عشاء کی سنتوں اور نوافل کا ثبوت
بسم اللہ الرحمن الرحيم
نماز عشا میں سنن و نوافل کا ثبوت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
نمازِ عشاء کے چار فرضوں سے پہلے چار سنتِ غیر مؤکدہ ہیں، پھر فرضوں کے بعد دو سنتِ مؤکدہ اور دو نفل، پھر تین وتر کے بعد دو نفل ہیں، اور ان تمام رکعات کا ثبوت احادیثِ مبارکہ و آثار سے موجود ہے۔ فقہائے کرام نے بھی ان کی مشروعیت اور فضیلت کو احادیثِ نبویہ سے ثابت فرمایا ہے۔
لہٰذا زید کا یہ کہنا کہ عشاء میں فرض اور وتر کے علاوہ کسی سنت یا نفل کا ثبوت نہیں، احادیثِ نبویہ کے خلاف، باطل و مردود ہے۔ اس پر لازم ہے کہ اپنی اس بات سے رجوع کرے اور توبہ کرے، اور اگر اس نے یہ بات اعلانیہ کہی ہو تو اس کی توبہ بھی اعلانیہ ہونی چاہیے۔
عشاء کے فرضوں سے پہلے چار رکعات پڑھنے کا ثبوت:
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشاء سے پہلے چار رکعات پڑھنے کے متعلق فرماتے ہیں: کَانُوْا یَسْتَحِبُّوْنَ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ قَبْلَ الْعِشَاء الْاٰخِرَۃِ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم عشاء کی نماز سے پہلے چار رکعت پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے۔(مختصر قیام اللیل للمروزی ص 88، فیصل آباد، پاکستان)
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم عشاء سے پہلے چار رکعت پڑھنے کو جو مستحب قرار دیتے تھے، تو ظاہر یہی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہوگا یا آپ سے اس کی فضیلت سنی ہوگی۔ نیز فقہ حنفی کی معتبر کتاب الاختیار لتعلیل المختار میں حدیثِ مرفوع سے بھی یہ بات ثابت کی ہے، چنانچہ اختیار میں ہے: و عن عائشة أنه - عليه الصلاة و السلام - «كان يصلي قبل العشاء أربعا، ثم يصلي بعدها أربعا ثم يضطجع یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عشاء سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے، اور عشاء کے بعد چار رکعات پڑھا کرتے تھے، پھر لیٹ جاتے تھے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 1، ص 119، الحلبي –، القاهرة)
نیز فقہا ئے کرام نے عشاء کو ظہر کی نظیر قرار دے کر بھی فرضوں سے پہلے چار رکعات پڑھنا مستحب قرار دیا، بلکہ ایک اور حدیثِ پاک سے بھی اس کا استدلال ہے، چنانچہ علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: یستدل لہ بعموم ما رواہ الجماعۃ من حدیث عبد اللہ بن مغفل انہ علیہ السلام قال بین کل اذانین صلوۃ بین کل اذانین صلوۃ ثم قال فی الثالثۃ لمن شاء فھذا مع عدم المانع من التنفل قبلھا یفید الاستحباب لکن کونھا اربعا یتمشی علی قول ابی حنیفۃ لانھا الافضل عندہ . . . . . . و انما قلنا مع عدم المانع من التنفل لانہ بعمومہ یشمل التنفل قبل المغرب مع انہ مکروہ عندنا و عند مالک و کثیر من السلف ترجمہ: عشاء کی چار قبلیہ سنتوں کے بارے میں اس حدیث کے عموم سے استدلال کیا جاتا ہے، جو محدثین کی ایک جماعت نے حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا: ہر دو اذانوں (یعنی ہر اذان و اقامت) کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں (یعنی ہر اذان و اقامت) کے درمیان نماز ہے۔ پھر تیسری مرتبہ فرمایا: اس کے لیے جو چاہے۔ تو یہ حدیث ان رکعتوں کے مستحب ہونے کا فائدہ دیتی ہے، جبکہ نماز سے قبل نفل پڑھنا منع نہ ہو۔ لیکن ان کا چار ہونا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی بنیاد پر ہے؛ کیونکہ ان کے نزدیک چار رکعتیں افضل ہیں۔ اور یہ بات جو ہم نے کہی کہ نفل پڑھنے سے کوئی مانع نہ ہو، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث کے عموم میں مغرب سے پہلے نفل پڑھنا بھی شامل ہے، لیکن یہ ہمارے، امام مالک اور کثیر اسلاف کے نزدیک مکروہ ہے۔ (غنیہ، جلد1، صفحہ334، مطبوعہ کوئٹہ)
شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: و إن تطوع بأربع رکعات فحسن؛ لأن العشاء نظیر الظہر من حیث أنہ یجوز التطوع قبلہا و بعدھا ترجمہ: اگر کوئی (عشاء سے پہلے) چار رکعتیں پڑھے تو یہ اچھا ہے؛ کیونکہ عشاء ظہر کی نظیر ہے، اس حیثیت سے کہ اس سے قبل اور بعد میں نوافل جائز ہیں۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 1، صفحہ 160، دار احیاء التراث العربی)
عشاء کے بعد دو سنتِ مؤکدہ اور دو نوافل کا ثبوت:
نمازوں کی مؤکدہ سنتوں کی تعداد و فضیلت کے متعلق مسلم، ابو داود، ترمذی اور نسائی وغیرہ میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، والنظم لمسلم: ما من عبد مسلم یصلی للہ کل یوم ثنتی عشرۃ رکعۃ تطوعا، غیر فریضۃ، إلا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ یعنی جو مسلمان بندہ اللہ عزوجل کے لیے ہر روز فرض کے علاوہ تطوع کی بارہ رکعتیں پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنائے گا۔ (صحیح مسلم، باب فضل السنن الراتبہ، صفحہ 265، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اور ترمذی شریف کی روایت میں رکعات کی تفصیل بھی بیان ہوئی ہے، جن میں عشاء کے بعد دو مؤکدہ سنتوں کا بھی ذکر ہے، چنانچہ ترمذی میں ہے: أربعا قبل الظھر، و رکعتین بعدھا، و رکعتین بعد المغرب، و رکعتین بعد العشاء، و رکعتین قبل صلاۃ الفجر صلاۃ الغداۃ ترجمہ: چار ظہر سے پہلے، دو ظہر کے بعد، دو مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد، اور دو صبح کی نماز، یعنی نمازِ فجر سے پہلے۔ (سنن ترمذی، صفحہ 181، دار ابن کثیر)
اور یہ مؤکدہ اس وجہ سے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سنتوں پر مواظبت اختیار فرمائی، اور فقط ایک دو بار ہی کسی عذر کی وجہ سے ان میں سے کچھ کو ترک کیا، جیسا کہ ملک العلماء علامہ کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: وقد واظب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم علیھا و لم یترک شیأ منھا إلا مرۃ أو مرتین لعذر و ھذا تفسیر السنۃ ترجمہ: ان رکعتوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مواظبت اختیار فرمائی، اور کبھی ان میں سے کچھ ترک نہیں کیا، مگر ایک یا دو بار عذر کی وجہ سے، اور یہی سنت کی تفسیر ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 636، کوئٹہ)
اور نمازِ عشاء کے بعد دو سنتیں مؤکدہ ہیں، لیکن چار پڑھنا افضل ہے؛ کیونکہ چار کی فضیلت حدیث میں بیان ہوئی ہے، چنانچہ المعجم الاوسط للطبرانی میں ہے: من صلی قبل الظھر أربع رکعات کأنما تھجد بھن من لیلتہ، ومن صلاھن بعد العشاء کن کمثلھن من لیلۃ القدر ترجمہ: جو ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے تو گویا اس نے اس رات کی تہجد پڑھی، اور جو عشاء کے بعد چار رکعتیں پڑھے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے لیلۃ القدر میں چار رکعتیں پڑھیں۔ (المعجم الاوسط، جلد 6، صفحہ 254، دار القاہرہ)
نیزسنن ابو داؤد میں حدیث پاک ہے: عن شريح بن هانئ، عن عائشة رضي اللہ عنها، قال: سألتها عن صلاة رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، فقالت: ما صلى رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم العشاء قط فدخل علي إلا صلى أربع ركعات، أو ست ركعات شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں۔ (سننِ ابی داؤد، ص 213، مطبوعہ بیروت)
وتروں کے بعد دو رکعات پڑھنے کا ثبوت:
وتروں کے بعد دو رکعت پڑھنا بھی حدیثوں سے ثابت ہے، چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ: أن النبی صلی اللہ علیہ و سلم کان یصلی بعد الوتر رکعتین ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ترمذی، صفحہ 200، دار ابن کثیر)
صحیح ابن خزیمہ، المعجم الکبیر، صحیح ابن حبان اور دارقطنی وغیرہ میں ہے، و النظم للاول: فإذا أوتر أحدکم فلیرکع رکعتین، فإن استیقظ، و إلا کانتا لہ ترجمہ: جب تم میں سے کوئی وتر پڑھے تو اس کے بعد دو رکعتیں پڑھ لے، کہ اگر (تہجد کے لیے) اسے جاگ آگئی تو ٹھیک، ورنہ یہ دو رکعتیں تہجد کے قائم مقام ہو جائیں گی۔ (صحیح ابن خزیمہ، جلد 1، صفحہ 470، مؤسسۃ الریان)
وتراوروترکے بعدنوافل کے متعلق صحیح مسلم میں حدیث پاک ہے: عن أبي سلمة، قال: سألت عائشة، عن صلاة رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، فقالت: «كان يصلي ثلاث عشرة ركعة، يصلي ثمان ركعات، ثم يوتر، ثم يصلي ركعتين حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، آٹھ رکعتیں پڑھتے پھر وتر ادا فرماتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے ۔ (صحیح مسلم، ص 268، مطبوعہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا بہتر ہے، اس کی پہلی رکعت میں اِذَا زُلْزِلَت، دوسری میں قُلْ یٰاَیُّھَا الْکٰفِرُوْن پڑھنا بہتر ہے۔ حدیث میں ہے کہ اگر رات میں نہ اُٹھا تو یہ تہجد کے قائم مقام ہو جائیں گی۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 658، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-23
تاریخ اجراء: 07 رمضان المبارک 1442ھ / 20 اپریل 2021ء