فرض نماز کے بعد آیت الکرسی کب پڑھیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فرضوں کے فوراً بعد آیت الکرسی پڑھی جائے یا مکمل نماز کے بعد؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی جو فضیلت ہے، وہ کب حاصل ہوگی؟ فرض کا سلام پھیرنے کے فوراً بعد پڑھنے سے یہ فضیلت ملے گی یا مکمل نماز (یعنی سنتیں اور نوافل وغیرہ) ادا کرنے کے بعد پڑھنے سے؟ برائے کرم جواب ارشاد فرما دیں۔
سائل: ارشاد علی (کھرڑیانوالہ، فیصل آباد)
جواب
احادیث طیبہ میں نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کے متعلق وارد فضیلت دونوں صورتوں میں ہی حاصل ہوگی، یعنی خواہ فرضوں کے فوری بعد پڑھی جائے یا سنن و نوافل کے فوری بعد کسی اور عمل میں مشغول ہونے سے پہلے پڑھ لی جائے، بہر صورت نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت حاصل ہو جائے گی، تاہم افضل اور مستحب یہ ہےکہ فرضوں کے فوری بعد پڑھی جائے، نیز اس کے ساتھ طویل وظائف نہ پڑھے جائیں۔
مسئلہ کی تفصیل: یہاں دو اعتبار سے کلام ہے:
(1) افضل کیا ہے، آیت الکرسی فرائض کے بعد پڑھی جائے یا مکمل نماز ادا کرنےکے بعد؟ تو جواب یہ ہے کہ فرض رکعتوں کے فوری بعد پڑھنا افضل ہے، کیونکہ نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت کے متعلق احادیث طیبہ میں دو طرح کے الفاظ وارد ہیں، بعض میں یہ الفاظ دُبُرصلاۃ مکتوبۃ موجود ہیں، یعنی فرض نماز کے فوری بعد۔ بعض میں مطلقاً صلاۃ کا لفظ موجود ہے، یعنی نماز کے آخر میں۔اور شارحین حدیث اور فقہائے کرام نے دُبُر صلاۃ مکتوبۃ کی وضاحت عقیب کے ساتھ کی اور صراحت کی کہ اس سے مراد سنن و نوافل ادا کرنے سے پہلے پڑھنا ہے۔ اور جو حدیث مطلق بیان ہوئی ہے ،یعنی اس میں فرض نماز کا ذکر نہیں ہے، تو وہ اس مقید صلاۃ مکتوبۃ پر محمول ہے۔
(2) آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت مکمل نماز کے بعد پڑھنے والے کو کیونکر حاصل ہو گی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ سنن و نوافل، فرائض کے توابع اور لواحق میں سے ہیں، لہٰذا جو اَوْراد سنن و نوافل کے بعد پڑھے گا، تو گویا وہ فرض کے بعد ہی پڑھ رہا ہے، اس لیے کہ سنن ونوافل اجنبی عمل شمارنہیں ہوتے، یہی وجہ ہے کہ احادیث میں نماز کے بعد جن طویل اوراد کا پڑھنا مذکور ہوا، وہ سنن و نوافل کے بعد پڑھنے پر محمول ہیں، مگر ان پر اطلاق فرض کے بعد پڑھنے کا ہی ہو گا۔
اہم نوٹ: جن نمازوں میں فرض رکعتوں کے بعد سنن و نوافل ہیں، ان میں فرض اور سنتوں کے درمیان طویل یعنی لمبے وظائف نہیں پڑھنے چاہیے، ہاں مختصر وظائف پڑھنے میں حرج نہیں، اور آیت الکرسی طویل وظائف میں شمار نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ کہ فرض رکعات کے بعد ہی آیت الکرسی پڑھنا افضل و بہتر ہے، جبکہ اس کے ساتھ دیگر طویل وظائف نہ پڑھے جائیں، لیکن اگر کوئی نہ پڑھ سکا اور مکمل نماز کے بعد پڑھ لے، تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ بھی اس فضیلت کا حقدار ہوگا۔
نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت کے متعلق السنن الکبری للنسائی، المعجم الكبير، مسند الشاميين اور الدعاء للطبرانی، عمل الليوم و الليلۃ لابن السنی اور موجبات الجنۃ لابن فاخر میں ہے: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: من قرأ آية الكرسي دبر كل صلاة مكتوبة لم يمنعه من دخول الجنة،إلا الموت“ ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ جو ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے، تو اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت ہی مانع ہو گی۔ (السنن الکبریٰ للنسائی، جلد 9، صفحہ 44، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
اس حدیث پاک کے تحت التیسیر اور السراج المنیر شروحِ جامع صغیر میں ہے: (من قرأ آية الكرسي دبر) أي: عقب (كل صلاة مكتوبة لم يمنعه من دخول الجنة الا أن يموت) ترجمہ:جس نے ہر فرض نماز کے فوری بعد آیت الکرسی پڑھی، تو اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت ہی مانع ہو گی۔ (التيسير بشرح الجامع الصغير، جلد 2، صفحہ 436، مطبوعہ الریاض)
اور البدر التمام شرح بلوغ المرام میں علامہ حسین بن محمد المغربی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سال وفات: 1119ھ / 1707ء) اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والے احکام کے متعلق لکھتے ہیں: أن الذكر المذكور يلي الصلاة المكتوبة، ولا يؤخر إلى أن تصلى الراتبة؛ للتصريح في هذه الأذكار بأنها دبر الصلاة“ یعنی: حدیث مبارک میں بیان کردہ ذکر فرض نماز کے متصل کرنا مراد ہے اور اس کو سنن پڑھنے تک مؤخر نہیں کیا جائے گا، کیونکہ حدیث میں دبر الصلاۃ کہہ کر صراحت کر دی گئی ہے۔ (البدر التمام شرح بلوغ المرام ت الزبن، جلد 10، صفحہ 448، مطبوعہ دار هجر)
بعض روایات میں مطلق صلاۃ کا لفظ موجود ہے، وہ اسی مقید صلاۃ مکتوبۃ پر محمول ہے، جیسا کہ شارحین حدیث نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے، شعب الایمان اور مشکوۃ المصابیح کی حدیث پاک میں ہے: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنه يقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم على أعواد المنبر يقول: من قرأ آية الكرسی دبر كل صلاة لم يمنعه من دخوله الجنة الا الموت“ ترجمہ: حضرت مولی المسلمین علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْھَہٗ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: میں نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جو ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لے، تو موت کے علاوہ کوئی چیز اس کے جنت میں داخلے سے مانع نہیں ہوگی۔ (شعب الايمان، جلد 4، صفحہ 57، مطبوعہ ریاض)
مذکورہ بالا حدیث مبارک کو ذکر کرتے ہوئے علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں: (يقول:من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة) أي: مكتوبة كما في رواية الحصن۔ مفہوم واضح ہے۔ (مرقاة المفاتيح، جلد 2، صفحہ 772، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اسی وجہ سے فرض کے بعد اس کا پڑھنا مستحب قرار دیا گیا، چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں: لا بأس للامام عقب الصلاة بقراءة آية الكرسي“ ترجمہ: نماز کے بعد امام کے لئے آیت الکرسی پڑھنے میں حرج نہیں۔
در مختار کی عبارت (لا بأس للامام) کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: أي: و المقتدين… أن قراءة آية الكرسي… مستحبة“ ترجمہ: امام اور مقتدی دونوں کے لیے (فرض نماز کے بعد) آیت الکرسی پڑھنا مستحب ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 6، صفحہ 423، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
امام و مقتدی دونوں کے ذکر سے واضح ہوا کہ احادیث میں بیان کردہ فضیلت سے مراد جماعت کے فوری بعد پڑھنا ہے، جیسا کہ اس کی صراحت کرتے ہوئے علامہ خُسْرو رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 885ھ / 1480ء) لکھتے ہیں: و المستحب للامام أن يستقبل الناس بوجهه و يستغفر اللہ ثلاثا وأن يقرأ آية الكرسي، و كذلك يقرأ المصلي“ ترجمہ: اور امام کے لیے مستحب ہے کہ (جماعت سے سلام پھیرنے کے بعد ) لوگوں کی طرف منہ کر لے اور تین بار استغفار پڑھے اور آیت الکرسی پڑھے اور اسی طرح نمازی (مقتدی ) بھی پڑھے۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام، جلد 1، صفحہ 80، مطبوعہ دار احیاء الکتب العربیہ)
دوسری بات کے متعلق جزئیات:
مکمل نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے سے بھی اس کی فضیلت حاصل ہو جائے گی کہ سنن و نوافل، فرائض کے توابع ہیں،لہٰذا ان کے بعد پڑھنا گویا ایسا ہی ہے، جیسے فرضوں کے بعد پڑھنا، یہی وجہ ہے کہ طویل وظائف کو سنن و نوافل کے بعد پڑھنے پر محمول کیا گیا اورسنن کے بعد پڑھنے سے بھی بعد الفرض ہی پڑھنا مانا گیا، چنانچہ مراقی الفلاح شرح نور الايضاح اور رد المحتار میں ہے: و أما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الاتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الاتيان بها بعدها، لأن السنة من لواحق الفريضة و توابعها و مكملاتها فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة“ ترجمہ: بہر حال وہ (طویل) اذکارجن کا احادیث میں نماز کے فوری بعد پڑھنا وارد ہوا، ان میں اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ ان کو سنن سے پہلے پڑھا جائے، بلکہ وہ سنتوں کے بعد پڑھنے پر محمول ہیں، کیونکہ سنن، فرض کی توابع، لواحق اور ان کو مکمل کرنے والی ہیں، لہٰذا پہلے سنتیں پڑھنا اوراد کے لیے اجنبی عمل شمار نہیں ہو گا اور جو کچھ (اوراد میں سے) سنن کے بعد پڑھاجائے گا، اس پر فرض کے بعد پڑھنے کا اطلاق ہی ہو گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 300، مطبوعہ کوئٹہ)
جن نمازوں میں فرض کے بعد سنن و نوافل ہوں، ان میں فرائض و سنن کے درمیان طویل وظائف پڑھنے سے بچنا چاہیے، چنانچہ امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا کہ جس فرض کے بعد سنت ہے، اس فرض کے بعد مناجات کرنا درست ہے یا نہیں؟ تو اس کے جواب میں آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: جائز و درست تو مطلقاً ہے، مگر فصلِ طویل مکروہ تنزیہی و خلافِ اولیٰ ہے اور فصلِ قلیل میں اصلاً حرج نہیں۔ دُر مختار فصل صفۃ الصلوٰۃ میں ہے: یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ و قال الحلوانی لاباس بالفصل بالاوراد و اختارہ الکمال قال الحلبی ان ارید بالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت و فی حفظی حملہ علی القلیلۃ“ سنّتوں کا مؤخر کرنا مکروہ ہے، مگر اللھم انت اسلام الخ کی مقدار، حلوانی نے کہا اَوْرَادْ اور دعاؤں کی وجہ سے فصل (وقفہ) میں کوئی حرج نہیں، علامہ کمال نے اسے مختار قرار دیا ہے، حلبی نے کہا کہ اگر کراہت سے مراد تنزیہی ہو، تو اختلاف ہی ختم ہوجاتا ہے، میں کہتا ہوں مجھے یاد آتا ہے کہ حلوانی نے اسے اَوْرَادِ قلیلہ پر محمول کیا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6،صفحہ 234 ۔ 235، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-9966
تاریخ اجراء: 12 ذوا لقعدۃ الحرام 1447ھ / 30 اپریل 2026ء