھکانے) اور حقیقی سجدے پر قدرت ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ ہی نماز پڑھنے کا حکم ہے، اشارے کی اجازت نہیں۔
چنانچہ تنویر الابصار میں ہے: (من تعذر عليه القيام) . . . (صلى قاعدا بركوع و سجود) ترجمہ: جسے قیام پر قدرت نہ ہو، تو وہ بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نماز پڑھے گا۔ (تنوير الابصار، جلد 2، صفحہ 681 تا 683، مطبوعہ کوئٹہ)
ملتقی الابحر میں ہے: عجز عن القيام أو خاف زيادة المرض بسببه صلى قاعدا يركع و يسجد‘‘ ترجمہ: اگر مریض کھڑے ہونے سے عاجز ہو جائے یا اس کی وجہ سے بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو ، تو وہ بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھے۔ (ملتقی الابحر، صفحہ 228، 227، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: جو شخص زمین پر سجدہ نہیں کر سکتا مگر شرائط مذکورہ (یعنی کوئی ایسی اونچی چیز زمین پر رکھ کر جو سخت ہو اور اس پر سجدہ کرنے سےاس قدر پیشانی دب جائے کہ پھر دبانے سے نہ دبے اور اس کی اونچائی بارہ انگل سے زیادہ نہ ہو) کے ساتھ کوئی چیز زمین پر رکھ کر سجدہ کر سکتا ہے، اس پر فرض ہے کہ اسی طرح سجدہ کرے اشارہ جائز نہیں اور اگر وہ چیز جس پر سجدہ کیا ایسی نہیں، تو حقیقۃً سجود نہ پایا گیا، بلکہ سجدہ کے لیے اشارہ ہوا، لہٰذا کھڑا ہونے والا اس کی اقتدا نہیں کر سکتا۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4،صفحه 722، مطبوعہ مکتبة المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9974
تاریخ اجراء: 20 ذیقعدۃ الحرام 1447ھ / 08 مئی 2026ء