logo logo
AI Search

وتر میں دعائے قنوت آدھی پڑھنے کے بعد بھول جانا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دعائے قنوت آدھی پڑھنے کے بعد بھول گئے تو کیا کریں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

دعائے قنوت آدھی پڑھنے کے بعد بھول گئے، تو کیا رکوع کر سکتے ہیں یا کوئی اور دعا پڑھ لیں؟

جواب

اگر دعائے قنوت کا کچھ حصہ پڑھ کر بھول گئے اور آگے یاد نہیں آ رہی، تو ایسی صورت میں رکوع کر لینے کی صورت میں دعائے قنوت کا واجب ادا ہوجائے گا،نماز بھی ہوجائے گی اور سجدۂ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔

مشہور دعائے قنوت میں سے کچھ دعا بھی پڑھ لی، تو واجب ساقط ہوجائے گا۔ رد المحتار میں ہے: ”ان المراد بالقنوت هنا الدعاء الصادق على القليل والكثير“ یعنی یہاں قنوت سے مراد وہ دعا ہے ،جو قلیل و کثیر پر صادق آئے۔ (رد المحتار، جلد 2،صفحہ 540، مطبوعہ کوئٹہ)

علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں:”ان کان قرا بعضہ حصل المقصود بہ لان بعض القنوت قنوت“ یعنی اگر نمازی نے کچھ دعائے قنوت پڑھ لی ،تو مقصود (یعنی واجب) حاصل ہوجائے گا،کیونکہ بعض قنوت بھی قنوت ہے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 541، مطبوعہ:کوئٹہ)

علامہ ابراہیم بن مصطفیٰ حلبی رحمۃ اللہ علیہ تحفۃ الاخیار میں اور شیخ علامہ احمد بن محمد طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ حاشیہ طحطاوی میں فرماتے ہیں (واللفظ لطحطاوی): ”ان القنوت لیس بمؤقت ولا مقدر یعنی فحیث قرأ بعض دعاء القنوت اتی بالواجب“ یعنی قنوت کی کوئی خاص دعا معین نہیں اور نہ اس کی کوئی مقدار، یعنی جب کچھ دعائے قنوت بھی پڑھ لی ،تو واجب کو ادا کرنے والا کہلائے گا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر ، جلد 2،صفحہ 400، مطبوعہ بیروت)

رد المحتار میں ہے:”وما أتى به منه كاف فی سقوط الواجب وتكميله مندوب یعنی دعائے قنوت کا کچھ حصہ بھی ادا کر لیا، تو سقوطِ واجب میں کافی ہوگا اور دعائے قنوت کی تکمیل مستحب ہے۔ (رد المحتار، جلد 2،صفحہ 540،مطبوعہ:کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2416
تاریخ اجراء: 12 صفر المظفر 1447ھ/07 اگست 2025ء