اقامت کی نیت کے بعد تذبذب ہو تو قصر پڑھیں گے یا پوری نماز؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اقامت کی نیت کرنے کے بعد مزید ٹھہرنے میں تذبذب ہو تو نماز قصر پڑھیں گے یا پوری؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی نے مقیم ہونے (پندرہ دن کسی جگہ رہنے) کی پختہ نیت کر لی، پھر پانچ دن گزرنے کے بعد مزید رہنے کے حوالے سے تشویش ہو رہی ہے کہ مزید دن رہوں گا یا نہیں؟ رہنا کنفرم نہیں ہے، تو کیا قصر پڑھے گا، یا مکمل؟
جواب
مسافر کسی جگہ پندرہ دن، یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کرلے، اوروہ جگہ اس کے لحاظ سےاقامت کی صلاحیت بھی رکھتی ہو، تو وہ مقیم ہوجاتا ہے، اور وہ جگہ اس کے لیے وطنِ اقامت بن جاتی ہے، اب جب تک وہ سفرِ شرعی کی نیت سے اس وطنِ اقامت سے باہر نہ ہوجائے، اس وقت تک محض نیت کرلینے سے وہ مسافر نہیں بن جاتا، لہذا اس وقت تک وہ پوری نمازہی پڑھے گا، خواہ تنہا نماز پڑھے یا لوگوں کی امامت کروائے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب ایک بار اس شخص نے اقامت کی (یعنی کم ازکم مسلسل پندرہ دن ایک مقام پررہنےکی) پختہ نیت کرلی، تو وہ مقیم ہوگیا، اور اب جب تک وہ سفرِ شرعی کی نیت سے اس وطنِ اقامت سے باہر نہیں چلا جاتا، تب تک وہ مقیم ہی رہے گا، اور پوری نماز ہی ادا کرے گا، خواہ تنہا نماز پڑھے یا لوگوں کی امامت کروائے، مزید رہنے میں جوتشویش ہورہی ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
درمختار میں ہے (اوینوی اقامۃ نصف شھر بموضع صالح لھا) من مصر اوقریۃ اوصحراء دارناوھو من اھل الاخبیۃ" ترجمہ: یا وہ نصف ماہ اقامت کی نیت کسی ایسی جگہ کرے جو اقامت کی صلاحیت رکھتی ہو جیسے شہریا بستی ہو یا ہمارے ملک کا صحرا ہو او رنیت کرنے والا خانہ بدوش ہو۔ (درمختار مع ردالمحتار، جلد 2، صفحہ 728، 729، مطبوعہ: کوئٹہ)
الاصل میں ہے ”إذا أجمع رأيه على الإقامة فهو مقيم و لا يكون مسافرا بالنية كما يكون مقيما بالنية لأنه لا يكون مسافرا حتى يسير و الإقامة إنما تكون بالنية لأن الإقامة ليس بعمل و السفر عمل“ ترجمہ: جب مسافر نے مقیم ہوجانے کاپختہ ارادہ کرلیا، تو وہ مقیم ہوگیا، لیکن وہ محض نیت سے مسافر نہیں ہوگا، جس طرح محض نیت سے مقیم ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ مسافر اسی وقت ہوگا، جب وہ (واقعتاً) سفر کرلے، اور مقیم ہونا تو محض نیت سے ہوجاتا ہے، کیونکہ مقیم ہونا، کوئی عمل نہیں ہے، جبکہ سفر ایک عمل ہے۔ (کتاب الاصل، جلد 1، صفحہ 270، مطبوعہ: بیروت)
محیط برہانی میں ہے ”من كان مقيماً في مكان لا يصير مسافراً بمجرد النية ما لم يخرج“ ترجمہ: جو کسی جگہ پر مقیم ہو،تو وہ محض سفر کی نیت سے مسافر نہیں ہوجائے گا، جب تک کہ شرعی سفر کے ارادے سے اس شہر سے باہر نہ ہوجائے۔ (المحيط البرهاني، کتاب الصلاۃ، ج 02، ص 34، دار الكتب العلمية، بيروت)
وطنِ اقامت کی تعریف کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے ”وطن إقامة وهو البلد الذي ينوي المسافر الإقامة فيه خمسة عشر يوما أو أكثر“ ترجمہ: وطنِ اقامت وہ شہر ہےکہ جس میں مسافر پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنے کی نیت کرلے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 142، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5125
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448ھ / 22 جون 2026ء