جمعہ کا صرف ایک خطبہ دینا یا اردو میں خطبہ دینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جمعہ میں ایک خطبہ دینا یا اردو میں جمعہ کا خطبہ دینا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد میں ایک شخص نے جمعہ کے روز یوں خطبہ دیا کہ اولا دو اذانیں ہوئیں، پھر اس نے کھڑے ہو کر عربی خطبہ پڑھا، جو اردو تقریر سے پہلے پڑھا جاتا ہے، پھر اس نے تقریبا 50 منٹس اردو میں تقریر کی، اس کے بعد لوگوں کو سنتیں پڑھنے کا کہا، لوگ سنتوں میں مشغول ہوئے، چند افراد نے سنتیں پڑھی تھیں کہ اس نے کھڑے ہو کر صرف ایک عربی خطبہ پڑھا اور جماعت کروادی۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس کا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں ؟
جواب
شخص مذکور کے خطبہ دینے کا طریقہ سنت کے برخلاف ہے۔ جمعہ میں دو خطبے ہونا سنت متوارثہ ہے، یہی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا مبارک عمل رہا اور شروع سے لے کر آج تک کے مسلمانوں کا بھی یہی معمول ہے کہ جمعہ میں دو خطبے پڑھتے ہیں۔ جمعہ میں ایک خطبہ دینا خلاف سنت و مکروہ ہے۔
اور اگر شخص مذکور، پہلے عربی خطبے اور اردو تقریر کو بھی خطبہ قرار دیتا ہے تو یہ بھی سنت متوارثہ کے خلاف اور مکروہ ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ایسے ممالک فتح فرمائے، جن کی زبان عربی نہ تھی لیکن کہیں مذکور نہیں کہ انہوں نے جمعہ میں خالص غیر عربی یا عربی اور غیر عربی کو مکس کرکے خطبے پڑھے یا پڑھائے ہوں، اسی طرح کا معاملہ تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، محدثین اور فقہائے کرام کے زمانوں میں رہا کہ کسی سے ثابت نہیں کہ کسی نے کسی مقام پر خالص غیر عربی یا عربی اور غیر عربی کو مکس کرکے خطبے پڑھے یا پڑھائے ہوں۔
نیز اس صورت میں جب وہ اردو تقریر کو بھی خطبے کا حصہ قرار دے گا تو خطبہ بہت طویل ہو جائے گا اور اتنا طویل خطبہ دینا بھی خلاف سنت ہے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے "عن جابر بن سمرة، قال: «كانت للنبي صلى اللہ عليه وسلم خطبتان يجلس بينهما" ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم دو خطبے ارشاد فرماتے تھے، جن کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے تھے۔ (صحیح مسلم، باب ذکر الخطبتین، ج 02، ص 589، مطبوعہ بیروت)
ٍصحیح مسلم شریف میں ہے "عن جابر بن سمرة، قال: «كنت أصلي مع رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم، فكانت صلاته قصدا، وخطبته قصدا" ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرمایا: میں اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کیا کرتا تھا تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔ (صحیح مسلم، باب تخفیف الصلوۃ والخطبۃ، ج 02، ص 591، مطبوعہ بیروت)
در مختار میں ہے "(ويسن خطبتان) خفيفتان وتكره زيادتهما على قدر سورة من طوال المفصل (بجلسة بينهما)" ترجمہ: دو خفیف خطبے، دونوں کے درمیان جلسہ کے ساتھ سنت ہیں اور ان دونوں میں طوال مفصل والی سورت کی مقدار پر اضافہ کرنا مکروہ ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، باب الجمعۃ، ج 3، ص 23، مطبوعہ کوئٹہ)
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے "و" يسن "خطبتان" للتوارث إلى وقتنا" ترجمہ: جمعہ میں دو خطبے سنت ہیں شروع سے لے کر ہمارے زمانے تک مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، باب صلاۃ الجمعۃ، ص 196، المکتبۃ العصریۃ)
فتاوی رضویہ میں ہے "زمانہ صحابہ و تابعین و ائمہ دین سے خطبہ خاص زبان عربی میں ہونا متوارث ہے "کما ذکر الشاہ ولی ﷲ الدھلوی فی شرح الموطا" (جیسا کہ شاہ ولی اﷲ الدہلوی نے شرح موطا میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔) عہد سلف میں بحمد ﷲ ہزاروں بلاد عجم فتح ہوئے۔ ہزارہا منبر نصب کئے گئے، عامہ حاضرین اہل عجم ہوتے مگر کبھی منقول نہیں کہ سلف صالح نے ان کی تفہیم کے لئے خطبہ جمعہ یا عیدین غیر عربی میں پڑھا یا اس میں دوسری زبان کا خلط کیا، اور سنت متوارثہ کی مخالفت بیشک مکروہ ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 08، ص 308، رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-10621
تاریخ اجراء: 24 رمضان المبارک 1442ھ / 07 مئی 2021ء