logo logo
AI Search

جمعہ نکل جائے تو ظہر کس نیت سے پڑھیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جمعہ کی نماز نکل جائے تو ظہر کی نماز کس نیت سے پڑھیں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جمعہ کے دن کسی عذر کی وجہ سے اتنی تاخیر ہو گئی کہ اب شہر میں کہیں پر بھی جمعہ ملنے کی امید نہیں ہے، لیکن ابھی ظہر کا وقت باقی ہے، تو کیا اب ظہر کی نماز ادا کی نیت سے پڑھی جائے گی یا قضا کی نیت سے ؟ رہنمائی فرمادیں۔ سائل: غلام مرتضی (اوکاڑہ)

جواب

اگر کسی شخص کی نمازِ جمعہ نکل گئی اور شہر میں کسی دوسری جگہ بھی جمعہ ملنے کی امید نہیں ہے اور ابھی ظہر کا وقت باقی ہے، تو اب اس شخص پر ظہر کی نماز ادا کرنا ہی  فرض ہے اور یہ نماز ادا کی نیت سے ہی پڑھی جائے گی، لیکن اگر کسی نے وقت کے اندر قضا کی نیت سے بھی پڑھ لی، تو بھی وہ ادا ہی ہوگی، کیونکہ ادا نماز کو قضا کی نیت سے پڑھا جائے یا ادا کی نیت سے، وہ ادا ہی ہوتی ہے۔ اور یہ بات یاد رکھیں کہ اگر کسی نے بلا عذر اس طرح کیا، تو جمعہ چھوڑنے کا گناہ اس کے سر رہے گا، جس سے سچی توبہ کرنی ہوگی ۔

بیان کردہ شرعی حکم کے دلائل:

دیگر دنوں کی طرح جمعہ کے دن بھی اس وقت میں اصلِ فرض، ظہر ہے، لیکن شرائط پائی جانے کی صورت میں اس فرض کو جمعہ کی ادائیگی کے ساتھ ساقط کرنے کا حکم ہے، چنانچہ شمس الآئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:483ھ/1090ء) لکھتے ہیں: ”أن ‌أصل ‌فرض ‌الوقت ‌في هذا اليوم ما هو في سائر الأيام وهو الظهر ولكنه مأمور بإسقاط هذا الفرض بالجمعة إذا استجمع شرائطها لأن أصل الفرض في حق كل أحد ما يتمكن من أدائه ولا يتمكن من أداء الجمعة بنفسه وإنما يتمكن من أداء الظهر ولو جعلنا أصل الفرض الجمعة لكان الظهر خلفا عن الجمعة عند فواتها وأربع ركعات لا تكون خلفا عن ركعتين فعلمنا أن أصل الفرض الظهر ولكنه مأمور بإسقاط هذا الفرض عن نفسه بأداء الجمعة إذا استجمع شرائطها“

 ترجمہ: بے شک اس دن اصل فرضِ وقت وہی ہے جو دیگر ایام میں ہے اور وہ ظہر ہے، لیکن شرائط پائی جانے کی صورت میں اس فرض کو جمعہ کے ذریعے ساقط کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ ہر ایک کے حق میں اصل فرض وہی ہے، جس کی ادائیگی کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جمعہ کی ادائیگی کی بندہ بذات خود قدرت نہیں رکھتا، جبکہ ظہر کی ادائیگی کی اسے قدرت حاصل ہوتی ہے۔ اگر ہم اصل فرض جمعہ کو بنائیں، تو پھر جمعہ فوت ہونے کی صورت میں ظہر جمعہ کا بدل (خلف) قرار پائے گی، حالانکہ چار رکعتیں دو رکعتوں کا بدل نہیں بن سکتیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل فرض ظہر ہی ہے، لیکن جب جمعہ کی شرائط مکمل ہو جائیں تو اسے حکم دیا جاتا ہے کہ جمعہ ادا کر کے اس فرض (ظہر) کو اپنے ذمہ سے ساقط کر دے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 02، صفحہ 22، دار المعرفة، بيروت)

جمعہ کی شرائط میں سے ایک شرط جماعت ہے، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ”لا خلاف في أن الجماعة شرط لانعقاد الجمعة حتى لا تنعقد الجمعة بدونها“ ترجمہ: اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جمعہ کے انعقاد کے لیے جماعت شرط ہے، یہاں تک کہ جماعت کے بغیر جمعہ نہیں ہوسکتا۔ (بدائع الصنائع، جلد 01، صفحہ 266، دار الكتب العلمية)

جب جمعہ نکل جائے تو پھر ظہر پڑھنا ہی فرض ہے، چنانچہ فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: ”اذا وجد شرائط الجمعۃ، فالفرض ھو الجمعۃ ان ادرک فصلی، وان لم یدرک ففرضہ الظھر“ ترجمہ: جب جمعہ کی شرائط پائی جائیں، تو اس وقت جمعہ ہی فرض ہے۔ اگر جمعہ کو پالے تو پڑھ لے، اور اگر نہ پائے تو اس پر ظہر کی نماز فرض ہے۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، جلد 01، صفحہ 530، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”جس پر جمعہ فرض ہے اسے شہر میں جمعہ ہو جانے سے پہلے ظہر پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، بلکہ امام ابن ہمام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حرام ہے اور پڑھ لیا جب بھی جمعہ کے ليے جانا فرض ہے اور جمعہ ہو جانے کے بعد ظہر پڑھنے میں کراہت نہیں بلکہ اب تو ظہر ہی پڑھنا فرض ہے اگر جمعہ دوسری جگہ نہ مل سکے مگر جمعہ ترک کرنے کا گناہ اس کے سر رہا ۔“ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 773، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ادا نماز کو قضا کی نیت سے پڑھا جائے یا ادا کی نیت سے، بہر صورت وہ ادا ہی ہوگی، چنانچہ علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616ھ/1219ء) لکھتے ہیں: ”أن القضاء يجوز بنية الأداء، والأداء ‌بنية ‌القضاء وهو المختار“ ترجمہ: بے شک قضا کو ادا کی نیت سے اور ادا کو قضا کی نیت سے پڑھنا جائز ہے، اور یہی مختار ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 01، صفحہ 289، دار الكتب العلمية، بيروت)

اسی طرح بہار شریعت میں ہے: ”اگر قضا بہ نیت ادا پڑھی يا ادا بہ نیت قضا، تو نماز ہوگئی، یعنی مثلاً وقت ظہر باقی ہے اور اس نے گمان کیا کہ جاتا رہا اور اس دن کی نماز ظہر بہ نیت قضا پڑھی يا وقت جاتا رہا اور اس نے گمان کیا کہ باقی ہے اور بہ نیت ادا پڑھی ہو گئی۔“ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 495، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0283
تاریخ اجراء: 18 ذو الحجۃ 1447ھ/04 جون 2026ء