logo logo
AI Search

فجر کے وقت تہجد کے نفل پڑھے تو فجر کی سنتوں کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فجر کے وقت میں تہجد کے نفل پڑھے تو وہ سنتوں کے قائم مقام ہوجائیں گے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ فجر کا وقت شروع ہو چکا تھا اور پتہ نہیں چلا اس لیے تہجد کے نفل پڑھ لیے، کیا وہی فجر کی سنتیں بن جاتے ہیں یا سنتیں الگ نیت سے دوبارہ پڑھنی ہوں گی؟

جواب

اگر فجر کا وقت شروع ہو جانے کے باوجود لاعلمی میں رات باقی ہونے کے گمان سے تہجد کے نفل پڑھ لیے تو وہی سنتِ فجر کی جگہ کافی ہوں گے؛ اس لیے کہ سنتوں میں تعیینِ نیت شرط نہیں، بلکہ یہ نفل یا مطلق نماز کی نیت سے بھی ادا ہو جاتی ہیں۔ پس ایسی صورت میں فجر کی سنتیں دوبارہ نہیں پڑھی جائیں گی؛ کیونکہ جو نفل ادا ہوئے ان سے فجر کی سنتیں ادا ہو گئیں، اب اگر دوبارہ پڑھیں گے تو وہ اضافی نفل شمار ہوں گے، جبکہ وقت فجر میں سنتِ فجر کے علاوہ قصدا نفل پڑھنا مکروہ تحریمی و گناہ ہے۔

علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں: ”وكره نفل قصدا...بعد طلوع فجر سوى سنته لشغل الوقت به تقديرا حتى لو نوى تطوعا كان سنة الفجر بلا تعيين“ ترجمہ: اور طلوعِ فجر کے بعد فجر کی سنتوں کے علاوہ قصداً نفل پڑھنا مکروہ ہے، وقت کے تقدیری طور پر فجر کے ساتھ مشغول ہونے کی وجہ سے، یہاں تک کہ اگر کسی نے نفل کی نیت کی تو وہ نماز بغیر تعیین کے (بھی) سنتِ فجر شمار ہوگی۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب الصلاة، صفحہ 54،  دار الکتب العلمیة، بیروت)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) اس کے تحت لکھتے ہیں: ”لأن الصحيح المعتمد عدم اشتراطه في السنن الرواتب وأنها تصح بنية النفل وبمطلق النية فلو تهجد بركعتين يظن بقاء الليل فتبين أنهما بعد الفجر كانتا عن السنة على الصحيح فلا يصليها بعده للكراهة“ ترجمہ: اس لیے کہ صحیح و معتمد قول یہ ہے کہ سننِ رواتب میں تعیین شرط نہیں ہے اور یہ کہ وہ نفل کی نیت سے بھی صحیح ہو جاتی ہیں اور مطلق نیت سے بھی۔ پس اگر کسی نے رات کا باقی ہونا گمان کرتے ہوئے دو رکعت تہجد ادا کی، پھر ظاہر ہوا کہ وہ دونوں رکعتیں فجر (طلوع ہونے) کے بعد ادا ہوئیں تو صحیح قول کے مطابق وہ سنتِ فجر کی جگہ ہوں گی، لہذا اس کے بعد مکروہ ہونے کی وجہ سے وہ (دوبارہ) انہیں نہیں پڑھے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاة، جلد 1، صفحہ 376،  دار الفکر، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”اصح یہ ہے کہ نفل و سنت و تراویح میں مطلق نماز کی نیت کافی ہے، مگر احتیاط یہ ہے کہ تراویح میں تراویح یا سنت وقت یا قیام اللیل کی نیت کرے اور باقی سنتوں میں سنت یا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی متابعت (پيروی) کی نیت کرے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 493، مکتبة المدینہ، کراچی)

علامہ برہان الدین ابراہیم بن محمد حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 956ھ/1549ء) لکھتے ہیں: ”ما بعد طلوع الفجر إلى أن ترتفع الشمس فإنه يكره في هذا الوقت النوافل كلها إلا سنة الفجر لما روى مسلم عن حفصة رضي اللہ عنها قالت: كان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم إذا طلع الفجر لا يصلي إلا ركعتين خفيفتين. وفي أبي داؤد والترمذي واللفظ له عن ابن عمر رضى اللہ عنه، عنه عليه السلام لا صلاة بعد الفجر إلا سجدتين“ ترجمہ: طلوعِ فجر کے بعد سے لے کر سورج بلند ہونے تک، پس اس وقت میں تمام نوافل مکروہ ہیں، سوائے سنتِ فجر کے؛ اس حدیث پاک کی وجہ سے جو کہ امام مسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، آپ فرماتی ہیں کہ جب فجر طلوع ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو خفیف رکعتوں کے سوا کوئی نماز ادا نہ فرماتے تھے۔ اور سنن ابو داؤد اور جامع ترمذی میں ہے، اور یہ الفاظ ترمذی کے ہیں: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فجر (طلوع ہونے) کے بعد دو سجدوں (یعنی دو رکعت سنتِ فجر) کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔ (غنية المتملی شرح منية المصلي، فصل في الاوقات التي تكره فيها الصلاة، جلد 1، صفحہ 436، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کہ اس درمیان میں سوا دو رکعت سنت فجر کے کوئی نفل نماز جائز نہیں۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 455،  مکتبة المدینہ، کراچی)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”صبح صادق کے طلوع اور فجر کے فرض کے مابین سنت فجر کے علاوہ نفل نماز مکروہ ہے اور یہ مکروہ مکروہِ تحریمی ہے۔“ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 171، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یوپی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1259
تاریخ اجراء: 23 محرم الحرام 1448ھ/8 جولائی 2026ء