logo logo
AI Search

فجر کا وقت ختم ہونے والا ہو تو سنت پڑھیں گے یا فرض؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فجر کے آخری وقت میں آنکھ کھلی، تو صرف فرض پڑھے یا سنتیں بھی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی کی نمازِ فجر کے آخری وقت میں آنکھ کھلی، تو وہ صرف فرض ادا کرے یا سنتیں بھی؟

جواب

اگر کسی کی آنکھ نمازِ فجر کے آخری وقت میں کھلی تو اب فجر کے فرض پڑھے یا سنتیں، اس حوالے سے حکم یہ ہے کہ اگر اسے یقین ہے کہ جلدی سنتیں پڑھ کر وقت کے اندر فرض بھی مکمل کرلے گا اور فرض کا دوسرا سلام بھی وقت کے اندر پھیر لے گا تو پہلے سنتِ فجر پڑھے، پھر فرض پڑھے اور اگر اندیشہ ہو کہ وقت کے اندر فرض مکمل نہیں کرسکے گا تو سنتِ فجر چھوڑ کر فرض پڑھے اور پھر ان سنتوں کو سورج نکلنے کے بیس منٹ بعد ادا کر سکتے ہیں۔

فجر کی سنتِ قبلیہ رہ جائیں تو ان کی ادائیگی کے حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے: سنتِ فجر کہ تنہا فوت ہوئیں یعنی فرض پڑھ لئے، سنتیں رہ گئیں، ان کی قضا کرے تو بعد بلندئ آفتاب پیش از نصف النہار الشرعی کرے۔ طلوعِ شمس سے پہلے ان کی قضا ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک ممنوع و ناجائز ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 5، صفحہ 366، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر:Web-2495
تاریخ اجراء: 09 ربیع الآخر 1447ھ / 03 اکتوبر 2025ء