فوم والے کارپیٹ پر سجدہ کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کس فوم والے کارپیٹ پر سجدہ ادا ہو جائے گا اور کس پر نہیں ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد میں کارپیٹ کے نیچے موٹائی والا فوم بچھا ہو اور اس پر نماز پڑھتے ہوئے، سجدہ کی حالت میں زمین کی سختی محسوس نہ ہو، بلکہ پیشانی دبانے سے مزید دبتی جائے، تو ایسی جگہ نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت کا حکم سمجھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ نماز میں سجدہ کرتے ہوئے، پیشانی اور ناک کی سخت ہڈی کو زمین کی سختی محسوس ہونا ضروری ہے اور کسی نرم چیز پر سجدہ کرنا ہو، تو ایسی صورت میں پیشانی اور ناک کو اس قدر دبانا ضروری ہے کہ مزید دبانے سے نہ دبے۔ اور اگر یہ چیز بہت زیادہ نرم ہو کہ اس پر پیشانی رکھ کر دبانے کی صورت میں زمین کی سختی محسوس نہ ہو، بلکہ پیشانی کو جس قدر دبائیں، یہ اسی قدر مزید دبتی جائے، جیسے موٹی تہہ والے میٹریس (Mattress) وغیرہ، تو ایسی جگہ پر سجدہ کرنے سے سجدہ ادا نہیں ہو گا اور سجدہ چونکہ نماز کے فرائض میں سے ہے، تو اس کے رہ جانے کی صورت میں نماز بھی ادا نہیں ہو گی اور اگر محض پیشانی پر زمین کی سختی محسوس ہو رہی ہو، جبکہ ناک کی ہڈی نہ جمے، تو ایسی صورت میں نماز واجب الاعادہ ہو گی یعنی اس نماز کو صحیح طریقے سے دوبارہ پڑھنا ضروری ہو گا۔
بیان کردہ تفصیل کے مطابق جس کارپیٹ کے نیچے فوم بچھا ہو، اس پر نماز پڑھنے کی تین صورتیں بن سکتی ہیں:
(1) اگر مسجد میں بچھے ہوئے فوم اور کارپیٹ پرانے ہو کر دب چکے ہوں کہ ان پر نماز پڑھتے ہوئے پیشانی اور ناک کو از خود زمین کی سختی محسوس ہو، تو ان پر مطلقاً نماز جائز ہے۔
(2) اگر اس کارپیٹ پر نماز پڑھنے کی صورت میں خود بخود زمین کی سختی محسوس نہ ہو، بلکہ ناک اور پیشانی کو کسی قدر دبانے پر زمین کی سختی محسوس ہوتی ہو، تو جو لوگ اس قدر دبا کر پڑھیں گے، ان کی نماز ہو جائے گی، بقیہ کی نہیں۔
(3) اگر پیشانی دبانے پر بھی زمین کی سختی محسوس نہ ہو، بلکہ مزید دبانے پر دبتی جائے، تو اب کسی بھی شخص کی نماز اس کارپیٹ پر ادا نہیں ہو گی۔
آپ نے سوال میں جو صورتِ حال ذکر کی ہے، وہ تیسری صورت بنتی ہے، یعنی اگر واقعی وہ کارپیٹ اور فوم ایسا ہے کہ اس پر پیشانی کو جس قدر دباتے جائیں، مزید دبتی جاتی ہے اور کسی صورت زمین کی سختی محسوس نہیں ہوتی، تو ایسی جگہ پر نماز پڑھنے سے نماز ادا نہیں ہو گی، لیکن اگر حقیقت میں یہ صورت نہ ہو، بلکہ یہ محض وسوسہ ہو، تو پہلی دو صورتوں کی روشنی میں اس جگہ پر نماز پڑھنے کا حکم معلوم کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ کارپیٹ کے نیچے موٹا فوم بچھانے سے احتراز کرے، تاکہ سجدے کی درست ادائیگی میں مسائل درپیش نہ ہوں اور اگر کسی مسجد میں فوم کے زیادہ نرم اور موٹا ہونے کی وجہ سے سجدہ ادا نہ ہو رہا ہو، تو ایسی مسجد کی انتظامیہ پر کارپیٹ کے نیچے سے فوم کو فوراً نکالنا ضروری ہے، تاکہ مسجد میں درست طریقے سے نماز ادا کی جا سکے۔
سجدے میں پیشانی اور ناک کو زمین کی سختی محسوس ہونے کے متعلق علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتےہیں: ”وأن يجد حجم الأرض والناس عنه غافلون “ یعنی: یہ بھی ضروری ہے کہ سجدہ کرنے والا شخص زمین کی سختی محسوس کرے، جبکہ لوگ اس سے غافل ہیں۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 500، مطبعۃ مصطفی البابی، مصر )
اس کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: ”أي عن اشتراط وجود الحجم في السجود على نحو الكور والطراحة“ یعنی : لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ عمامے کے پیچ یا گدے وغیرہ پر سجدہ کرنے کی صورت میں (بھی) زمین کی سختی محسوس ہونا شرط (ضروری) ہے۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 501 مطبعۃ مصطفی البابی، مصر )
نرم چیز پر سجدہ کرنے کی صورت میں سجدہ ہونے یا نہ ہونے کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ولو سجد على الحشيش أو التبن أو على القطن أو الطنفسة أو الثلج إن استقرت جبهته وأنفه ويجد حجمه يجوز وإن لم تستقر لا“ ترجمہ: اگر کسی نے گھاس، بھوسے، روئی، قالین یا برف پر سجدہ کیا، تو اگر اس کی پیشانی اور ناک اس پر جم گئے اور اس نے ان (چیزوں) کی سختی کو محسوس کیا، تو جائز ہے اور اگر اس کی پیشانی اور ناک نہ جمے، تو جائز نہیں۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 1، صفحہ 70، المطبعۃ الکبری، مصر )
امامِ اہلسنت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو چیز ایسی ہو کہ سجدہ میں سر اس پر مستقر ہو جائے یعنی اس کا دبنا ایک حد پر ٹھہر جائے کہ پھر کسی قدر مبالغہ کریں، اس سے زائد نہ دبے ایسی چیز پر نماز جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 346، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بہار شریعت میں ہے: ”کسی نرم چیز مثلاً گھاس، روئی، قالین وغیرہا پر سجدہ کیا، تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے، تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ بعض جگہ جاڑوں میں مسجد میں پیال بچھاتے ہیں، ان لوگوں کو سجدہ کرنے میں اس کا لحاظ بہت ضروری ہے۔۔۔ کمانی دار گدّے پر سجدہ میں پیشانی خوب نہیں دبتی، لہٰذا نماز نہ ہوگی، ریل کے بعض درجوں میں بعض گاڑیوں میں اسی قسم کے گدّے ہوتے ہیں اس گدّے سے اتر کر نماز پڑھنی چاہیے۔“ (بھار شریعت، جلد 01، حصہ 03، صفحہ 514، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نماز کے فرائض میں سے کوئی فرض رہ جانے کی صورت میں نماز ادا نہ ہونے کے متعلق تحفۃ الفقہاء میں ہے: ”إن كان المتروك فرضا أو واجبا فعليه قضاؤه ما أمكن فإن لم يتذكر حتى خرج من الصلاة فإنه تفسد صلاته بترك الفرض“ یعنی نماز میں کوئی رکن رہ جائے اور وہ فرض یا واجب ہو، تو اس کی قضا ممکن ہونے کی صورت میں قضا کرنا واجب ہے اور اگر اسے یاد نہ آیا اور اس نے نماز مکمل کر دی، تو فرض چھوڑنے پر اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، صفحہ 213، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت )
ناک کی ہڈی نہ جمنے کی صورت میں نماز واجب الاعادہ ہونے کے متعلق فتاوی امجدیہ میں ہے: ”سجدہ میں پیشانی کا زمین پرجمنا فرض ہے اور ناک اس طرح جمانا کہ جو حصہ ناک کا نرم ہے، اس کے دبنے کے بعد ناک کی ہڈی زمین پر جم جائے، یہ واجب، اگر ناک کی نوک زمین سے چھو گئی اور ہڈی نہ لگی، نماز واجب الاعادہ ہوئی۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 84، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10010
تاریخ اجراء: 08 ذی الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء